Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

کشمیر بھارت کا حصہ ہے، امریکی سفیر کا بیان پاکستان کے لیے بڑا سفارتی دھچکا، پاک امریکہ سفارتی ہنی موُن ختم ہونے لگا؟

کشمیر بھارت کا حصہ ہے، امریکی سفیر کا بیان پاکستان کے لیے بڑا سفارتی دھچکا، پاک امریکہ سفارتی ہنی موُن ختم ہونے لگا؟

اسلام آباد: امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے اپنے پہلے دورے کے دوران ایسا بیان دیا ہے جس نے پاکستان میں شدید سفارتی تشویش پیدا کردی ہے،سری نگر میں بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گور نے کہا،”یہ بھارت کا ایک اہم حصہ ہے،”انہوں نے خطے کی خوبصورتی، حالیہ سکیورٹی صورتحال اور مرکز و مقامی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی بہتر بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا،امریکی سفیر نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن جموں و کشمیر کے بارے میں اپنی سفری ہدایات پر نظرثانی کرے گا تاکہ مزید امریکی شہری اس علاقے کا سفر کرسکیں
یہ بیان اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر بنیادی تنازع ہے اور اسلام آباد مسلسل مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کے حتمی مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے،پاکستان کی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا،وزارت خارجہ کے مطابق یہ بیان کشمیر کے بارے میں امریکا کے طویل عرصے سے چلے آنے والے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے بھی امریکی سفیر کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششیں حقائق تبدیل نہیں کرسکتیں،ان کے مطابق کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے اور پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حق خودارادیت پر مبنی ہے
یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واشنگٹن نے کشمیر کے معاملے پر فریقین کے درمیان ثالثی یا مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے تو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں امریکی سفیر کا یہ کہنا کہ ’’یہ بھارت کا اہم حصہ ہے‘‘ اس ثالثی کے تصور کو کہاں کھڑا کرتا ہے،پاکستان کی جانب سے یہ توقع پیدا ہوئی تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور کشمیر سمیت بنیادی تنازعات پر بات چیت آگے بڑھانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں،خود پاکستانی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کے حالیہ بیان پر احتجاج کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی بھارت پاکستان تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا حوالہ بھی دیا اور امریکا پر زور دیا کہ اس کے سرکاری بیانات کشمیر کی متنازع حیثیت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے چاہئیں
واشنگٹن کے لیے بھی یہ بیان محض الفاظ کا معاملہ نہیں،امریکی سفیر کسی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے بھارت میں موجود ہیں، اس لیے سری نگر میں ان کی جانب سے ’’بھارت کا اہم حصہ‘‘ کہنا پاکستان میں اس تاثر کو تقویت دے سکتا ہے کہ امریکا کشمیر کے معاملے پر اپنی روایتی محتاط زبان سے آگے بڑھ رہا ہے،تاہم اس بیان کو فوری طور پر امریکا کی باضابطہ کشمیر پالیسی میں مکمل تبدیلی قرار دینا بھی قبل از وقت ہوگا، کیونکہ سفیر کا ایک بیان اور واشنگٹن کی باضابطہ خارجہ پالیسی ایک ہی چیز نہیں ہوتے
اس واقعے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امریکی سفیر کا دورہ صرف کشمیر کے سیاسی مستقبل سے متعلق نہیں تھا،گور نے بھارت اور جموں و کشمیر کی انتظامیہ کے ساتھ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور سیاحت کے امکانات پر بھی بات کی اور خطے میں سکیورٹی کی بہتری کو اجاگر کیا،یوں واشنگٹن کا موجودہ پیغام بیک وقت دو سطحوں پر دکھائی دیتا ہے،ایک طرف بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اور کشمیر میں معمول کی صورتحال کو تسلیم کرنے کا تاثر، دوسری طرف پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم رکھنے اور مذاکرات کی گنجائش برقرار رکھنے کی کوشش
یہی تضاد پاکستان کے لیے سب سے بڑا سفارتی مسئلہ بن سکتا ہے،اگر امریکا ایک طرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی بات کرے اور دوسری طرف اس کا اعلیٰ سفارتی نمائندہ سری نگر میں کشمیر کو بھارت کا اہم حصہ قرار دے، تو اسلام آباد کے لیے یہ سوال اٹھانا فطری ہے کہ ثالثی کس بنیاد پر ہوگی اور امریکا خود تنازع کے بنیادی فریقین کے دعووں کے بارے میں کیا مؤقف رکھتا ہے؟
شیری رحمٰن کا ردعمل اسی وسیع تر تشویش کی عکاسی کرتا ہے،پاکستان کے لیے یہ معاملہ صرف ایک امریکی سفیر کے بیان کا نہیں بلکہ اس خدشے کا ہے کہ حالیہ پاک امریکا قربت، جسے اسلام آباد نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران واشنگٹن کے کردار کے تناظر میں اہم سفارتی کامیابی سمجھا تھا، کہیں کشمیر کے معاملے پر توقع کے برعکس نتیجہ نہ دے
اس لیے موجودہ صورتحال میں اصل امتحان صدر ٹرمپ اور امریکی محکمہ خارجہ کا ہوگا،اگر واشنگٹن واضح کرتا ہے کہ سفیر گور کا بیان امریکا کی کشمیر پالیسی میں تبدیلی نہیں ہے اور واشنگٹن اب بھی تنازع کو مذاکرات اور کشمیری عوام کی خواہشات کے تناظر میں دیکھتا ہے تو پاکستان کے لیے سفارتی نقصان محدود ہوسکتا ہے،لیکن اگر یہی زبان آنے والے دنوں میں امریکی پالیسی کی مستقل سمت بن جاتی ہے تو یہ اسلام آباد کے لیے ایک بڑی سفارتی ناکامی اور بھارت کے لیے اہم سیاسی و سفارتی کامیابی ہوگی
مختصر الفاظ میں، پاکستان کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک امریکی سفیر نے کیا کہا،اصل مسئلہ یہ ہے کہ واشنگٹن آئندہ کشمیر کے بارے میں کس زبان اور کس پالیسی کو اختیار کرتا ہے،یہی فیصلہ کرے گا کہ گور کا بیان ایک سفارتی لغزش تھا یا امریکی پالیسی میں خاموش تبدیلی کا اشارہ

قومی خبریں سے مزید