پیٹریاٹ گیمز شاندار قومی مقابلہ بن سکتے تھے، مگر ٹرمپ کی انا نے موقع گنوا دیا

پیٹریاٹ گیمز شاندار قومی مقابلہ بن سکتے تھے، مگر ٹرمپ کی انا نے موقع گنوا دیا

پیٹریاٹ گیمز اپنی اصل شکل میں امریکا کو متحد کرنے والی ایک شاندار قومی سرگرمی بن سکتے تھے،وائٹ ہاؤس نے دسمبر میں جب اس منصوبے کا اعلان کیا تو تصور بظاہر سادہ اور پرکشش تھا،امریکا کی ہر ریاست، علاقے اور قبائلی قوم سے 2 ہائی اسکول طلبہ، یعنی 14 سے 17 سال عمر کے نوجوان، ایک قومی مقابلے میں حصہ لیں اور 250,000 ڈالر کے تعلیمی وظائف کے مجموعی انعام کے لیے مقابلہ کریں
لیکن اس بظاہر بے ضرر تصور کو بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی شخصیت کو ہر معاملے کا مرکز بنانے کی عادت سے نہیں بچایا جا سکا
ٹرمپ پیٹریاٹ گیمز کے آخری روز، 11 اگست کو جنیوا، اوہائیو میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کرنے والے ہیں،رپورٹ کے مطابق خدشہ ہے کہ صدر اس موقع کو بھی نوجوانوں کے قومی مقابلے کے بجائے اپنی ذات اور اپنی کامیابیوں کے اظہار کا موقع بنا دیں گے
پیٹریاٹ گیمز کی ایک اور کمزوری یہ ہے کہ ان میں ملک کے ہر حصے سے بہترین طالب علم کھلاڑیوں کو منتخب نہیں کیا گیا ہے،شرکا کا انتخاب کسی باقاعدہ کھیلوں کے مقابلے یا اہلیتی مرحلے کے ذریعے نہیں ہوا، بلکہ طلبہ نے ویڈیو مضامین ریکارڈ کرکے بتایا کہ انہیں اس پروگرام میں کیوں شامل کیا جانا چاہیے
یہ طریقہ کار اس دعوے کو کمزور کرتا ہے کہ پیٹریاٹ گیمز ملک کے بہترین نوجوان کھلاڑیوں کو ایک جگہ جمع کرنے والا قومی مقابلہ ہیں،اس کے بجائے یہ ایک ایسے انتخابی عمل میں تبدیل ہو گئے جس میں طلبہ کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کے بجائے اپنی شخصیت اور کہانی پیش کرنی تھی
اس کے باوجود پیٹریاٹ گیمز کا بنیادی تصور اب بھی ایک مثبت قومی سرگرمی بن سکتا تھا،مختلف ریاستوں، علاقوں اور قبائلی قوموں کے نوجوانوں کو ایک جگہ جمع کرنا، انہیں ایک دوسرے سے ملنے اور مقابلہ کرنے کا موقع دینا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف فراہم کرنا ایک ایسی سرگرمی ہو سکتی تھی جو سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر نوجوان امریکیوں کو جوڑتی
لیکن مرکزی اعتراض یہی ہے کہ ٹرمپ کی موجودگی نے اس تصور کو ایک وسیع تر قومی تقریب کے بجائے صدر کے گرد گھومنے والی سرگرمی بنا دیا ہے
پیٹریاٹ گیمز کی تقریبات کو 13 اگست کو اے بی سی کے خصوصی پروگرام میں بھی پیش کیا جائے گا،تاہم ناقدین کے مطابق اگر اس منصوبے کا مقصد واقعی نوجوانوں کو ملک کے مختلف حصوں سے اکٹھا کرکے قومی یکجہتی پیدا کرنا تھا تو اسے سیاسی شخصیت کی تشہیر کے بجائے نوجوانوں کی صلاحیت، مسابقت اور باہمی تعلق کو مرکز بنانا چاہیے تھا
یوں ایک ایسا منصوبہ جو امریکی نوجوانوں کے لیے قومی یکجہتی کی علامت بن سکتا تھا، صدر کی شخصیت کے غیر معمولی غلبے کے باعث اپنی اصل صلاحیت کا بڑا حصہ کھوتا دکھائی دیتا ہے

قومی خبریں سے مزید