ایران معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس میں سخت سوالات کا سامنا، یورینیم اسٹاک اور مشرقِ وسطیٰ پالیسی زیرِ بحث

ایران معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس میں سخت سوالات کا سامنا، یورینیم اسٹاک اور مشرقِ وسطیٰ پالیسی زیرِ بحث

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق متنازع امن معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ کانگریس کے دونوں ایوانوں کے ارکان نے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے باضابطہ بریفنگ میں سخت سوالات کیے ہیں، جس سے اس پالیسی پر سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے ارکان کو ایران معاہدے کی تفصیلات پر بریفنگ دی، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے ایک ہفتے سے زائد عرصے بعد منعقد ہوئی۔

بریفنگ کے دوران دونوں جماعتوں کے اراکین نے سخت سوالات اٹھائے، تاہم ڈیموکریٹس کی جانب سے زیادہ تنقیدی اور تفصیلی سوالات سامنے آئے۔ ریپبلکن رکن کانگریس ڈیرل عیسیٰ سمیت بعض قانون سازوں نے خاص طور پر ایران کے اس ذخیرے پر تشویش ظاہر کی جو مبینہ طور پر “جوہری ہتھیار کے قریب معیار” کی یورینیم پر مشتمل ہو سکتا ہے۔

اراکینِ کانگریس نے سوال اٹھایا کہ معاہدے کے بعد ایران کے حساس جوہری مواد کا مستقبل کیا ہوگا اور آیا یہ معاہدہ خطے میں طویل مدتی استحکام پیدا کرے گا یا نئی غیر یقینی صورتحال کو جنم دے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بریفنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران پالیسی اب بھی امریکی اندرونی سیاست میں ایک انتہائی متنازع اور تقسیم پیدا کرنے والا معاملہ بنی ہوئی ہے، جہاں دونوں بڑی جماعتیں اس کے سکیورٹی اثرات پر مختلف مؤقف رکھتی ہیں

قومی خبریں سے مزید