Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

امریکی سیاست میں تاریخ بدلنے کا دن؟ پہلا مسلمان سینیٹر، پہلی سیاہ فام اسپیکر اور جارجیا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بننے کے امکانات، 36 ریاستوں میں گورنر کے انتخاب میں خواتین کے ریکارڈ امیدوار

امریکی سیاست میں تاریخ بدلنے کا دن؟ پہلا مسلمان سینیٹر، پہلی سیاہ فام اسپیکر اور جارجیا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بننے کے امکانات، 36 ریاستوں میں گورنر کے انتخاب میں خواتین کے ریکارڈ امیدوار

واشنگٹن:امریکہ کے 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات صرف کانگریس میں سیاسی اکثریت کی تبدیلی کا مقابلہ نہیں بلکہ امریکی تاریخ میں کئی نئی مثالیں قائم کرنے کا امکان بھی رکھتے ہیں،پہلی مرتبہ ایک مسلمان امریکی سینیٹر منتخب ہو سکتا ہے، ایوان نمائندگان کو پہلی سیاہ فام اسپیکر مل سکتی ہے، جارجیا میں پہلی سیاہ فام گورنر منتخب ہو کر امریکہ کی بھی پہلی ریاستی گورنر بن سکتی سکتی ہے، جبکہ مختلف ریاستوں میں مقامی اور نسلی نمائندگی کے کئی نئے ریکارڈ بھی قائم ہونے کے امکانات ہیں
ٹائم میگزین نے اپنی خصوصی رپورٹ میں ایسے 10 امیدواروں کی نشاندہی کی ہے جن کی کامیابی امریکی سیاسی تاریخ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے
نیویارک سے ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز ایوان نمائندگان کے پہلے سیاہ فام اسپیکر بن سکتے ہیں،اس وقت وہ ایوان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی رہنما ہیں،اگر ڈیموکریٹس ایوان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو اسپیکر کے انتخاب کا راستہ کھل سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اپنی جماعت کے اندر بھی اتفاق رائے ضروری ہوگا
مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسیّد کی کامیابی انہیں امریکی تاریخ کا پہلا مسلمان سینیٹر بنا سکتی ہے،ان کا مقابلہ ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز سے ہے،ٹائم کے مطابق عبدالسیّد انتخابی سروے میں آگے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم ریاست میں مقابلہ غیر متوقع رخ بھی اختیار کر سکتا ہے،عبدالسیّد نے اپنی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں کی توسیع اور میڈی کیئر فار آل جیسے معاملات کو مرکزی اہمیت دی ہے
نیو ہیمپشائر سے ڈیموکریٹک امیدوار کرس پاپاس کامیاب ہوئے تو وہ امریکی سینیٹ کے پہلے کھلے عام ہم جنس پرست مرد رکن ہوں گے،اس سے پہلے ٹیمی بالڈون 2012 میں سینیٹ کی پہلی کھلے عام ہم جنس پرست رکن منتخب ہوئی تھیں
اوکلاہوما میں ڈیموکریٹک امیدوار سنڈی منسن کامیاب ہوئیں تو امریکہ کی پہلی کوریائی نژاد گورنر بن سکتی ہیں،وہ ریاستی اسمبلی میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اقلیتی رہنما ہیں اور ان کا مقابلہ ری پبلکن امیدوار مائیک مزئی سے ہے
جارجیا میں ڈیموکریٹک امیدوار کیشا لانس باٹمز کی کامیابی ایک ساتھ دو تاریخی ریکارڈ قائم کر سکتی ہے،وہ ریاست کی پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام گورنر بن سکتی ہیں،ان کا مقابلہ ری پبلکن امیدوار رک جیکسن سے ہے،باٹمز اس سے پہلے اٹلانٹا کی میئر رہ چکی ہیں،دوسری طرف مینیسوٹا میں ری پبلکن امیدوار لیزا ڈی متھ کامیاب ہوئیں تو وہ امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بن سکتی ہیں،ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار اور سینیٹر ایمی کلوبوچر سے ہے۔ اس ریاست میں کامیاب ہونے والی کوئی بھی خاتون پہلی خاتون گورنر ہوگی
نیو میکسیکو میں ڈیموکریٹک امیدوار ڈیب ہالینڈ کامیاب ہوئیں تو وہ امریکہ کی پہلی مقامی امریکی خواتین گورنرز میں شامل ہو سکتی ہیں،وہ اس سے پہلے کانگریس کی پہلی مقامی امریکی خواتین ارکان میں شامل رہی ہیں اور صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں وزیر داخلہ بھی رہ چکی ہیں،الاسکا میں ری پبلکن امیدوار برناڈیٹ ولسن بھی اپنی الیوٹ مقامی امریکی وراثت کے حوالے سے تاریخی کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔

سینیٹ کے انتخابات میں الاسکا سے ڈیموکریٹک امیدوار میری پیلٹولا کامیاب ہوئیں تو وہ سینیٹ کی پہلی الاسکا نیٹو رکن اور پہلی مقامی امریکی خاتون سینیٹر بن سکتی ہیں،وہ اس سے پہلے کانگریس کی پہلی الاسکا نیٹو رکن بننے کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ مینیسوٹا کی ڈیموکریٹک امیدوار اور موجودہ لیفٹیننٹ گورنر پیگی فلاناگن بھی کامیاب ہوئیں تو وہ سینیٹ کی پہلی مقامی امریکی خاتون ارکان میں شامل ہوں گی
گورنر کے انتخابات میں خواتین کی نمائندگی بھی ایک نیا ریکارڈ قائم کر رہی ہے،36 ریاستوں میں گورنر کے انتخابات ہو رہے ہیں اور ان میں 26 خواتین امیدوار اپنی جماعتوں کی جانب سے جنرل الیکشن میں نامزد ہوئی ہیں،ان میں 19 ڈیموکریٹ اور 7 ری پبلکن امیدوار شامل ہیں،رٹگرز یونیورسٹی کے مرکز برائے امریکی خواتین و سیاست کے مطابق پرائمری انتخابات سمیت گورنر کے عہدوں کے لیے مقابلہ کرنے والی خواتین کی مجموعی تعداد 84 تک پہنچ چکی ہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے
اس وقت امریکہ کی 50 ریاستوں میں سے 14 کی گورنر خواتین ہیں، جن میں 10 ڈیموکریٹ اور 4 ری پبلکن ہیں،مجموعی طور پر امریکی تاریخ میں اب تک 53 خواتین 33 ریاستوں میں گورنر رہ چکی ہیں، جبکہ 17 ریاستوں میں آج تک کوئی خاتون گورنر منتخب نہیں ہوئی۔ جارجیا، مینیسوٹا اور اوکلاہوما سمیت کئی ریاستوں میں اس سال کے نتائج خواتین کی سیاسی نمائندگی کا نیا نقشہ بنا سکتے ہیں
یہ انتخابات ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب سیاسی اشتہارات پر 11 ارب ڈالر سے زیادہ اخراجات متوقع ہیں، جو امریکی انتخابی تاریخ کا ریکارڈ ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت بھی مڈٹرم انتخابات سے پہلے تاریخی طور پر کم سطح پر بتائی جا رہی ہے،اس لیے 3 نومبر کے نتائج نہ صرف کانگریس میں طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں بلکہ امریکی سیاست میں نسلی، مذہبی اور صنفی نمائندگی کے نئے دور کا آغاز بھی کر سکتے ہیں
اہم اعداد و شمار کی تصدیق: رٹگرز یونیورسٹی کے مطابق 26 خواتین جنرل الیکشن کی گورنر امیدوار ہیں، جبکہ 84 خواتین پرائمری سمیت مجموعی انتخابی مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں۔ موجودہ 14 خواتین گورنرز اور 53 سابقہ خواتین گورنرز کے اعداد بھی پیو ریسرچ سینٹر سے لیے گئے ہیں

قومی خبریں سے مزید