“بھان متی نے کنبہ جوڑا، کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا”
برکس ممالک عالمی سطح پر بڑی آواز کے خواہاں، مگر جنگ پر مبہم امن اپیل تک محدود
نئی دہلی: دنیا کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ کے مقابلے میں زیادہ مؤثر عالمی آواز کا مطالبہ کرنے والے برکس ممالک ایران اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے معاملے پر ایک واضح مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے بجائے ایک مبہم امن اپیل پر متفق ہو سکے،نئی دہلی میں ہونے والی برکس سربراہ کانفرنس میں 11 رکن ممالک نے جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش ظاہر کی اور تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی
برکس کے نئے دہلی اعلامیے میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش ہے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں، اعلامیے میں بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات، مشاورت اور سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا، لیکن ایران، امریکہ یا اسرائیل میں سے کسی کو براہ راست نامزد نہیں کیا گیا
یہ محتاط زبان برکس کے اندر موجود گہرے اختلافات کی عکاسی کرتی ہے،گروپ میں ایران بھی شامل ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات بھی رکن ہے اور اس کے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں،بھارت اور چین کے درمیان بھی اپنے الگ اسٹریٹیجک مفادات اور اختلافات موجود ہیں، جبکہ روس، چین اور ایران مغربی پابندیوں اور امریکی بالادستی کے خلاف زیادہ سخت مؤقف رکھتے ہیں،ان مختلف مفادات کے باعث جنگ جیسے حساس معاملے پر ایک مشترکہ اور واضح سیاسی مؤقف بنانا مشکل رہا
اس کے باوجود برکس ممالک عالمی فیصلہ سازی میں ترقی پذیر دنیا کو زیادہ نمائندگی دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کو عالمی نظام میں محض فیصلوں کا تابع رہنے کے بجائے قواعد تشکیل دینے والا فریق بننا چاہیے،برکس نے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں میں اصلاحات اور زیادہ نمائندگی کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے
چینی صدر شی جن پنگ نے بھی برکس سے جنگوں کے خاتمے اور امن کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا،تاہم سربراہی اجلاس میں سامنے آنے والا مشترکہ اعلامیہ اس بلند تر سیاسی خواہش کے مقابلے میں خاصا محتاط رہا،ایران جنگ پر کسی ایک فریق کی حمایت یا واضح مذمت کے بجائے اعلامیے نے عمومی طور پر کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی بات کی
برکس نے یکطرفہ اقتصادی پابندیوں اور تجارتی اقدامات پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات عالمی تجارت کو متاثر کرتے ہیں،یہ مؤقف روس اور ایران جیسے رکن ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم اعلامیے میں کسی ایک ملک کو نامزد کیے بغیر عمومی اصول کی زبان استعمال کی گئی
یوں نئی دہلی اجلاس نے برکس کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت اور عالمی نظام میں زیادہ نمائندگی کے مطالبے کو ضرور نمایاں کیا، لیکن ایران جنگ نے یہ بھی دکھا دیا کہ مختلف سیاسی، معاشی اور علاقائی مفادات رکھنے والے ممالک پر مشتمل اس گروپ کے لیے ایک متحد اور طاقتور جغرافیائی سیاسی مؤقف اختیار کرنا اب بھی بڑا چیلنج ہے





