گوجرانوالہ جیل سپرنٹنڈنٹ 4 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مبینہ رشوت کے الزام میں گرفتار، 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

گوجرانوالہ جیل سپرنٹنڈنٹ 4 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مبینہ رشوت کے الزام میں گرفتار، 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

گوجرانوالہ میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مبینہ کرپشن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے گوجرانوالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو 4 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مبینہ رشوت کے کیس میں گرفتار کر لیا
اینٹی کرپشن پولیس اسٹیشن ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ میں مقدمہ نمبر 38/26، 19 اگست 2026 کو درج کیا گیا،مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 161 اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 5-2-47 شامل کی گئی ہیں
گرفتاری کے بعد ملزم کو سول جج و ڈیوٹی مجسٹریٹ شہزاد مشتاق کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اینٹی کرپشن حکام نے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق مقدمے کا مرکزی نکتہ 4 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مبینہ رشوت ہے،تفتیش کے دوران اس رقم کی مبینہ طلب یا ادائیگی کے پس منظر، مالی لین دین، دستاویزی شواہد اور دیگر ممکنہ طور پر ملوث افراد کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا
ذرائع کے مطابق جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیشی حکام ملزم سے مبینہ کرپشن کے معاملے، رقم کے لین دین اور اس سے متعلق دیگر شواہد کے بارے میں پوچھ گچھ کریں گے،مالی ریکارڈ، دستاویزات، رابطوں اور دیگر متعلقہ مواد بھی تفتیش کا حصہ بن سکتا ہے
اینٹی کرپشن حکام اس بات کا بھی تعین کریں گے کہ مبینہ طور پر اتنی بڑی رقم کس مقصد کے لیے طلب یا وصول کی گئی اور آیا اس معاملے میں کسی دوسرے شخص نے سہولت کاری یا معاونت کی یا نہیں
تاہم قانونی طور پر اس مرحلے پر یہ تمام الزامات محض الزامات ہیں،ملزم کی گرفتاری یا جسمانی ریمانڈ جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں اور حتمی طور پر جرم یا بے گناہی کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق: مقدمہ نمبر 38/26، تاریخ 19 اگست 2026، اینٹی کرپشن پولیس اسٹیشن ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ، دفعات 161 پاکستان پینل کوڈ اور 5-2-47 انسدادِ بدعنوانی ایکٹ، عدالت سول جج و ڈیوٹی مجسٹریٹ شہزاد مشتاق، جسمانی ریمانڈ 5 روز، جبکہ مبینہ کرپشن کی رقم 4 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے

قومی خبریں سے مزید