بھارت اور برطانیہ کا تجارتی معاہدہ نافذ، محصولات میں کمی اور خدمات کے شعبے میں تعاون میں اضافہ

بھارت اور برطانیہ کا تجارتی معاہدہ نافذ، محصولات میں کمی اور خدمات کے شعبے میں تعاون میں اضافہ

نئی دہلی/لندن: بھارت اور برطانیہ کے درمیان طے پانے والا جامع تجارتی معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان ہزاروں مصنوعات پر درآمدی محصولات میں کمی کی جائے گی اور خدمات کے شعبے میں کاروباری مواقع بڑھائے جائیں گے۔

اس معاہدے کے تحت بھارتی برآمد کنندگان کو برطانیہ کی زیادہ تر مصنوعات کی منڈی تک بغیر محصول یا کم محصول کے رسائی حاصل ہو گی۔ اس سے خاص طور پر ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، جوتوں، سمندری مصنوعات، قیمتی پتھروں، زیورات اور تیار شدہ غذائی اشیا کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

برطانیہ کو بھی بھارت کی بڑی مارکیٹ تک زیادہ رسائی ملے گی۔ معاہدے کے تحت گاڑیوں، چاندی، مالیاتی خدمات، تعلیم، بیمہ اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں برطانوی کمپنیوں کے لیے مواقع بڑھیں گے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ فوری طور پر بڑی تعداد میں مصنوعات پر محصولات ختم کرے گا، جبکہ بھارت بھی کئی شعبوں میں مرحلہ وار محصولات کم کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان خدمات کی تجارت بھی اس معاہدے کا اہم حصہ ہے، جس میں معلوماتی ٹیکنالوجی، کاروباری خدمات اور تعلیم کے شعبے شامل ہیں۔

بھارتی حکام کے مطابق یہ معاہدہ برآمدات، چھوٹے کاروباروں اور صنعتوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا، جبکہ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل بھارت کے لیے عالمی تجارت میں اپنی موجودگی بڑھانے کا ایک اہم قدم ہے، جبکہ برطانیہ کے لیے بھی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مارکیٹ تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید