ٹرمپ کی کینیڈا کو سخت وارننگ
’اب کینیڈا کو سبق سکھانے کا وقت ہے‘
واشنگٹن: امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف امریکی میزبان گلین بیک کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے خاتمے پر سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کینیڈا کو بتایا جائے کہ وہ مزید ایسا نہیں کرسکتا
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے کینیڈا کو ایک ’’اچھا معاہدہ‘‘ پیش کیا تھا، لیکن مذاکرات آخری مرحلے میں ناکام ہوگئے
ٹرمپ نے کینیڈا پر امریکا سے فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ تجارت میں امریکا کو نقصان پہنچا ہے
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کینیڈا سے ملنے والی بعض اشیا کے متبادل ذرائع تلاش کرسکتا ہے، اگرچہ ایسا کرنا کچھ معاملات میں مشکل ضرور ہوگا
تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے کینیڈا کی تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر مالیت کی مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف نافذ کیے ہیں
کینیڈا نے بھی جواباً تقریباً اتنی ہی مالیت کی امریکی درآمدات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو 8 ستمبر سے نافذ ہونے ہیں
ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈین گاڑیوں اور آٹو پارٹس پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا بھی اعلان کیا ہے، جو یکم جنوری سے نافذ ہونے کا شیڈول ہے
کینیڈا کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں گاڑیوں سے متعلق ٹیرف میں مناسب رعایت نہ ملنا بھی معاہدہ طے نہ پانے کی ایک وجہ تھی
وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ کینیڈا ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو ملک کے مفادات کو نقصان پہنچائے
کینیڈین حکومت کے مطابق مذاکرات کے آخری مرحلے میں امریکا کی جانب سے بعض اضافی شرائط سامنے آئیں، جبکہ امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکا نے آخری وقت میں نئی شرائط عائد نہیں کیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ٹرمپ سے اس دعوے کے بارے میں پوچھا گیا کہ امریکا نے مذاکرات کے آخری گھنٹوں میں شرائط تبدیل کی تھیں تو انہوں نے CNN کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا:
’’That sounds like me
یعنی ’’یہ بات میرے جیسی لگتی ہے۔‘‘ بعد میں ٹرمپ نے اس دعوے کی مکمل تردید بھی نہیں کی
اس کے برعکس گریئر کا کہنا ہے کہ امریکا نے کینیڈا کو بہترین ممکنہ معاہدہ پیش کیا تھا اور مذاکرات اس وقت رکے جب معاہدے کی تفصیلات پر کینیڈین جانب سے خدشات سامنے آئے
گلین بیک سے گفتگو میں ٹرمپ نے Lake Ontario کا نام ’’Lake America‘‘ رکھنے کی اپنی تجویز کا بھی ذکر کیا
ٹرمپ نے کہا کہ بعض لوگوں نے سمجھا کہ وہ مذاق کر رہے تھے، لیکن انہوں نے اشارہ دیا کہ شاید وہ اس معاملے میں سنجیدہ تھے۔ انہوں نے اس کا موازنہ Gulf of Mexico کا نام ’’Gulf of America‘‘ رکھنے کی اپنی سابقہ کوشش سے کیا
امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر کے مطابق اس وقت کینیڈا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی کھلا چینل موجود نہیں، اگرچہ ان کے کینیڈین وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ گریئر نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر کینیڈا مزید جوابی اقدامات کرتا ہے تو امریکا خاموش نہیں بیٹھے گا
دوسری جانب کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے باوجود اپنے قومی اور معاشی مفادات کا دفاع جاری رکھے گی
تجارتی جنگ اب صرف ٹیرف تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی بیانات اور سفارتی کشیدگی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے





