کیلیفورنیا کے ایک بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹر پر قانونی جنگ، کاؤنٹی کی ہنگامی پابندی عدالت میں چیلنج
کیلیفورنیا کی امپیریل کاؤنٹی میں مجوزہ بڑے ڈیٹا سینٹر کے خلاف مقامی حکام اور منصوبے کے ڈویلپر کے درمیان ایک اہم قانونی جنگ چھڑ گئی ہے،معاملہ صرف ایک منصوبے کی منظوری یا منسوخی تک محدود نہیں بلکہ یہ سوال بھی عدالت کے سامنے ہے کہ کیا کوئی کاؤنٹی ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایسے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر روک سکتی ہے جس کی منظوری کا عمل پہلے ہی آگے بڑھ چکا ہو
اس تنازع کا مرکز ہنٹنگٹن بیچ، اورنج کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والے ڈویلپر سیباسچیئن روچی کا منصوبہ ہے،روچی امپیریل کاؤنٹی میں تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کا ایک بڑا اے آئی ڈیٹا سینٹر تعمیر کرنا چاہتے ہیں،مجوزہ مرکز تقریباً 330 میگاواٹ بجلی استعمال کرے گا اور اس کا رقبہ تقریباً 10 لاکھ مربع فٹ ہوگا،رقبے کے لحاظ سے یہ لیوائی اسٹیڈیم کے تقریباً نصف کے برابر ہوگا اور بجلی کی طلب کے اعتبار سے کیلیفورنیا کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹرز میں شامل ہوسکتا ہے
روچی کے مطابق جب انہوں نے ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل منصوبے پر کام شروع کیا تو امپیریل کاؤنٹی کے حکام اس منصوبے کے لیے نسبتاً سازگار تھے اور درخواست کی منظوری کا عمل آگے بڑھ رہا تھا،تاہم مقامی آبادی میں مخالفت بڑھنے کے بعد کاؤنٹی کا رویہ تبدیل ہوگیا
مقامی شہریوں نے خدشات ظاہر کیے کہ اتنے بڑے ڈیٹا سینٹر سے علاقے کے بجلی، پانی اور دیگر بنیادی وسائل پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے،بعض مخالفین نے آلودگی، شور اور رہائشی علاقوں اور اسکولوں کے قریب اتنے بڑے صنعتی منصوبے کے ممکنہ اثرات پر بھی سوال اٹھائے
اس دباؤ کے بعد امپیریل کاؤنٹی بورڈ آف سپروائزرز نے جون میں غیر منظم کاؤنٹی اراضی پر نئے ڈیٹا سینٹرز کی منظوری روکنے کے لیے 45 روزہ پابندی عائد کردی،یہ پابندی ایک ہنگامی اقدام کے ذریعے نافذ کی گئی، جس کے تحت کاؤنٹی معمول کے طویل قانون سازی کے عمل کو نظرانداز کرکے فوری طور پر نئے منصوبوں کی منظوری روک سکتی ہے،بعد میں اس پابندی میں جون 2027 تک توسیع کردی گئی
روچی نے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کاؤنٹی کے پاس ایسی ہنگامی پابندی عائد کرنے کے لیے قانونی طور پر کافی بنیاد موجود نہیں تھی،ان کے مطابق محض عوامی خدشات کو ’’موجودہ اور فوری خطرہ‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا
کیلیفورنیا کے قانون کے تحت مقامی حکومتیں ہنگامی بنیادوں پر عارضی پابندی اس وقت عائد کرسکتی ہیں جب قانون ساز ادارہ یہ نتیجہ اخذ کرے کہ کسی منصوبے سے عوامی صحت، سلامتی یا فلاح و بہبود کو موجودہ اور فوری خطرہ لاحق ہے
کاؤنٹی کا مؤقف ہے کہ اسے یہ یقین ہونا ضروری نہیں کہ ڈیٹا سینٹر سے نقصان لازماً ہوگا،اس کے مطابق عارضی پابندی کا مقصد ہی یہ ہے کہ حکومت کو وقت مل سکے تاکہ وہ ڈیٹا سینٹرز کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے، زوننگ قوانین کا مطالعہ کرے اور مستقبل کے لیے واضح قواعد وضع کرسکے
لیکن عدالت میں سماعت کے دوران جج نے کاؤنٹی کے مؤقف پر ابتدائی طور پر سوال اٹھایا،انہوں نے پوچھا کہ اگر صرف یہ حقیقت ہو کہ بہت سے لوگ کسی منصوبے کو نہیں چاہتے تو کیا اسے قانونی طور پر عوامی صحت، سلامتی یا فلاح کے لیے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے
قانونی ماہرین کے مطابق عام طور پر عدالتیں مقامی حکومتوں کے قانون ساز فیصلوں کو خاصا احترام دیتی ہیں، لیکن ہنگامی اقدامات کے لیے قانونی معیار زیادہ سخت ہوسکتا ہے کیونکہ مقامی حکومت کو یہ بھی بتانا ہوتا ہے کہ معمول کے قانون سازی کے طریقہ کار کو چھوڑ کر فوری کارروائی کیوں ضروری تھی
روچی کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں اے آئی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باوجود ایسے مقامات بہت کم ہیں جہاں ایک بڑے ڈیٹا سینٹر کے لیے مناسب زمین اور مطلوبہ بجلی دستیاب ہو،ان کے مطابق امپیریل کاؤنٹی ان چند علاقوں میں شامل ہے جہاں یہ منصوبہ عملی طور پر ممکن ہے
روچی کے منصوبے کو معاشی فوائد کے دعووں کی وجہ سے بھی حمایت حاصل رہی ہے،منصوبے کے حامیوں کے مطابق تعمیر کے دوران بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں اور مکمل ہونے کے بعد کاؤنٹی کو سالانہ کروڑوں ڈالر کی ٹیکس آمدنی حاصل ہوسکتی ہے
دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ اقتصادی فوائد کے باوجود ایسے بڑے ڈیٹا سینٹر کے ماحولیاتی اور بنیادی وسائل پر اثرات کا مکمل جائزہ ضروری ہے،اس تنازع میں پانی بھی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، کیونکہ ڈیٹا سینٹر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی درکار ہوسکتا ہے
امپیریل کاؤنٹی کا یہ مقدمہ کیلیفورنیا میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف بڑھتی ہوئی مقامی مزاحمت کا حصہ ہے،ریاست کی کم از کم ایک درجن مقامی حکومتیں نئے ڈیٹا سینٹر منصوبوں پر عارضی پابندیاں عائد کرچکی ہی،اے آئی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیاں بڑے کمپیوٹنگ مراکز قائم کرنا چاہتی ہیں، جبکہ مقامی آبادی اور بعض حکام پانی، بجلی، آلودگی اور رہائشی علاقوں پر اثرات کے بارے میں محتاط ہیں
یہ مقدمہ اگرچہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے، لیکن قانونی ماہرین کے مطابق اس کا فیصلہ لازماً پورے کیلیفورنیا کے لیے ایک وسیع نظیر قائم نہیں کرے گا،اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف کاؤنٹیوں اور شہروں میں ڈیٹا سینٹرز پر پابندیاں مختلف طریقوں سے عائد کی گئی ہیں،بعض پابندیاں ووٹروں نے منظور کی ہیں جبکہ بعض معمول کے قانون سازی کے عمل کے ذریعے نافذ کی گئی ہیں
تاہم امپیریل کاؤنٹی کا مقدمہ یہ ضرور طے کرسکتا ہے کہ مقامی حکومت کو کسی بڑے ڈیٹا سینٹر کی منظوری روکنے کے لیے ہنگامی اقدام استعمال کرتے وقت کس حد تک ٹھوس شواہد اور وجوہات پیش کرنا ہوں گی
یوں یہ قانونی جنگ کیلیفورنیا میں اے آئی کے مستقبل کے ایک بڑے سوال کی علامت بن گئی ہے،کیا مقامی حکومتیں اربوں ڈالر کی اے آئی سرمایہ کاری کو اس وقت روک سکتی ہیں جب انہیں خدشہ ہو کہ اس کے ماحولیاتی اور بنیادی وسائل پر اثرات پوری طرح معلوم نہیں، یا معاشی ترقی کے نام پر ایسے منصوبوں کو آگے بڑھنے کا حق ملنا چاہیے





