ڈیموکریٹس کی انتخابی کامیابی کے بعد ٹرمپ کے خلاف قانون سازی اور تحقیقات کی تیاری، مہنگائی میں کمی پہلی ترجیح
واشنگٹن : امریکی وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی نے جنوری میں اقتدار سنبھالتے ہی قانون سازی کا ایک بڑا پروگرام شروع کرنے کی تیاری کر لی ہے،پارٹی کی قیادت کا ارادہ ہے کہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، صحت کی سہولتوں میں کٹوتیوں، ٹرمپ انتظامیہ کے درآمدی محصولات اور ایران جنگ جیسے معاملات پر فوری اقدامات کیے جائیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے خاندان اور قریبی ساتھیوں کے خلاف کانگریسی تحقیقات بھی ان کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہوں گی
سی این بی سی کے مطابق، ایوانِ نمائندگان میں ممکنہ اسپیکر حکیم جیفریز اور دیگر نمایاں ڈیموکریٹ رہنما انتخابی کامیابی کو فوری قانون سازی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں،ان کی کوشش ہے کہ نئی کانگریس کے پہلے 100 گھنٹوں کے اندر ایسے بل ایوان میں پیش کیے جائیں جن سے عام امریکی خاندانوں کو درپیش مالی دباؤ کم کرنے کا پیغام دیا جا سکے،اس پروگرام میں ہیلتھ انشورنس کی ان اضافی سبسڈیوں کی بحالی شامل ہے جو ریپبلکن اکثریتی کانگریس کے دور میں ختم ہو گئیں، جبکہ ٹرمپ کے دستخط سے گزشتہ سال نافذ ہونے والی میڈیکیڈ کٹوتیوں کو واپس لینے کی بھی کوشش کی جائے گی
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم میں ووٹروں کی بنیادی تشویش روزمرہ زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں تھیں،پٹرول سے لے کر اشیائے خورونوش تک مہنگائی نے گھرانوں کے بجٹ پر دباؤ بڑھایا ہے، اس لیے نئی قیادت اپنی پہلی ترجیح عوام کو یہ دکھانا چاہتی ہے کہ کانگریس میں اکثریت ملنے کے بعد وہ فوری طور پر ان مسائل پر کام شروع کر رہی ہے،پارٹی ٹرمپ انتظامیہ کے محصولات کو واپس لینے اور ایران جنگ ختم کرنے کے لیے بھی قانون سازی اور سیاسی دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے
تاہم ڈیموکریٹس کے سامنے ایک بڑا سیاسی امتحان بھی ہے،انہیں ایک طرف مہنگائی، صحت اور خارجہ پالیسی جیسے معاملات پر مشترکہ قانون سازی کرنی ہے اور دوسری طرف ٹرمپ، ان کے خاندان اور کاروباری و سیاسی ساتھیوں کے خلاف تحقیقات کا وعدہ پورا کرنا ہے،اس حکمت عملی کے نتیجے میں کانگریس، وائٹ ہاؤس اور کاروباری حلقوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے،جنوری میں نئی کانگریس کے آغاز کے بعد واشنگٹن میں قانون سازی کے ساتھ ساتھ سیاسی محاذ آرائی کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے






