ڈیموکریٹس نئی کانگریس کا انتظار کیے بغیر توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے اہم بل کی منظوری چاہتے ہیں
ڈیموکریٹ سینیٹرز نے واضح کر دیا ہے کہ وہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منظوری کا عمل تیز کرنے سے متعلق مجوزہ دو جماعتی قانون سازی کو نئی کانگریس کے انتظار میں مؤخر نہیں کریں گے، حالانکہ جنوری میں ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول سنبھالنے جا رہے ہیں
اس بل کو ’’بائی پارٹیزن امریکن افورڈیبلٹی اینڈ جابز ایکٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے،اس کا مقصد وفاقی حکومت کے اجازت ناموں کے پیچیدہ نظام میں اصلاحات کرنا ہے تاکہ بجلی کی ترسیلی لائنوں، کانوں، قابل تجدید توانائی کے منصوبوں اور تیل و گیس سمیت روایتی توانائی کے منصوبوں کی تعمیر کا عمل تیز کیا جا سکے،کئی برسوں سے جاری مذاکرات کے نتیجے میں تیار ہونے والی اس قانون سازی کو وسط مدتی انتخابات کے بعد کانگریس کے اہم ترین معاملات میں شمار کیا جا رہا ہے
نیو میکسیکو سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارٹن ہینرچ نے رائٹرز کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی ایسے معاہدے کے اتنے قریب پہنچے ہیں جس پر حقیقتاً دستخط ہو کر اسے قانون بنایا جا سکتا ہے، اس لیے وہ اس موقع کو ضائع کرنے کے حق میں نہیں،ان کے مطابق نئی کانگریس میں بہتر معاہدے کی امید پر موجودہ بل کو روکنا درست حکمت عملی نہیں ہوگی
رہوڈ آئی لینڈ کے سینیٹر شیلڈن وائٹ ہاؤس نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اچھا اجازت ناموں سے متعلق قانون برسوں کے پیچیدہ مذاکرات کے بعد سامنے آتا ہے،ان کے بقول جب قابل قبول معاہدہ سامنے موجود ہو تو اسے ہاتھ سے جانے دینا دانش مندی نہیں ہوگی
ڈیموکریٹ سینیٹرز چاہتے ہیں کہ انتخابات کے بعد اور نئی کانگریس کے حلف اٹھانے سے پہلے موجودہ کانگریس کے باقی اجلاسوں میں اس بل کو آگے بڑھایا جائے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان توانائی، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کے معاملات پر موجود اتفاق رائے کو سیاسی تبدیلی کے باعث خطرے میں ڈالنے کے بجائے فوری قانون سازی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے






