تحقیق و تجزیہ : آفاق فاروقی
نیویارک؛ امریکہ کے 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیتی ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے آخری 2 سال محض سیاسی مخالفت کے بجائے ایک بڑے آئینی اور پالیسی امتحان میں تبدیل ہو سکتے ہیں،خارجہ پالیسی، ایران کی جنگ، یوکرین اور اسرائیل کو فوجی امداد، امیگریشن، صحت کی سہولتوں اور مہنگائی جیسے معاملات پر کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان اختیارات کی کشمکش بڑھنے کا خدشہ ہے،تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنا اور اپنے انتخابی وعدوں کو قانون میں تبدیل کرنا دو بالکل مختلف باتیں ہیں
رائٹرز، بروکنگز انسٹی ٹیوشن اور کونسل آن فارن ریلیشنز کے تجزیوں میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے خارجہ پالیسی کے کئی فیصلے پہلے کی طرح یکطرفہ طور پر آگے بڑھانا مشکل ہو سکتا ہے،کانگریس کی کمیٹیوں کی سربراہی، بجٹ کی منظوری، فوجی اخراجات، بیرونی امداد اور انتظامیہ کے عہدیداروں کو طلب کرنے کے اختیارات ڈیموکریٹس کو مل جائیں گے،ایران کے ساتھ جاری جنگ اس کشمکش کا سب سے اہم مرکز بن سکتی ہے،ڈیموکریٹس پہلے ہی کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ جاری رکھنے پر اعتراض کر رہے ہیں،نئی اکثریت دفاعی بجٹ میں مخصوص رقوم روکنے، جنگی حکمت عملی پر عوامی سماعتیں کرانے اور انتظامیہ سے یہ وضاحت طلب کرنے کی کوشش کر سکتی ہے کہ فوجی کارروائیوں کے لیے قانونی اختیار کہاں سے حاصل کیا گیا ہے
یوکرین کے معاملے میں بھی پالیسی کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے،ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کے لیے براہ راست فوجی اور مالی امداد محدود کیے جانے کے بعد ڈیموکریٹس نئی امدادی قراردادیں اور پیکج سامنے لا سکتے ہیں،اسرائیل کے معاملے میں پارٹی کے اندر اختلافات کے باوجود غزہ میں شہری ہلاکتوں اور مغربی کنارے کی صورتحال پر تنقید بڑھنے کے باعث فوجی امداد محدود کرنے یا بعض ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے،رائٹرز کے مطابق اسرائیل کو گزشتہ مالی سال میں 3.8 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد ملی تھی،ڈیموکریٹک اکثریت اس امداد کے استعمال پر سخت شرائط عائد کرنے کی کوشش کر سکتی ہے،اسی طرح ٹرمپ کے مجوزہ دفاعی بجٹ میں 67 فیصد اضافے اور منسوخ یا روکی گئی بیرونی امداد کی بحالی بھی کانگریس میں بڑے تنازعات بن سکتے ہیں،تاہم خارجہ پالیسی کے بنیادی فیصلوں پر صدر کے آئینی اختیارات برقرار رہیں گے، اس لیے کانگریس کی اکثریت کا مطلب یہ نہیں کہ ڈیموکریٹس صدر کی جگہ خود خارجہ پالیسی چلانے لگیں گے
مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کے حوالے سے ڈیموکریٹس کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان کے پاس واقعی کوئی ایسا واضح معاشی منصوبہ ہے جس کے ذریعے عام امریکی خاندانوں کو فوری ریلیف دیا جا سکے؟ پارٹی رہنما ہیکم جیفریز نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرتے ہیں تو ان کا پہلا بڑا قانون زندگی کے اخراجات کم کرنے پر مرکوز ہوگا،اس مقصد کے لیے پانچ ورکنگ گروپس بنائے گئے ہیں جو مکانات، پٹرول اور بجلی، اشیائے خورونوش، خاندانی نگہداشت اور صحت کے اخراجات پر تجاویز تیار کر رہے ہیں
ڈیموکریٹس کی نئی ڈیموکریٹ کولیشن نے فروری 2026 میں اپنا افورڈیبلٹی ایجنڈا بھی پیش کیا تھا، جس میں صحت، رہائش، توانائی، بچوں اور خاندانوں کی نگہداشت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے،ان میں مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا، چھوٹے کاروباروں کی مدد، غیر ضروری تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا اور ٹرمپ انتظامیہ کے بعض ٹیرف واپس لینے جیسے اقدامات شامل ہیں،لیکن واشنگٹن پوسٹ کی سیاسی تجزیہ نگار کیرن ٹملٹی نے 11 اکتوبر کے اپنے تجزیے میں ایک اہم کمزوری کی نشاندہی کی کہ ڈیموکریٹس نے ابھی تک مہنگائی اور مجموعی لاگتِ زندگی کم کرنے کے لیے ایسا مکمل اور واضح قانون سازی کا منصوبہ پیش نہیں کیا جس کے اثرات اور مالی وسائل کی تفصیل سامنے ہو،پارٹی نے مختلف شعبوں میں تجاویز تیار کرنے کے لیے کمیٹیاں تو بنا دی ہیں، لیکن ان تجاویز کو عملی قانون میں تبدیل کرنے پر ابھی اتفاق رائے نہیں ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کے پاس مہنگائی کے خلاف سیاسی نعرہ اور اخراجات کم کرنے کا ایک ابتدائی خاکہ ضرور ہے، لیکن خوراک، مکان، بجلی، گیس اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں کتنی کم ہوں گی اور کتنے عرصے میں کم ہوں گی، اس کا کوئی یقینی جواب فی الحال موجود نہیں،مزید یہ کہ مہنگائی پر قابو پانے میں فیڈرل ریزرو، عالمی تیل کی قیمتوں، تجارتی پالیسی اور سپلائی چین کا بھی کردار ہوتا ہے،صرف کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے سے قیمتیں فوری طور پر نیچے نہیں آتیں
صحت کے شعبے میں ڈیموکریٹس کا سب سے اہم وعدہ ٹرمپ انتظامیہ کے 2025 کے بڑے بجٹ قانون کے تحت صحت کی سہولتوں میں کی گئی کٹوتیوں اور پابندیوں کو واپس لینا ہے،تاہم یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے،جس قانون کے خلاف ڈیموکریٹس مہم چلا رہے ہیں اس کی سب سے بڑی صحت سے متعلق کٹوتیاں میڈیکیئر کے بجائے میڈیکیڈ پروگرام میں ہیں،کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق اس قانون کے نتیجے میں 10 سال کے دوران میڈیکیڈ کے وفاقی اخراجات میں تقریباً 989.7 ارب ڈالر کی کمی اور 2034 تک 7.5 ملین مزید افراد کے صحت بیمے سے محروم ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا،اسی قانون کے صحت سے متعلق دیگر اقدامات اور انشورنس سبسڈی میں تبدیلیوں سے بھی لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں
اس کے برعکس کانگریشنل بجٹ آفس کی اسی قانون سے متعلق رپورٹ کے مطابق 2025 سے 2034 کے دوران میڈیکیئر کے وفاقی اخراجات میں 1.7 ارب ڈالر کا اضافہ متوقع تھا، نہ کہ مجموعی اخراجات میں کمی۔ اس لیے میڈیکیئر اور میڈیکیڈ کو ایک ہی پروگرام سمجھ کر دونوں میں یکساں کٹوتیوں کا دعویٰ درست نہیں ہوگا،البتہ ڈیموکریٹس میڈیکیئر کی سہولتوں میں توسیع، ادویات کی قیمتوں میں مزید کمی، ڈینٹل، نظر اور سماعت کی سہولتیں شامل کرنے اور بعض تجاویز کے تحت میڈیکیئر کی اہلیت کی عمر 65 سال سے کم کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں، میڈیکیڈ کی تقریباً 900 ارب ڈالر کی کٹوتیاں واپس لینا ڈیموکریٹس کے لیے ممکن تو ہے، لیکن آسان نہیں،اگر وہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلیں تو 2025 کے بجٹ قانون میں ترمیم کرکے میڈیکیڈ کی سابقہ سہولتیں اور وفاقی فنڈنگ بحال کی جاسکتی ہے
واشنگٹن پوسٹ کی 3 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ہیکم جیفریز کی قیادت میں ڈیموکریٹک ارکان ان تجاویز پر کام کر رہے ہیں، تاہم پارٹی کے ترقی پسند اور معتدل دھڑوں میں اس بات پر اتفاق نہیں کہ میڈیکیئر فار آل جیسا وسیع نظام نافذ کیا جائے یا موجودہ افورڈیبل کیئر ایکٹ کو مزید مضبوط بنایا جائے،اصل قانونی رکاوٹ صدر کا اختیار ہے،اگر ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں سے بل منظور بھی کرا لیں تو ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں،اس ویٹو کو ختم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، جس کا حصول موجودہ سیاسی تقسیم میں انتہائی مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے، البتہ بجٹ، حکومتی اخراجات اور لازمی مالیاتی قوانین پر مذاکرات کے ذریعے ڈیموکریٹس کچھ رعایتیں حاصل کر سکتے ہیں،اس لیے وہ صحت کے پروگراموں کی بحالی کی کوشش تو کر سکتے ہیں، مگر صدر کی مخالفت کے باوجود انہیں مکمل طور پر بحال کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتے
امیگریشن کا مسئلہ ڈیموکریٹس کے لیے اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے،انتخابی مہم میں انسانی حقوق، خاندانوں کو جدا نہ کرنے اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے لیے شہریت کا راستہ کھولنے کی بات کی جاتی ہے، لیکن سرحدی سلامتی اور ملک بدری کے معاملے پر پارٹی کے اندر بھی مختلف آرا موجود ہیں،ٹیکساس کے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار جیمز تالاریکو کی 15 اکتوبر کو سی این این کے ایک ٹاؤن ہال پروگرام میں گفتگو اس فرق کی واضح مثال ہے،انہوں نے خود کو بارڈر سکیورٹی ڈیموکریٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرحد کی حفاظت ضروری ہے، امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای کا ادارہ بھی ملک میں موجود ہونا چاہیے اور تشدد کے سنگین جرائم میں ملوث غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کیا جانا چاہیے،تاہم ان کے مطابق آئی سی ای کی توجہ عام خاندانوں، کاروباری افراد اور بچوں کے بجائے منشیات کے کارٹلز اور پرتشدد جرائم پیشہ افراد پر ہونی چاہیے
تالاریکو نے طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک قانونی راستہ بھی تجویز کیا، جس کے تحت انہیں جرمانہ ادا کرنا، سابقہ ٹیکس واجبات پورے کرنا اور انگریزی سیکھنا ہوگی، جس کے بعد انہیں شہریت حاصل کرنے کا موقع دیا جا سکے گا،ان کا مؤقف یہ ہے کہ سرحدی سلامتی اور قانونی امیگریشن اصلاحات ایک ساتھ چل سکتی ہیں،لیکن ان کے بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اب آئی سی ای کو مکمل ختم کرنے یا ہر غیر قانونی تارک وطن کی ملک بدری روکنے پر اتفاق رائے موجود نہیں
اس بحث کو تاریخی تناظر میں دیکھیں تو سابق صدر باراک اوباما کا دور بھی ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم مثال ہے،اوباما نے اپنی انتخابی مہم میں امیگریشن اصلاحات اور تارکین وطن کے لیے بہتر مواقع کی حمایت کی تھی، لیکن ان کے دور میں بھی بڑے پیمانے پر ملک بدریاں ہوئیں،2014 میں جب ملک بدر کیے جانے والے تارکین وطن کی تعداد 2 ملین سے تجاوز کرنے لگی تو نیشنل کونسل آف لا رضا کی سربراہ جینیٹ مورگیا نے اوباما کو ’’ڈیپورٹر اِن چیف‘‘ کا نام دیا تھا،یہ لقب دراصل امیگریشن حقوق کے کارکنوں کی تنقید سے سامنے آیا تھا،مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اوباما انتظامیہ کے دور میں سرکاری ملک بدری کی کارروائیاں تاریخی طور پر بلند سطح پر پہنچیں،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیگریشن کا معاملہ صرف ریپبلکن یا ڈیموکریٹک حکومت تک محدود نہیں بلکہ امریکی سرحدی قوانین، سکیورٹی اور انتظامی اختیارات سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے
اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ آئی سی ای کے بجٹ، حراستی مراکز کے اخراجات، گرفتاریوں کے طریقہ کار اور وفاقی امیگریشن پالیسی کی نگرانی میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کر سکتے ہیں،وہ انتظامیہ سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ کن بنیادوں پر لوگوں کو گرفتار اور ملک بدر کیا جا رہا ہے،لیکن آئی سی ای کی کارروائیاں روکنا یا ملک بدری کی پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ان کے اختیار میں نہیں ہوگا، کیونکہ امیگریشن قوانین کے نفاذ اور انتظامی ترجیحات پر صدر اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے وسیع اختیارات موجود ہیں،بروکنگز کے تجزیے کے مطابق کانگریس میں ڈیموکریٹک کامیابی کے باوجود آئی سی ای کی کارروائیوں میں کوئی بڑی تبدیلی یقینی نہیں، البتہ بجٹ اور نگرانی کے اختیارات کے ذریعے دباؤ ضرور بڑھایا جا سکتا ہے
اس تمام سیاسی اور قانونی صورتحال کا سب سے اہم پہلو 2028 کے صدارتی انتخابات ہیں،اگر ڈیموکریٹس 2026 میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو انہیں یہ کامیابی صرف ٹرمپ مخالف ووٹوں کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے اپنی کارکردگی سے ثابت کرنا ہوگی کہ وہ حکومت چلانے اور عام شہریوں کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں،واشنگٹن پوسٹ کی تجزیہ نگار کیرن ٹملٹی نے اپنے 11 اکتوبر کے تجزیے میں سینیٹر ایلیسا سلاٹکن کے حوالے سے خبردار کیا کہ مڈٹرم انتخابات میں کامیابی کو یہ سمجھ لینا غلط ہوگا کہ عوام دوبارہ ڈیموکریٹس کے حامی بن گئے ہیں،اکثر مڈٹرم انتخابات حکمران جماعت کے خلاف احتجاجی ووٹ بھی ہوتے ہیں،سابق کانگریس رکن اسٹیو اسرائیل نے بھی خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی مخالفت کو مہنگائی اور عام شہریوں کے اخراجات جیسے بنیادی مسائل پر توجہ سے زیادہ اہمیت دینا ڈیموکریٹس کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے
بروکنگز کے تجزیہ کاروں کے مطابق نئی کانگریس کو ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی نگرانی اور تحقیقات کرنا ہوں گی، دوسری طرف بجٹ، حکومتی قرضوں، دفاعی اخراجات اور صحت کے نظام جیسے معاملات پر عملی فیصلے بھی کرنا ہوں گے،اگر ڈیموکریٹس زیادہ وقت تحقیقات اور سیاسی محاذ آرائی میں صرف کرتے ہیں اور مہنگائی، صحت اور رہائش کے اخراجات میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہیں لا پاتے تو 2028 میں ان سے ان کے اپنے انتخابی وعدوں کا حساب مانگا جا سکتا ہے
یوں 2026 کے انتخابات ڈیموکریٹس کے لیے صرف کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ نہیں بلکہ 2028 کی صدارتی سیاست کی بنیاد رکھنے کا موقع بھی ہیں،انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صرف ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ ان کے پاس متبادل حکومت چلانے کا قابلِ عمل منصوبہ بھی موجود ہے،اگر وہ یہ امتحان پورا نہ کر سکے تو موجودہ انتخابی کامیابی بھی 2028 میں ان کے لیے سیاسی مشکلات ختم نہیں کر سکے گی، مذکورہ تجزیے اور تحقیق میں مندرجہ ذیل میڈیا اور اداروں کی ریسرچ سے مدد لی گئی
رائٹرز، 25 اکتوبر 2026
بروکنگز انسٹی ٹیوشن، 2026 کے مڈٹرم انتخابات کے اثرات
واشنگٹن پوسٹ، 11 اکتوبر 2026، کیرن ٹملٹی
واشنگٹن پوسٹ، 3 ستمبر 2026، صحت اور میڈیکیئر تجاویز
کانگریشنل بجٹ آفس اور کانگریشنل ریسرچ سروس
جیمز تالاریکو کا امیگریشن پر ٹاؤن ہال بیان:
مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ، اوباما دور کی ملک بدریاں





