بلوچستان میں سیلاب متاثرین کے لیے رہائشی فنڈز کی منتقلی پر عالمی بینک ناخوش
عالمی بینک نے بلوچستان میں سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر کے ایک اربوں روپے کے منصوبے سے فنڈز نکال کر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں منتقل کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق اس فیصلے سے بلوچستان کے انتہائی غریب اور کمزور خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں اور غربت، قدرتی آفات کے خطرات اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے وفاقی اور بلوچستان حکومت کو بھیجے گئے مراسلے کے مطابق رہائشی امداد کے لیے اہل قرار دیے گئے خاندانوں میں 84 فیصد انتہائی غریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں 28 فیصد خاندان ماہانہ 30 ڈالر سے کم جبکہ مزید 26 فیصد خاندان 31 سے 70 ڈالر کے درمیان آمدن رکھتے ہیں۔
عالمی بینک نے بتایا کہ اہل خاندانوں میں 39 فیصد کرائے دار، 37 فیصد یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور 8 فیصد چھوٹے کسان ہیں۔ ان خاندانوں کے پاس محدود بچت، رسمی قرضوں تک کم رسائی اور مالی مشکلات برداشت کرنے کی انتہائی محدود صلاحیت ہے۔
عالمی بینک کے مطابق رہائشی امداد کی حد مقرر کیے جانے کے بعد 119,049 تصدیق شدہ اور اہل خاندان ایسے رہ گئے ہیں جن کے لیے اب تک مالی معاونت کا کوئی واضح انتظام نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے شکایتی نظام میں 66,120 شکایات بھی درج کی جاچکی ہیں۔ عالمی بینک نے زور دیا ہے کہ ان تمام شکایات کرنے والوں کو انفرادی طور پر فیصلے سے آگاہ کیا جائے اور شکایات کے ازالے کا شفاف طریقہ اختیار کیا جائے۔
عالمی بینک نے خبردار کیا کہ اگر متاثرہ خاندانوں کو گھروں کی تعمیر کے لیے مدد نہ ملی تو وہ خوراک، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کے اخراجات کم کرکے عارضی رہائش کی مرمت پر رقم خرچ کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ بعض خاندان قرض لینے یا اپنی پیداواری اشیا فروخت کرنے پر بھی مجبور ہوسکتے ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق محفوظ اور مضبوط گھروں کی تعمیر نہ ہونے کی صورت میں یہ خاندان مستقبل میں سیلاب، طوفان، زلزلوں اور شدید گرمی جیسی قدرتی آفات کے مقابلے میں مزید غیر محفوظ رہیں گے۔
عالمی بینک نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اہل خاندانوں کو امداد سے محروم رکھنے سے حکومت اور ترقیاتی منصوبوں پر عوام کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے اور سماجی شکایات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔





