روس اور بھارت کے رہنماؤں کے درمیان ایران نے دنیا کو دکھایا کہ وہ تنہا نہیں

روس اور بھارت کے رہنماؤں کے درمیان ایران نے دنیا کو دکھایا کہ وہ تنہا نہیں

ایران نے روس اور بھارت کے رہنماؤں کی موجودگی میں ایک اہم سفارتی پیغام دیا ہے کہ علاقائی جنگ اور بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے باوجود تہران خود کو تنہا نہیں سمجھتا،روسی صدر اور بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ایرانی قیادت کی ایک ہی بین الاقوامی فورم پر موجودگی نے ایران کے ان تعلقات کو نمایاں کر دیا ہے جو اسے مغربی دباؤ کے مقابلے میں سفارتی سہارا فراہم کرتے ہیں
ایران کے لیے روس اور بھارت دونوں اہم شراکت دار ہیں، تاہم دونوں ملکوں کے ایران کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ایک جیسی نہیں،روس نے تہران کے ساتھ سیاسی، دفاعی اور اقتصادی تعاون بڑھایا ہے، جبکہ بھارت ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور تجارتی روابط کے باوجود امریکہ اور مغربی دنیا کے ساتھ بھی قریبی تعلقات رکھتا ہے
تہران کے لیے اس صورتحال کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ ایران کو ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب خطے میں جاری جنگ نے اس کے لیے سلامتی اور اقتصادی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے،ایسے ماحول میں روس، بھارت اور دیگر بڑی طاقتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ایک ہی سفارتی پلیٹ فارم پر موجودگی ایران کو یہ دکھانے کا موقع دیتی ہے کہ اس کے پاس اب بھی عالمی سطح پر روابط اور شراکت دار موجود ہیں
یہ تصویر اس وسیع تر سفارتی صف بندی کی بھی عکاسی کرتی ہے جس میں روس، چین، بھارت اور ایران سمیت کئی ممالک مغربی طاقتوں کے زیراثر عالمی نظام سے ہٹ کر اپنے اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں،تاہم روس یا بھارت کی ایران کے ساتھ موجودگی کو ایران کے لیے مکمل سیاسی یا عسکری حمایت کے مترادف قرار دینا درست نہیں ہوگا
ایران کے لیے اصل اہمیت یہ ہے کہ ایسے اعلیٰ سطح کے سفارتی روابط اس تاثر کو کمزور کرتے ہیں کہ تہران عالمی سطح پر مکمل طور پر الگ تھلگ ہو چکا ہے

قومی خبریں سے مزید