چروکی بچوں کی استاد ، پہاڑوں کی بیٹی ڈولی پارٹن جسکی علمی بھوک نے دنیا بھر میں جھولی بھر بھر علم بانٹا

چروکی بچوں کی استاد ، پہاڑوں کی بیٹی ڈولی پارٹن جسکی علمی بھوک نے دنیا بھر میں جھولی بھر بھر علم بانٹا

تحقیق و تحریر آفاق فاروقی
گریٹ اسموکی ماؤنٹنز میں صبح کسی شہر کی صبح جیسی نہیں ہوتی
یہاں سورج اچانک نہیں نکلتا، پہلے پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہلکی سی سفیدی اترتی ہے، پھر درختوں کے درمیان دھند حرکت کرتی ہے، پھر دور کہیں کسی پرندے کی آواز سنائی دیتی ہے اور آہستہ آہستہ روشنی ان وادیوں میں داخل ہوتی ہے جہاں صدیوں سے انسان اپنی کہانیاں سناتے آئے ہیں
یہ وہ پہاڑ ہیں جہاں درخت صرف درخت نہیں، تاریخ کے گواہ ہیں
یہ وہ وادیاں ہیں جہاں دریاؤں کے کنارے کبھی چیروکی لوگوں کی بستیاں آباد تھیں، جہاں شکار، کھیتی باڑی، تجارت اور اجتماعی زندگی نے ایک تہذیب کو جنم دیا، اور جہاں ایک ایسا معاشرہ موجود تھا جس کے اپنے گاؤں، اپنی زبان، اپنے رسم و رواج، اپنے سردار، اپنے روحانی تصورات اور اپنے فیصلے کرنے کے طریقے تھے
چیروکی لوگ جنوب مشرقی امریکہ کے ایک وسیع علاقے میں آباد تھے،آج جسے ہم ٹینیسی، نارتھ کیرولائنا، جارجیا، ساؤتھ کیرولائنا، الاباما، کینٹکی اور ورجینیا کے کچھ حصوں کے نام سے جانتے ہیں، اس وسیع خطے میں ان کے آبائی علاقے پھیلے ہوئے تھے
ان کی زندگی دریاؤں اور پہاڑوں سے جڑی ہوئی تھی
ان کے گاؤں اکثر زرخیز وادیوں میں آباد ہوتے تھے،لکڑی، مٹی اور قدرتی وسائل سے گھر بنتے تھے،کھیتی باڑی ہوتی تھی،شکار ہوتا تھا،تجارت ہوتی تھی،ہر گاؤں اپنی جگہ ایک مکمل دنیا تھا
لیکن پھر ایک دن باہر کی دنیا ان پہاڑوں تک پہنچ گئی
یورپی آبادکار آئے
زمین کی قیمت بدل گئی
قدرتی وسائل کی قیمت بدل گئی
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ طاقت کا توازن بدل گیا
چیروکی لوگوں کو اپنی زمین پر رہتے ہوئے بھی اپنی زمین سے محروم ہونے کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا
انیسویں صدی میں یہ المیہ اپنے انتہائی دردناک مرحلے تک پہنچا،امریکی حکومت اور ریاستی طاقتوں کی پالیسیوں نے چیروکی لوگوں کو ان کے آبائی علاقوں سے نکالنے کا راستہ اختیار کیا،آخرکار ہزاروں چیروکی لوگوں کو زبردستی اپنے گھروں سے نکال کر مغرب کی طرف بھیجا گیا
یہ سفر تاریخ میں آنسوؤں کے راستے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے
بہت سے لوگ راستے میں مر گئے
کئی خاندان بچھڑ گئے
بہت سے بچے اپنے والدین سے محروم ہوئے
اور ایک پوری قوم کو اپنی زمین، اپنے گھر اور اپنے ماضی سے دور جانے پر مجبور کیا گیا
لیکن تاریخ میں بعض قومیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں شکست دی جا سکتی ہے، مٹایا نہیں جا سکتا
چیروکی انہی قوموں میں سے ایک ہے
جو لوگ اپنے آبائی وطن سے نکال دیے گئے تھے، ان میں سے کچھ دوبارہ اسی خطے میں واپس آئے،مشرقی چیروکی لوگوں نے مغربی ، شمالی کیرولائنا میں اپنے لیے ایک نیا قانونی اور اجتماعی وطن قائم کیا، جسے آج کوالا باؤنڈری کہا جاتا ہے
یہ علاقہ گریٹ اسموکی ماؤنٹینز کے جنوبی دامن میں واقع ہے
یہ کوئی عام ریزرویشن نہیں
یہ ایک زندہ تاریخ ہے
یہ اس بات کی گواہی ہے کہ ایک قوم جسے اپنی زمین سے نکال دیا گیا تھا، وہ اپنی شناخت کے ساتھ دوبارہ کھڑی ہو سکتی ہے
آج یہاں چیروکی قوم کی زبان، ثقافت، فنون، روایات اور تاریخ زندہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے،میوزیم، ثقافتی مراکز، اسکول، زبان کے پروگرام اور مقامی ادارے اس کوشش کا حصہ ہیں
لیکن کسی بھی قوم کی بقا صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس کے پاس زمین ہے
قومیں اس وقت زندہ رہتی ہیں جب ان کے بچے اپنی زبان پڑھتے ہیں
جب وہ اپنی تاریخ جانتے ہیں
جب وہ کتاب کھولتے ہیں اور اپنے ماضی کو پہچانتے ہیں
جب انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کا مستقبل ان کے ماضی سے چھوٹا نہیں
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک دن پہاڑوں کی ایک دوسری بیٹی کی کہانی چیروکی بچوں کی کہانی سے جڑتی ہے
اس عورت کا نام تھا ڈولی پارٹن
ڈولی چیروکی نہیں تھیں
وہ ٹینیسی کے سیویئر کاؤنٹی میں پیدا ہوئی تھیں، انہی عظیم ایپلاچین پہاڑوں کے خطے میں جس کے ماحول میں چیروکی تاریخ بھی سانس لیتی ہے
19 جنوری 1946 کو پیدا ہونے والی ڈولی بارہ بچوں میں چوتھے نمبر پر تھیں
ان کا گھر غربت کا گھر تھا
ایسی غربت جسے آج کے دور میں سمجھنا آسان نہیں
گھر میں نہ دولت تھی، نہ آسائشیں، نہ وہ سہولتیں جنہیں آج ایک عام انسان زندگی کی بنیادی ضرورت سمجھتا ہے
وہ ایک چھوٹے سے پہاڑی کیبن میں پلی بڑھیں
گھر میں بجلی نہیں تھی
پانی گھر کے اندر نہیں آتا تھا
ایک ہی جگہ میں بڑا خاندان رہتا تھا
بارہ بچوں کے اس گھر میں ہر چیز محدود تھی، مگر ایک چیز محدود نہیں تھی
خواب
ڈولی کی ماں ایوی لی پارٹن بچوں کو کہانیاں سناتی تھیں، گیت گاتی تھیں اور ان کے اندر تخیل کی دنیا آباد کرتی تھیں
والد رابرٹ لی پارٹن محنت مزدوری کرتے تھے،کبھی کھیتوں میں کام، کبھی تعمیرات اور کبھی ایسا کام جو گھر کے چولہے کو جلائے رکھ سکے
وہ غریب تھے، مگر اپنی عزت کے ساتھ جیتے تھے
ڈولی نے بعد میں اپنی زندگی میں بارہا اس گھر کو یاد کیا
وہ گھر جہاں غربت تھی مگر محبت بھی تھی
جہاں وسائل کم تھے مگر تخیل بہت تھا
جہاں ایک ماں اپنے بچوں کو کہانیاں سنا سکتی تھی، چاہے گھر میں کتابیں زیادہ نہ ہوں
اور شاید ڈولی کی پوری زندگی کا سب سے بڑا راز یہی تھا
اس نے غربت کو کبھی اپنی شناخت نہیں بننے دیا
اس نے غربت کو اپنی یادداشت بنایا
اور پھر اس یادداشت کو خدمت میں بدل دیا
ڈولی کے والد زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے اور پڑھنے کی صلاحیت سے محرومی نے ڈولی پر گہرا اثر ڈالا، یہی وہ پہاڑی بچی تھی جس کے ہاتھ میں کم عمری میں گٹار آیا اور جس نے بعد میں اسی گٹار اور اپنی آواز سے دنیا کو اپنا دیوانہ بنا دیا،ڈولی پارٹن نے تقریباً 10 سال کی عمر تک گٹار بجانا سیکھ لیا تھا اور بچپن ہی میں مقامی ٹیلی وژن پر گانے لگیں، جسمیں انکے ماموں بل اونر کا بڑا ہاتھ تھا ، پھر صرف 13 برس کی عمر میں گرینڈ اول اوپری کے اسٹیج پر کھڑی ہوئیں،1964 میں ہائی اسکول مکمل کرنے کے فوراً بعد نیش وِل پہنچیں، 1967 میں پورٹر ویگنر کے ساتھ ان کی شراکت نے انہیں قومی شہرت دی اور پھر انہوں نے بطور گلوکارہ اور نغمہ نگار اپنی الگ ،”شناخت قائم کر لی جولین ‘‘، ’’آئی ول آل ویز لو یو‘‘، ’’9 ٹو 5‘‘ اور ’’کوٹ آف مینی کلرز‘‘ جیسے گیتوں نے انہیں ملکی موسیقی کی عظیم ترین فنکاروں میں شامل کر دیا، جبکہ ان کے لکھے ہوئے گیتوں کی تعداد تقریباً 3,000 تک پہنچ گئی اور ان کے ریکارڈز کی دنیا بھر میں 100 ملین سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں،انہیں 11 گریمی ایوارڈز سمیت موسیقی کے تقریباً ہر بڑے اعزاز سے نوازا گیا، وہ کنٹری میوزک ہال آف فیم اور راک اینڈ رول ہال آف فیم دونوں میں شامل ہوئیں اور کئی دہائیوں تک امریکی موسیقی کی ایک ایسی عالمی علامت رہیں جنہیں صرف ’’میگا اسٹار‘‘ کہنا بھی شاید کم ہو،ان کی زندگی کے آخری برسوں میں ان کی مجموعی دولت کا تخمینہ تقریباً 450 ملین ڈالر لگایا گیا، جس میں ان کی موسیقی، گیتوں کے حقوق، ڈالی وڈ اور دوسرے کاروباری اثاثوں کا بڑا حصہ شامل تھا
ڈولی نے شہرت حاصل کی
پھر پیسہ آیا
پھر دنیا نے اسے موسیقی کی عظیم ترین فنکاروں میں شمار کرنا شروع کیا
اس نے ہزاروں گیت لکھے
اس کی آواز دنیا کے لاکھوں گھروں تک پہنچی
اس کے گیت دوسروں نے بھی گائے اور دنیا بھر میں مشہور ہوئے
لیکن اس عورت نے اپنی اصل دولت شاید وہاں استعمال کی جہاں کیمرے کم پہنچتے تھے
1988 میں ڈولی نے ڈولی وڈ فاؤنڈیشن قائم کی
ابتدا میں مقصد اپنے آبائی سیویئر کاؤنٹی کے بچوں کو تعلیم میں آگے بڑھانا تھا
اس کے بعد ایک ایسا پروگرام شروع ہوا جس نے ڈولی پارٹن کا نام موسیقی سے نکال کر کتابوں کی دنیا میں پہنچا دیا
1995
ڈولی پارٹن کی امیجینیشن لائبریری
شروع میں یہ صرف ایک مقامی پروگرام تھا
سیویئر کاؤنٹی کے پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے
ہر بچے کو ہر ماہ ایک کتاب
مفت
اس کے گھر کے پتے پر
اس کے نام کے ساتھ
پہلی مرتبہ جب یہ پروگرام شروع ہوا تو صرف 1,760 کتابیں بھیجی گئیں
کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ چھوٹی سی کوشش ایک دن دنیا بھر میں کروڑوں کتابوں کی تحریک بن جائے گی
ڈولی کا تصور بہت سادہ تھا
ہر بچے کے پاس کتاب ہونی چاہیے
ایسی کتاب جسے وہ اپنا کہہ سکے
ایسی کتاب جسے اس کی ماں یا باپ اس کے ساتھ بیٹھ کر پڑھ سکے
ایسی کتاب جو اس بچے کو اس دنیا سے باہر لے جائے جس میں وہ پیدا ہوا ہے
اور اسے ایک دوسری دنیا دکھائے
وہ دنیا جس میں امکانات ہیں
جہاں خواب ہیں
جہاں علم ہے
جہاں ایک غریب گھر کا بچہ بھی اپنے آپ کو کسی دن بڑا آدمی یا بڑی عورت تصور کر سکتا ہے
یہ پروگرام آہستہ آہستہ امریکہ کے دوسرے علاقوں تک پہنچا
پھر دنیا کے مختلف ملکوں تک پھیل گیا
اور پھر وہ دن آیا جب ڈولی پارٹن کا نام ایک ایسے کام کے ساتھ جڑ گیا جس کی پیمائش گانوں، ایوارڈز یا دولت سے نہیں کی جا سکتی تھی
کتابیں
لاکھوں نہیں
کروڑوں
2023 کے وسط تک امیجینیشن لائبریری 213 ملین سے زیادہ مفت کتابیں بچوں تک پہنچا چکی تھی اور اس وقت بھی ہر ماہ تقریباً 24 لاکھ سے زیادہ کتابیں بھیجی جا رہی تھیں
بعد کے برسوں میں یہ تعداد مزید بڑھتی گئی اور ڈولی کی زندگی کے آخری زمانے تک یہ پروگرام 300 ملین سے زیادہ کتابیں دنیا بھر کے بچوں تک پہنچا چکا تھا
یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے
یہ ڈولی کا صرف خیرات کا پروگرام نہیں تھا
یہ تعلیم کا پروگرام تھا
یہ غربت کے خلاف جنگ تھی
یہ اس خیال کے خلاف بغاوت تھی کہ غریب گھر میں پیدا ہونے والا بچہ غریب خواب ہی دیکھے
ڈولی کا خیال تھا کہ بچے کو دولت دینے سے پہلے اسے تخیل دو
اور تخیل دینے کے لیے کتاب دو
یہی وجہ ہے کہ جب اس پروگرام نے مقامی امریکی بچوں تک بھی رسائی حاصل کی تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں تھا کہ کچھ بچوں کو کتابیں مل گئیں
اس کا مطلب یہ تھا کہ پہاڑوں کے ان علاقوں میں جہاں نسلوں سے محرومی کی تاریخ موجود تھی، بچوں کے ہاتھ میں ایک نئی دنیا پہنچ رہی تھی
چیروکی لوگوں کی تاریخ میں تعلیم کی اپنی ایک گہری روایت ہے
چیروکی معاشرے نے کبھی اپنے آپ کو صرف جنگلوں میں رہنے والے لوگوں تک محدود نہیں رکھا،انہوں نے لکھنے پڑھنے، سیاسی تنظیم، اخبارات، تعلیم اور اپنی زبان کو محفوظ رکھنے کے میدان میں بھی اہم کوششیں کیں
ان کی زبان کے لیے تحریری نظام تیار ہوا
ان کے اپنے اخبارات نکلے
ان کے اسکول قائم ہوئے
لیکن تاریخ کے ہر موڑ پر انہیں اپنی شناخت بچانے کے لیے ایک نئی جنگ لڑنی پڑی
آج بھی چیروکی برادری کے لیے بچوں کو اپنی زبان، ثقافت اور تاریخ سے جوڑنا ایک بنیادی مسئلہ ہے
اور یہاں کتاب کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے
کتاب صرف کاغذ نہیں
کتاب کسی قوم کی یادداشت بھی ہوتی ہے
ایک بچے کے ہاتھ میں کتاب کا مطلب ہے کہ اس کے پاس سوال پوچھنے کا حق ہے
اس کے پاس اپنی دنیا سے آگے دیکھنے کا راستہ ہے
اور اس کے پاس یہ یقین رکھنے کی وجہ ہے کہ اس کی زندگی پہلے سے لکھی ہوئی نہیں
ڈولی پارٹن نے یہی کام کیا
اس نے بچوں کو صرف کتابیں نہیں بھیجیں
اس نے انہیں مستقبل بھیجا
اور شاید اس کہانی کا سب سے خوب صورت پہلو یہی ہے کہ ڈولی خود بھی ایک ایسے گھر سے آئی تھی جہاں مستقبل بہت چھوٹا دکھائی دیتا تھا
بارہ بچوں میں ایک بچی
غریب گھر
پہاڑی علاقہ
محدود وسائل
والد مزدور
ماں گھر سنبھالنے والی
اور پھر وہی بچی دنیا کی عظیم ترین موسیقاروں میں شمار ہوئی
لیکن شہرت کے بعد بھی اس نے اپنے ماضی سے منہ نہیں موڑا
اس نے اپنے بچپن کے گھر کو ڈالی وڈ میں دوبارہ تعمیر کروایا
اس نے اپنے والدین کی یاد کو اپنی زندگی کے کام میں زندہ رکھا
اور اپنے والد کی پڑھنے کی محرومی کو لاکھوں بچوں کی کتابوں میں تبدیل کر دیا
یہاں ڈولی پارٹن کی اصل عظمت سامنے آتی ہے
بڑا انسان وہ نہیں جس کے پاس بہت کچھ ہو
بڑا انسان وہ ہے جس کے پاس بہت کچھ آنے کے بعد بھی اسے یاد رہے کہ کبھی اس کے پاس کچھ نہیں تھا
بڑا انسان وہ ہے جو اپنی غربت کو دوسروں کی غربت سمجھنے کی صلاحیت میں بدل دے
بڑا انسان وہ ہے جو شہرت کو اپنے چہرے کی نمائش کے لیے نہیں، دوسروں کے مستقبل کے لیے استعمال کرے
ڈولی نے زندگی بھر بہت کچھ کیا
موسیقی بنائی
فلموں میں کام کیا
کاروبار کیا
تفریح کی ایک پوری دنیا قائم کی
لیکن اس کی سب سے خاموش کامیابی شاید وہ کتاب تھی جو کسی بچے کے گھر کے دروازے پر پہنچی
وہ بچہ شاید ڈولی پارٹن کو کبھی نہ دیکھ سکے
شاید اس نے اس کا گانا بھی نہ سنا ہو
شاید اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کتاب کے پیچھے کون ہے
لیکن وہ کتاب کھولے گا
اس کی ماں اس کے پاس بیٹھے گی
باپ شاید کام سے واپس آ کر چند صفحات پڑھے گا
بچہ تصویر دیکھے گا
پھر سوال کرے گا
پھر خواب دیکھے گے
اور شاید برسوں بعد وہی بچہ ڈاکٹر بنے
استاد بنے
محقق بنے
فنکار بنے
یا صرف ایک ایسا اچھا انسان بنے جو کسی اور بچے کے ہاتھ میں کتاب رکھ دے
یہی اصل تبدیلی ہے
یہی وہ تبدیلی ہے جو کسی خیرات کی رسید پر نہیں لکھی جاتی
چیروکی لوگوں کی کہانی بھی یہی سکھاتی ہے
ایک قوم جسے اپنی زمین سے نکالا گیا، مگر اس کی شناخت ختم نہیں ہوئی
اس کے پہاڑ اس سے چھینے گئے، مگر اس کی یادداشت نہیں چھینی جا سکی،
اس کے خاندان بکھرے، مگر اس کی زبان اور ثقافت نے دوبارہ خود کو سنبھالا
اور اسی خطے میں پیدا ہونے والی ایک غریب بچی نے بھی اپنی زندگی میں یہی سبق اپنے طریقے سے دہرایا
وہ بھی ایک چھوٹے گھر سے نکلی
اس کے پاس کچھ نہیں تھا
پھر اس کے پاس سب کچھ آ گیا
لیکن اس نے اپنے ماضی کو دفن نہیں کیا
اس نے اسے دنیا کے بچوں کے لیے کتاب بنا دیا
یہی وجہ ہے کہ ڈولی پارٹن کی کہانی صرف ایک گلوکارہ کی کہانی نہیں
یہ غربت سے نکلنے کی کہانی بھی ہے
یہ تعلیم کی طاقت کی کہانی بھی ہے
یہ پہاڑوں کی کہانی بھی ہے
یہ ان لوگوں کی کہانی بھی ہے جنہیں تاریخ نے کئی بار شکست دینے کی کوشش کی مگر وہ زندہ رہے
اور یہ اس سوال کا جواب بھی ہے کہ بڑے لوگ بڑے کیسے بنتے ہیں؟
شاید بڑے لوگ اس وقت بڑے نہیں بنتے جب دنیا انہیں بڑا مان لیتی ہے
شاید وہ اس وقت بڑے بن جاتے ہیں جب انہیں اختیار ملنے کے بعد وہ ان لوگوں کو یاد رکھتے ہیں جن کے پاس اختیار نہیں
جب دولت آنے کے بعد انہیں غربت یاد رہتی ہے
جب شہرت آنے کے بعد انہیں گمنام بچے یاد رہتے ہیں
اور جب دنیا ان کی تصویر دیکھنے کے لیے بے تاب ہو تو وہ خاموشی سے کسی ایسے کام میں اپنا وقت اور پیسہ لگا دیتے ہیں جس کی تصویر لینے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی
ڈولی پارٹن کی زندگی میں ایسی خاموش خدمت بہت تھی
کتابوں کی یہ دنیا اسی خاموشی کی سب سے روشن مثال ہے
آج اگر کوئی بچہ اپنے گھر کے دروازے پر ایک کتاب وصول کرتا ہے، اسے شاید اس بات کا اندازہ نہ ہو کہ وہ کتاب ایک ایسے گھر سے نکلی ہوئی ایک عورت کے خواب کا حصہ ہے جہاں کبھی کتابوں کی کمی تھی
وہ شاید یہ نہ جانتا ہو کہ جس عورت نے اسے کتاب بھیجی، وہ خود بارہ بچوں کے ایک غریب پہاڑی خاندان میں پلی بڑھی تھی
وہ شاید یہ بھی نہ جانتا ہو کہ اس عورت کے والد پڑھ نہیں سکتے تھے
لیکن اسے صرف اتنا معلوم ہوگا کہ اس کے نام ایک کتاب آئی ہے
وہ کتاب کھلے گی
اور شاید اس کے ساتھ ایک دنیا بھی کھلے گی
پہاڑوں میں دھند پھر اترے گی
گریٹ اسموکی ماؤنٹنز کی وادیاں اپنی پرانی خاموشی میں ڈوبی رہیں گی
چیروکی لوگوں کی تاریخ اپنی جگہ زندہ رہے گی
اور کسی دور کے ایک گھر میں کوئی بچہ کتاب کھول کر پہلی بار یہ سوچے گا،
میں بھی کچھ بن سکتا ہوں
شاید ڈولی پارٹن کی سب سے بڑی میراث یہی ہے
اس نے بچوں کو اپنا نام نہیں دیا
اس نے انہیں اپنا خواب دیا
اور خواب وہ چیز ہے جو کسی انسان کے مرنے کے بعد بھی نہیں مرتی

قومی خبریں سے مزید