یورپی کاربن ٹیکس پاکستان کی برآمدات کے لیے بڑا خطرہ، اصلاحات نہ ہوئیں تو 2027 میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی

یورپی کاربن ٹیکس پاکستان کی برآمدات کے لیے بڑا خطرہ، اصلاحات نہ ہوئیں تو 2027 میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی

پاکستان کو یورپی منڈی میں اپنی برآمدات کے حوالے سے ایک نئے اور سنگین چیلنج کا سامنا ہے یورپی یونین نے درآمد ہونے والی بعض مصنوعات میں شامل کاربن کے اخراج کی بنیاد پر نئی تجارتی پابندیاں اور مالی تقاضے نافذ کر دیے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں پاکستان کی برآمدی صنعت خصوصاً ٹیکسٹائل کے شعبے پر نمایاں ہو سکتے ہیں
جنوری 2026 سے یورپی یونین میں اسٹیل، سیمنٹ، المونیم، کھاد اور بجلی جیسی مصنوعات درآمد کرنے والوں کو ان مصنوعات میں شامل کاربن کے اخراج کے حساب سے سرٹیفکیٹ خریدنا پڑ رہا ہے اس وقت ان شعبوں سے پاکستان کی براہ راست متاثر ہونے والی برآمدات مجموعی برآمدات کا تقریباً 1.2 فیصد ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق اصل خطرہ اس دائرہ کار کے مزید وسیع ہونے میں ہے
پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات مالی سال 2025 میں 8.86 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، جو اس سے پچھلے مالی سال میں 8.24 ارب ڈالر تھیں ان برآمدات میں ٹیکسٹائل کا حصہ سب سے زیادہ ہے اور فیصل آباد، لاہور اور کراچی میں قائم بڑی ٹیکسٹائل صنعتیں آنے والے برسوں میں اس نئے نظام سے براہ راست متاثر ہو سکتی ہیں
یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ نظام اس اصول پر کام کرتا ہے کہ زیادہ کاربن خارج کرنے والی مصنوعات پر اضافی لاگت عائد کی جائے اگر کسی برآمد کرنے والے ملک میں پہلے ہی قابل اعتبار اور مصنوعات سے منسلک کاربن قیمت ادا کی جا چکی ہو تو اس رقم کو یورپی سرحد پر عائد ہونے والی رقم میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے
پاکستان میں پہلے ہی ایندھن اور دیگر شعبوں پر کاربن سے متعلق محصولات وصول کیے جا رہے ہیں، لیکن موجودہ نظام میں ان محصولات کو کسی مخصوص صنعت یا مصنوعات کے کاربن اخراج کے ساتھ قابل تصدیق انداز میں منسلک نہیں کیا گیا اس وجہ سے پاکستان کو یورپی نظام کے تحت ان ادائیگیوں کا مناسب فائدہ ملنے کا امکان کم ہے
اس صورتحال میں پاکستانی صنعت کو ایک ہی اخراج پر دو مرتبہ مالی بوجھ اٹھانا پڑ سکتا ہے ایک طرف ملک کے اندر ایندھن اور نقل و حمل سے متعلق محصولات ادا کیے جائیں گے جبکہ دوسری جانب یورپی سرحد پر کاربن اخراج کے حساب سے اضافی رقم بھی دینی پڑ سکتی ہے
ماہرین کے مطابق پاکستان کو فوری طور پر ایسا نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ہر مصنوعات کے کاربن اخراج کی درست پیمائش، نگرانی، رپورٹنگ اور آزادانہ تصدیق ممکن ہو اس کے بغیر پاکستانی برآمد کنندگان یہ ثابت نہیں کر سکیں گے کہ ان کی مصنوعات میں کاربن کا اخراج کتنا ہے اور ملک میں پہلے سے کتنی کاربن قیمت ادا کی جا چکی ہے
پاکستان میں ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی معلومات کے افشا سے متعلق رہنما اصول اور سبز مالیات کے لیے درجہ بندی کا نظام تیار کیا جا رہا ہے، لیکن ان اقدامات کو عملی سطح پر وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صنعتی اداروں کے کاربن اخراج کا قابل اعتماد ریکارڈ تیار ہو سکے
ملک میں کاربن کی باقاعدہ تجارت کے نظام کے قیام کی تجویز بھی کئی برس پہلے سامنے آ چکی تھی۔ 2018 میں ایک مطالعے میں بجلی اور صنعتی شعبے کے بڑے کاربن خارج کرنے والے اداروں کے لیے اخراج کی تجارت کا نظام قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی، لیکن یہ نظام عملی طور پر قائم نہ ہو سکا۔ بعد میں 2024 میں کاربن مارکیٹ سے متعلق پالیسی سامنے آئی، مگر اس کا بنیادی مقصد ملک کے اندر کاربن کی قیمت مقرر کرنے کے بجائے عالمی منڈی میں کاربن کریڈٹ فروخت کرنے کا ڈھانچہ فراہم کرنا تھا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف ایک وزارت کی کوشش کافی نہیں ہوگی تجارت، موسمیاتی تبدیلی، صنعت، خزانہ اور توانائی سے متعلق اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ پاکستانی مصنوعات کی یورپی منڈی تک رسائی برقرار رہے اور صنعت کو کاربن اخراج کم کرنے کے لیے مالی اور تکنیکی سہولت فراہم کی جا سکے
تجویز کیا گیا ہے کہ کاربن اور موسمیاتی محصولات کا ایک مقررہ حصہ قانون کے ذریعے مخصوص ماحولیاتی فنڈ میں منتقل کیا جائے تاکہ صنعتوں کو کاربن اخراج کم کرنے کے لیے سرمایہ کاری میں مدد دی جا سکے اس کے ساتھ مصنوعات کی سطح پر کاربن اخراج کی پیمائش اور تصدیق کا نظام دوبارہ فعال کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے
پاکستان کے لیے وقت تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ستمبر 2027 تک اگر ملک اپنی مصنوعات کے کاربن اخراج سے متعلق قابل اعتماد اعداد و شمار فراہم کرنے میں ناکام رہا تو یورپی یونین کی جانب سے مقرر کردہ عمومی اقدار کی بنیاد پر اضافی مالی بوجھ عائد ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں پاکستان کی برآمدی صنعت خصوصاً ٹیکسٹائل کے شعبے کو عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید