Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ڈیموکریٹس کی کانگریس ٹرمپ کے ٹیرف اور ایران پالیسی کو کیسے روک سکتی ہے؟ آئینی ماہرین کے مطابق اصل طاقت ووٹوں سے زیادہ بجٹ اور قانون میں چھپی ہے

ڈیموکریٹس کی کانگریس ٹرمپ کے ٹیرف اور ایران پالیسی کو کیسے روک سکتی ہے؟ آئینی ماہرین کے مطابق اصل طاقت ووٹوں سے زیادہ بجٹ اور قانون میں چھپی ہے

تجزیہ ،رپورٹ: آفاق فاروقی
واشنگٹن: ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی اور خارجہ پالیسی کو پہلی بار ایک مضبوط پارلیمانی مزاحمت کا سامنا ہوگا، لیکن اس کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ نئی کانگریس صدر کے تمام ٹیرف ختم کر سکتی ہے یا انہیں ایران کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات پر مجبور کر سکتی ہے،کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR) کے ماہرین اور تجارتی و آئینی قانون کے ماہرین کی ابتدائی آرا سے ایک اہم نتیجہ سامنے آتا ہے،ڈیموکریٹس کے پاس ٹرمپ کو سیاسی، مالی اور قانونی دباؤ میں لانے کے مؤثر ذرائع ضرور ہوں گے، مگر صدر کے اختیارات ختم کرنے کے لیے انہیں کانگریس میں اپنی اکثریت سے کہیں زیادہ درکار ہوگا
کونسل آن فارن ریلیشنز کی سینئر فیلو ربیکا پیٹرسن کے مطابق نئی کانگریس مہنگائی، توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ایران جنگ ختم کرنے اور بعض ٹیرف واپس لینے کے لیے ریپبلکن ارکان کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کرے گی،ان کے خیال میں صدر کا ویٹو بعض قانون سازی کو روک سکتا ہے، تاہم 2028 کے انتخابات کے پیش نظر ریپبلکن ارکان بھی عوامی دباؤ کے تحت کچھ معاشی معاملات پر ڈیموکریٹس کا ساتھ دے سکتے ہیں
ٹیرف کے معاملے پر قانونی صورت حال خاصی پیچیدہ ہے،آئینی طور پر بیرونی تجارت اور محصولات کے تعین کا بنیادی اختیار کانگریس کے پاس ہے، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں میں کانگریس نے مختلف قوانین کے ذریعے صدر کو یہ اختیار منتقل کیا ہے،ڈیوک یونیورسٹی اسکول آف لا کے ممتاز پروفیسر ٹموتھی میئر کے مطابق عملی طور پر 1930 کی دہائی سے امریکی تجارتی پالیسی پر صدارتی انتظامیہ کا غلبہ رہا ہے،ان کا کہنا ہے کہ کانگریس چاہے تو صدر کے ٹیرف اختیارات پر مدتِ معیاد، نگرانی اور منظوری کی نئی قانونی شرائط عائد کرکے اپنا آئینی کردار دوبارہ مضبوط بنا سکتی ہے، لیکن صدر کے ویٹو کی وجہ سے اس راستے میں بڑی رکاوٹ موجود ہے
خبر رساں ادارے رائٹرز نے 4 نومبر کو تجارتی اور قانونی ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ ڈیموکریٹس کو کانگریس میں اکثریت ملنے کے باوجود ٹرمپ کے ٹیرف ختم کرنے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہوئی،صدر کا ویٹو مسترد کرنے کے لیے سینیٹ میں 67 اور ایوانِ نمائندگان میں 290 ووٹ درکار ہوں گے،رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس کے پاس سینیٹ میں کم از کم 54 نشستیں ہیں، جبکہ ایوان میں ان کی تعداد 235 سے 258 کے درمیان متوقع بتائی جا رہی ہے،اس لیے وہ ٹیرف ختم کرنے کے لیے قانون سازی تو کر سکتے ہیں، لیکن ریپبلکن ارکان کی بڑی تعداد کے بغیر اسے نافذ کرانا مشکل ہوگا
بائیڈن دور میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کی سابق جنرل کونسل گریٹا پائش کا کہنا ہے کہ بعض حالات میں ٹیرف سے متاثرہ کاروباری اداروں اور صارفین کی شکایات کی بنیاد پر کچھ ریپبلکن ارکان کو ڈیموکریٹس کے ساتھ لانے کا امکان موجود ہے، اگرچہ صدر کے ویٹو کو شکست دینا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے،دوسری طرف سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے تجارتی مشیر ولیم رینش کے مطابق نئی ڈیموکریٹک قیادت ٹیرف سے متاثر ہونے والے چھوٹے کاروباروں، کمپنیوں کو دی گئی خصوصی چھوٹ اور حکومتی فیصلوں کی تحقیقات کے لیے سماعتیں شروع کر سکتی ہے،ان کے بقول ٹیرف کے منفی اثرات سامنے لانا ڈیموکریٹس کے لیے ایک بڑا سیاسی ہتھیار بن سکتا ہے
تاہم ماہرین یہ بھی واضح کر رہے ہیں کہ ڈیموکریٹس خود تمام ٹیرف ختم کرنے کے حامی نہیں،رائٹرز کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن نے چین پر ٹرمپ کے پہلے دور کے بیشتر ٹیرف برقرار رکھے تھے اور بعض مصنوعات پر مزید محصولات بھی عائد کیے تھے،اس لیے نئی کانگریس کی ممکنہ کوشش مکمل تجارتی آزادی کے بجائے ان ٹیرف میں کمی یا تبدیلی پر مرکوز ہو سکتی ہے جن سے امریکی صارفین اور کاروباروں کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے،ٹرمپ بھی کانگریس کے انتخابی نتائج کے باوجود چین، بھارت اور دیگر تجارتی شراکت داروں کے خلاف نئی تجارتی تحقیقات اور محصولات جاری رکھ سکتے ہیں
ایران کے معاملے میں کانگریس کے پاس دباؤ ڈالنے کے نسبتاً زیادہ مؤثر ذرائع ہیں، مگر صدر کو مذاکرات پر مجبور کرنے کا کوئی فوری آئینی بٹن موجود نہیں،کونسل آن فارن ریلیشنز کی مشرق وسطیٰ امور کی سینئر فیلو ایلیسا ایورز کے مطابق ڈیموکریٹس ایران جنگ کے فیصلوں، فوجی کارروائیوں اور انتظامیہ کی حکمت عملی پر سخت نگرانی کریں گے،کانگریس میں سماعتوں کے ذریعے جنگ کے فیصلوں کا احتساب طلب کیا جا سکتا ہے اور فوجی کارروائی جاری رکھنے یا مستقبل میں نئی جنگ شروع کرنے کے اختیارات محدود کرنے کے لیے قانون سازی کی کوشش بھی ہو سکتی ہے،ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کی پالیسی میں سفارت کاری کو دوبارہ اہمیت دینے کا مطالبہ بھی زور پکڑ سکتا ہے
اس سلسلے میں ایک اہم آئینی راستہ جنگی اختیارات کی قرارداد ہے،جون 2026 میں ایوانِ نمائندگان نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے یا مزید کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری لینے کی قرارداد 215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور کی تھی، جبکہ سینیٹ میں بھی یہ قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور ہوئی،آئینی ماہر بروس فین نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا تھا کہ آئین اور وار پاورز ریزولوشن کے تحت جنگ کے اختیار میں کانگریس کا بنیادی کردار ہے اور صدر کو اپنی مرضی سے جنگ شروع کرنے کا غیر محدود اختیار حاصل نہیں،تاہم ایسی قرارداد کو عملی طور پر نافذ کرانے اور صدارتی مخالفت کا سامنا کرنے کے لیے قانونی و سیاسی مراحل طے کرنا پڑتے ہیں
اٹلانٹک کونسل کے مشرق وسطیٰ پروگرام کے سربراہ ولیم ویکسلر نے 4 نومبر کے تجزیے میں ایک اہم تنبیہ کی ہے،ان کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی ایران کے خلاف ٹرمپ کی ممکنہ نئی فوجی کارروائی کو مؤخر کر سکتی ہے، لیکن اسے مکمل طور پر روکنے کی ضمانت نہیں،ان کا کہنا ہے کہ کانگریس صدر کے داخلی قانون سازی کے ایجنڈے کو روکنے کی طاقت رکھتی ہے، مگر کمانڈر اِن چیف کی حیثیت سے صدر کے فوجی اختیارات پر اس کا فوری کنٹرول محدود ہے،ویکسلر نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ ٹرمپ کسی سفارتی معاہدے کو اپنی جنگی پالیسی کی ناکامی سمجھ کر مزید فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں
دوسری طرف کونسل آن فارن ریلیشنز کی ربیکا پیٹرسن کا تجزیہ نسبتاً امید افزا راستہ دکھاتا ہے،ان کے مطابق ڈیموکریٹس ریپبلکن ارکان کو ساتھ ملا کر ایران جنگ ختم کرنے اور منتخب ٹیرف میں کمی کے لیے قانون سازی کی کوشش کریں گے،اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے معاملے میں فوری سفارتی پیش رفت کا امکان مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً اگر جنگ کے اخراجات، تیل کی قیمتوں اور امریکی عوام پر معاشی دباؤ کے باعث ٹرمپ کے اپنے سیاسی حلقے میں بھی جنگ جاری رکھنے کی مخالفت بڑھے،لیکن یہ پیش رفت صدر کی آمادگی، ایران کے ردعمل اور خطے کی صورت حال پر بھی منحصر ہوگی
یورپ کے حوالے سے کونسل آن فارن ریلیشنز کی یورپی امور کی سینئر فیلو لیانا فکس نے خبردار کیا ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے باوجود یورپ اور واشنگٹن کے تعلقات فوری طور پر معمول پر آنے کی ضمانت نہیں،ایشیا کے امور کے ماہر جوشوا کرلانزک کے مطابق ایشیائی ممالک کو نئی کانگریس سے کچھ امید ضرور ہے، کیونکہ ٹرمپ کے ٹیرف نے خطے کے کئی اتحادیوں کو ناراض کیا ہے، لیکن صدر کے ویٹو کی وجہ سے ٹیرف میں بڑی تبدیلی کا امکان محدود ہے،اس کا اثر بھارت اور چین سمیت ان ممالک پر بھی پڑے گا جو واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں کسی نرمی کے منتظر ہیں
اس پوری صورت حال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کے پاس اب کانگریس کا بجٹ، کمیٹیوں کی سربراہی، سرکاری حکام کو طلب کرنے، دستاویزات مانگنے اور اہم صدارتی نامزدگیوں کی منظوری روکنے کے اختیارات ہوں گے،نئی کانگریس 3 جنوری 2027 کو کام شروع کرے گی اور اس کے بعد دفاع، خارجہ پالیسی اور تجارتی کمیٹیوں کی سربراہی ڈیموکریٹس کے پاس آ جائے گی،اس لیے ٹرمپ کے لیے ایران جنگ اور ٹیرف پالیسی کو پہلے کی طرح سیاسی مزاحمت کے بغیر جاری رکھنا مشکل ہوگا، لیکن ماہرین کی مجموعی رائے یہ ہے کہ نہ ٹیرف کا مکمل خاتمہ فوری طور پر ممکن ہے اور نہ ہی ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کانگریس اکیلے طے کر سکتی ہے،اصل تبدیلی یہ ہوگی کہ صدر کے فیصلوں پر پارلیمانی نگرانی بڑھے گی، ان کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوگا اور انہیں بعض معاملات میں ریپبلکن ارکان کے تعاون یا سمجھوتے کی ضرورت پڑ سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید