میر رضا کے ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کے لیے این سی سی آئی اے سے مدد طلب
کراچی میں نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم نے قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی سے مقتول کے ڈیجیٹل ریکارڈ تک رسائی اور اس کی جانچ میں تکنیکی مدد طلب کرلی ہے
میر رضا علی، جو آئی بی اے کے گریجویٹ اور کھانے کے کاروبار وافلکس کے مالک تھے، 28 جولائی کو لاپتا ہوگئے تھے۔ اگلے روز ان کی گولیوں سے چھلنی لاش گلستان جوہر میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی
تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی امیر فاروقی کی سربراہی میں سات رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتیش کار این سی سی آئی اے کی مدد سے میر رضا کے ڈیجیٹل ریکارڈ اور واٹس ایپ اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ان کے رابطوں یا آن لائن سرگرمیوں میں کوئی مشتبہ بات موجود تھی یا نہیں
تفتیشی ٹیم نے اس آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا ہے جس نے 28 جولائی کو میر رضا کو گلستان جوہر میں اتارا تھا۔ پولیس کو امید ہے کہ ڈرائیور کا بیان مقتول کی آخری نقل و حرکت اور ممکنہ رابطوں کا سراغ لگانے میں مدد دے گا
دوسری جانب ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز نے میر رضا کے قتل کی تحقیقات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے سے شہریوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔ تنظیم نے میر رضا کے والدین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے
تنظیم کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے یہ بھی بتایا کہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کو بیرون ملک، خصوصاً ازبکستان سے آنے والے نمبروں کے ذریعے بھتہ خوری کی کالز موصول ہو رہی ہیں اور بعض افراد کو منصوبوں پر بم حملوں کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں
کراچی کے انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو نے یقین دہانی کرائی کہ میر رضا کے قتل میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیے بغیر پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی۔ ان کے مطابق بیرون ملک سے بھتہ خوری کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کے لیے ریڈ نوٹس بھی جاری کیے جا چکے ہیں
حکام کے مطابق میر رضا کے ڈیجیٹل ریکارڈ، واٹس ایپ معلومات اور دیگر شواہد کی جانچ سے قتل کے محرکات اور ممکنہ ملزمان یا رابطوں کے بارے میں اہم معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔





