ممدانی کے 104 ملین ڈالر ٹپس دعوے پر تنازع، ناقدین کا کہنا ہے قانون پہلے بن چکا تھا

ممدانی کے 104 ملین ڈالر ٹپس دعوے پر تنازع، ناقدین کا کہنا ہے قانون پہلے بن چکا تھا

نیویارک: نیویارک کے میئر زُہران ممدانی کو فوڈ ڈیلیوری ورکرز کی ٹپس میں اضافے سے متعلق اپنے اعلان پر سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ممدانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کوششوں سے ڈیلیوری ورکرز کی جیبوں میں 104 ملین ڈالر واپس آئے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں ان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے منظور کیے گئے قوانین کا نتیجہ ہیں۔

ممدانی نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس اور سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ “ہم نے ڈیلیوری ورکرز کی جیبوں میں 104 ملین ڈالر واپس پہنچائے ہیں”۔ انہوں نے اس کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اوبر ایٹس اور ڈور ڈیش جیسی کمپنیوں کی ایپس میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کے باعث صارفین کے لیے ٹپس دینا زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔

تاہم مخالفین نے ممدانی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان تبدیلیوں کی بنیاد پہلے سے موجود قانون سازی تھی، اس لیے اس کا مکمل کریڈٹ موجودہ میئر کو دینا درست نہیں۔

ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈیلیوری سروسز کے حوالے سے نئے اخراجات اور قواعد نیویارک میں پہلے ہی مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے اخراجات کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

ممدانی نے اس معاملے پر اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیلیوری ورکرز کو بہتر آمدنی اور زیادہ تحفظ فراہم کرنا ان کی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے، اور یہ اقدامات صرف آغاز ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع نیویارک میں مزدوروں کے حقوق، کاروباری اخراجات اور شہریوں پر بڑھتے مالی دباؤ کے درمیان جاری بحث کا حصہ ہے

قومی خبریں سے مزید