ٹرمپ انتظامیہ نے خواجہ سرا نوجوانوں کے طبی علاج کے لیے میڈیکیڈ کی وفاقی فنڈنگ ختم کر دی

ٹرمپ انتظامیہ نے خواجہ سرا نوجوانوں کے طبی علاج کے لیے میڈیکیڈ کی وفاقی فنڈنگ ختم کر دی

ٹرمپ انتظامیہ نے منگل کو ایک نیا ضابطہ حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت خواجہ سرا نوجوانوں کے لیے ہارمون تھراپی، بلوغت روکنے والی ادویات اور جنس کی تبدیلی سے متعلق بعض جراحی طریقۂ علاج پر وفاقی میڈیکیڈ فنڈنگ ختم کر دی جائے گی،یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے صنفی شناخت سے متعلق طبی علاج محدود کرنے کی مہم میں ایک اور بڑا قدم ہے
نئے ضابطے کے تحت ریاستیں 13 اکتوبر سے میڈیکیڈ کے ذریعے ایسے طبی علاج کے اخراجات کے لیے وفاقی حکومت سے رقم حاصل نہیں کر سکیں گی،انتظامیہ نے صنفی تبدیلی سے متعلق ان طبی اقدامات کو اپنے سرکاری مؤقف میں ’’جنس کو مسترد کرنے والے طریقۂ علاج‘‘ قرار دیا ہے
یہ پابندی ان نوجوانوں کے لیے ہارمون تھراپی، بلوغت روکنے والی ادویات اور بعض جراحی علاج پر لاگو ہوگی جو میڈیکیڈ یا بچوں کے صحت بیمہ پروگرام کے ذریعے طبی سہولت حاصل کرتے ہیں
تاہم نئے ضابطے کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستیں اپنی رقم سے ایسے علاج کی ادائیگی نہیں کر سکتیں،ریاستی حکومتیں اپنی الگ مالی وسائل استعمال کرتے ہوئے میڈیکیڈ یا بچوں کے صحت بیمہ پروگرام میں شامل نوجوانوں کے لیے صنفی شناخت سے متعلق طبی سہولتوں کی ادائیگی جاری رکھ سکتی ہیں
وفاقی ضابطہ صنفی بے چینی سے متعلق نفسیاتی علاج کی وفاقی فنڈنگ ختم نہیں کرتا،یعنی ایسے نوجوان جو اپنی صنفی شناخت کے باعث ذہنی یا جذباتی دباؤ کا شکار ہوں، ان کے لیے نفسیاتی مشاورت اور متعلقہ ذہنی صحت کی خدمات کی وفاقی مالی معاونت برقرار رہے گی
یہ فیصلہ قانونی اعتبار سے بھی اہم ہے کیونکہ وفاقی حکومت اور ریاستوں کے درمیان صحت عامہ کے معاملات میں اختیارات کی حدود پہلے ہی متعدد مقدمات کا موضوع بن چکی ہیں،ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے صنفی تبدیلی سے متعلق طبی اقدامات کو محدود کرنا وفاقی صحت پالیسی کے دائرے میں آتا ہے، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں ریاستی قوانین اور مریضوں کے حقوق سے متصادم ہو سکتی ہیں
نئے ضابطے کے نتیجے میں ان ریاستوں پر خاص دباؤ پڑ سکتا ہے جہاں نوجوانوں کے لیے صنفی شناخت سے متعلق طبی علاج پہلے ہی ریاستی قانون کے تحت دستیاب ہے،اگر ریاستیں یہ علاج جاری رکھنا چاہیں گی تو انہیں بعض صورتوں میں وفاقی میڈیکیڈ رقم کے بجائے اپنے وسائل استعمال کرنا ہوں گے
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے صنفی تبدیلی سے متعلق طبی علاج کو محدود کرنا چاہتی ہے،انتظامیہ نے اس معاملے کو طبی پالیسی کے ساتھ ساتھ بچوں کے تحفظ اور وفاقی حکومت کے اختیارات کا مسئلہ بھی قرار دیا ہے، جبکہ مخالفین اسے نوجوانوں کو مطلوبہ طبی سہولت سے محروم کرنے کی کوشش سمجھتے ہیں
نئے ضابطے کی عملی آزمائش اب 13 اکتوبر سے شروع ہوگی، جب ریاستیں ان مخصوص طبی خدمات کے لیے وفاقی میڈیکیڈ فنڈنگ کا دعویٰ نہیں کر سکیں گی،اس کے بعد اس پالیسی کے خلاف ممکنہ عدالتی چیلنجز بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید