پاکستانی معیشت: استحکام کے باوجود اندرونی کمزوریاں برقرار

پاکستانی معیشت: استحکام کے باوجود اندرونی کمزوریاں برقرار

پاکستان کے لیے ان دنوں کچھ مثبت اشارے ضرور موجود ہیں، خاص طور پر بیرونی شعبے میں استحکام، جو گزشتہ چند برسوں کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک کمی کے بعد حاصل ہوا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس استحکام کے باوجود معیشت کی بنیادی کمزوریاں اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2021 سے جاری شدید مالی دباؤ، قرضوں کی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے بحران پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے۔ ملک نے نہ صرف اپنی بڑی بیرونی ادائیگیاں پوری کیں بلکہ اس دوران اپنے ذخائر میں بھی اضافہ کیا، جو صرف قرض لے کر نہیں بلکہ حقیقی آمدنی کے ذرائع سے ممکن ہوا۔
ڈان کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ 2021 سے 2023 کے درمیان پاکستان کو جس شدید معاشی بحران کا سامنا تھا، اس کے بعد بیرونی شعبے میں آنے والا استحکام ایک اہم کامیابی ہے۔ مہنگائی کی شدید لہر کو قابو کیا گیا، زرمبادلہ کے ذخائر کو دوبارہ بہتر بنایا گیا اور مالی خسارے کو کم کر کے بنیادی بجٹ میں سرپلس حاصل کیا گیا۔
تاہم اس کامیابی کی قیمت عوام اور معیشت نے ادا کی۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالی استحکام حاصل کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جن سے کاروبار، سرمایہ کاری اور عام لوگوں کی زندگی متاثر ہوئی۔
سود کی شرح کو تاریخی بلند سطح تک لے جایا گیا، جبکہ ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ کئی شعبوں میں معاشی سرگرمیاں محدود ہوئیں اور روزگار و آمدنی کے مواقع متاثر ہوئے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ریاست نے اپنے مالی معاملات کو بہتر بنانے میں کامیابی حاصل کی، لیکن اس عمل میں معیشت کی رفتار بہت کمزور ہو گئی۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا حاصل کیا گیا استحکام پائیدار ہے یا اس کے نیچے اب بھی ایسے دباؤ موجود ہیں جو مستقبل میں دوبارہ بحران پیدا کر سکتے ہیں؟
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ صرف ذخائر بڑھانا یا مالی خسارہ کم کرنا نہیں بلکہ ایسی معاشی اصلاحات کرنا ہے جن سے عوام کی آمدنی، کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں حقیقی بہتری آئے

قومی خبریں سے مزید