وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی میں اسلام مخالف بیانیے کے دوبارہ ابھرنے کا خدشہ

وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی میں اسلام مخالف بیانیے کے دوبارہ ابھرنے کا خدشہ

واشنگٹن :نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں اب 10 ہفتے سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے، جن کے ذریعے یہ طے ہوگا کہ امریکی کانگریس پر کس سیاسی جماعت کا کنٹرول برقرار رہتا ہے،یو ایس اے ٹوڈے کے ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان میں اپنی اکثریت کھونے کے پہلے سے موجود خدشے کے ساتھ اب سینیٹ میں بھی نقصان کا خطرہ درپیش ہے
مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایسے سیاسی ماحول میں ریپبلکن پارٹی کے اندر انتخابی مہم کے لیے ایک ایسے گروہ کو ہدف بنانے کی حکمت عملی دوبارہ سامنے آسکتی ہے جسے ووٹروں کے سامنے ایک مبینہ خطرے کے طور پر پیش کیا جائے،مضمون کے مطابق اس مرتبہ اسلام مخالف بیان بازی اس مقصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے
مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکی سیاست میں انتخابی مہم کے دوران بعض گروہوں کو سیاسی مخالفین کے طور پر پیش کرنے کی روایت پرانی ہے،اخبار کے مطابق کووڈ وبا کے دوران چینی امریکیوں اور 2024 کے انتخابات کے دوران ایل جی بی ٹی کیو امریکیوں کو ریپبلکن سیاست میں ایسے موضوعات کے طور پر پیش کیا گیا جنہیں ایک بڑے امریکی خطرے کے تناظر میں بیان کیا گیا
مصنف کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ریپبلکن پارٹی کے پاس معیشت کی بہتری جیسے معاملات پر واضح سیاسی پروگرام پیش کرنے کے بجائے انتخابی سیاست میں خوف کے جذبات کو استعمال کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے،مضمون کے مطابق اب اسلاموفوبیا کو اسی نوعیت کے انتخابی ہتھیار کے طور پر دوبارہ سامنے لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے
مضمون میں خاص طور پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدوار اپنی انتخابی مہم میں مسلمانوں اور اسلام سے متعلق مسائل کو کس حد تک نمایاں کریں گے اور کیا انہیں امریکی معاشرے کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا جائے گا
مصنف کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ سیاسی حکمت عملی صرف مسلمانوں کو متاثر نہیں کرے گی بلکہ امریکی سیاست میں مذہب، امیگریشن، قومی سلامتی اور شہری حقوق سے متعلق بحث کو بھی مزید متنازعہ بنا سکتی ہے
امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے انتخابات اس سال نومبر میں ہوں گے،ان انتخابات کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ دو برس کی حکومت کے لیے بھی اہم ہوں گے کیونکہ کانگریس میں جماعتی اکثریت قانون سازی، بجٹ اور انتظامیہ کی نگرانی پر براہ راست اثر ڈالتی ہے
مضمون کا مرکزی استدلال یہ ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں شدید سیاسی مقابلے کا سامنا رہا تو اسلام مخالف بیانیہ ایک مرتبہ پھر انتخابی سیاست میں نمایاں ہوسکتا ہے،تاہم یہ بات مضمون کے مصنف کا تجزیہ اور پیش گوئی ہے، کسی حتمی انتخابی نتیجے یا ریپبلکن پارٹی کی باضابطہ پالیسی کا اعلان نہیں

قومی خبریں سے مزید