ٹانک میں خونریز خودکش حملہ؛ کیا پاکستان ایک نئی شورش کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے؟

ٹانک میں خونریز خودکش حملہ؛ کیا پاکستان ایک نئی شورش کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے؟

افغان سرحد سے متصل خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ فوجی اور پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں 12 فوجیوں سمیت 15 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ پاک فوج کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں 12 حملہ آور مارے گئے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی میں چار خودکش حملہ آور شریک تھے۔

فوج کے مطابق شدت پسند پہلے چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن ناکامی کے بعد بارود سے بھری گاڑی بیرونی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا۔

یہ حملہ کوئی معمول کا واقعہ نہیں بلکہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی مغربی سرحد ایک مرتبہ پھر شدید دباؤ کا شکار ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں شدت پسندوں کی کارروائیاں بتدریج بڑھتی رہی ہیں، لیکن حالیہ ہفتوں میں ان حملوں کی شدت اور تسلسل نے سکیورٹی اداروں کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

صرف جولائی کے مہینے میں ہی مختلف حملوں میں 40 سے زائد فوجی جان سے جا چکے ہیں، جبکہ پولیس، لیویز اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کو شامل کیا جائے تو ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تقریباً 80 کے قریب پہنچتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ شدت پسند اب صرف چھاپہ مار کارروائیوں تک محدود نہیں رہے بلکہ منظم، مربوط اور زیادہ مہلک حملوں کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ (حتمی تعداد سرکاری اعداد و شمار کی تازہ کاری کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے۔)

ماہرین کے مطابق ٹانک، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، لکی مروت، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان پر مشتمل سرحدی پٹی ایک مرتبہ پھر شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں سے ماضی میں بھی پاکستان کو سب سے بڑے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا تھا۔

اس حملے کے اسٹریٹیجک اثرات کئی پہلوؤں سے اہم ہیں۔ اول، یہ پاکستان کی مغربی سرحد پر مسلسل فوجی دباؤ کو مزید بڑھائے گا۔ دوم، فوج کو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مزید نفری، وسائل اور وقت مختص کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے دیگر سکیورٹی ترجیحات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ سوم، یہ حملے اس سوال کو بھی دوبارہ زندہ کرتے ہیں کہ افغان سرزمین سے سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کو روکنے کے لیے اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعاون کس حد تک مؤثر ہے۔

دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حالیہ حملوں کا یہی سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کو صرف فوجی کارروائیوں پر انحصار کرنے کے بجائے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس، مقامی پولیس کی استعداد اور کابل کے ساتھ سکیورٹی تعاون سمیت ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔

ٹانک کا حملہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ شدت پسند اب زیادہ مربوط منصوبہ بندی، خودکش حملوں اور براہِ راست سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں، جو آنے والے مہینوں میں پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

فوج کی جانب سے جانی نقصان اور جوابی کارروائی کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں، جبکہ ٹی ٹی پی نے بھی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم دونوں فریقوں کے بعض دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی

قومی خبریں سے مزید