یورپ کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، رہائش کے بحران، تعلیم کی خراب صورتحال اور عوامی سہولتوں کی کمی کے خلاف احتجاجی مظاہروں نے پرتشدد صورت اختیار کر لی ہے جرمنی، فرانس اور پرتگال میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، آنسو گیس استعمال کی گئی، دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے جبکہ پرتگال میں پولیس نے احتجاجی کیمپ بھی ختم کرا دیے
جرمنی میں نوجوانوں کی تنظیم ’’جن زی ریگلت‘‘ کے زیر اہتمام 34 شہروں میں مظاہرے کیے گئے، جن میں برلن اور میونخ جیسے بڑے شہر بھی شامل تھے۔ ان مظاہروں میں دسیوں ہزار افراد نے شرکت کی احتجاج کرنے والے نوجوان لازمی فوجی سروس کی مخالفت کر رہے ہیں اور حکومت سے تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث نوجوان نسل کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے
جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں ہفتے کی رات مظاہروں کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے نقاب پوش افراد نے کم از کم 2 دکانوں میں لوٹ مار کی جبکہ متعدد کاروباری مراکز کو نقصان پہنچایا گیا ہیمبرگ میں بعض مقامات پر احتجاج کرنے والوں نے رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں آگ لگا دی۔ پولیس نے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی
جرمن حکام کے مطابق بیشتر مظاہرے پُرامن رہے، تاہم انتہا پسند گروہوں کی جانب سے احتجاجی تحریک کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے۔ ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ رومن پوزیک نے خبردار کیا کہ فرانس میں ہونے والے پرتشدد واقعات کو جرمنی کے لیے مثال نہیں بننا چاہیے ان کے مطابق فرانس میں دکانوں کی لوٹ مار، عمارتوں اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگانے اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے واقعات سامنے آ چکے ہیں
پرتگال میں بھی رہائش کے بحران کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے مظاہرین حکومت سے کرایوں سے متعلق مجوزہ قانون واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں اس قانون کے تحت مکان مالکان کے لیے کرایہ داروں کو بے دخل کرنا آسان بنانے اور نئے کرایہ ناموں پر عائد کرایوں کی حد ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے
اتوار کی صبح پولیس نے لزبن کے روسیو اسکوائر میں قائم احتجاجی کیمپ ختم کرانے کے لیے کارروائی کی وہاں 50 سے زیادہ خیمے لگائے گئے تھے۔پولیس نے متعدد مرتبہ مظاہرین کو جگہ خالی کرنے کی وارننگ دی، جس کے بعد درجنوں اہلکاروں نے پولیس کتوں، ڈھالوں اور لاٹھیوں کی مدد سے سیکڑوں مظاہرین کو منتشر کر دیا پورٹو شہر میں بھی ایک چھوٹا احتجاجی کیمپ ختم کرا دیا گیا
پرتگال میں رہائش کا بحران نوجوان نسل کے لیے سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ 2017 کے بعد سے ملک میں مکانوں کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں جبکہ نئے کرایہ ناموں پر کرایوں میں بھی تقریباً دگنا اضافہ ہوا ہے اس صورتحال نے خصوصاً نوجوانوں اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے اپنے گھروں میں رہنا اور کرایہ ادا کرنا مشکل بنا دیا ہے
پرتگال کے وزیراعظم لوئس مونٹی نیگرو نے مجوزہ قانون واپس لینے سے انکار کیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حتمی منظوری سے پہلے اس میں ترامیم پر غور کیا جا سکتا ہے دوسری جانب سوشلسٹ پارٹی کے رہنما جوزے لوئس کارنیرو نے حکومت، حزب اختلاف اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات پر زور دیا ہے
فرانس میں بھی نوجوانوں کی قیادت میں احتجاجی تحریک تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے پیرس سمیت مختلف شہروں میں مظاہروں کے اختتام پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں پیرس میں پولیس نے احتجاج کرنے والے بعض گروہوں کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی جبکہ لیون اور تولوز میں آنسو گیس استعمال کی گئی۔ مارسی میں رات تک کشیدگی میں کمی آ گئی
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ شدید تشدد کے باوجود مجموعی طور پر امن و امان برقرار رکھا گیا تاہم پیرس میں ایک اور سنگین واقعے کے بعد پولیس نے قتل کی کوشش کی تحقیقات شروع کر دی ہیں احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز پر پیٹرول بم پھینکا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 15 پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا حکام کے مطابق تاحال اس واقعے میں کسی مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا اور ذمہ داروں کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں
فرانس میں یہ احتجاج ستمبر کے آخر میں طلبہ کی جانب سے شروع ہوا تھا طلبہ اسکولوں کی خستہ حالی، کلاس رومز میں ضرورت سے زیادہ طلبہ کی موجودگی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے غیر منصفانہ نظام کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے بعد ازاں اس تحریک میں مزدور تنظیمیں اور پیلی جیکٹوں کی تحریک سے وابستہ افراد بھی شامل ہو گئے
پیرس کے مظاہرے میں بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلینشوں نے بھی شرکت کی، جبکہ فرانس میں آئندہ اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل دائیں بازو کی رہنما میرین لے پین کی جماعت بھی سیاسی طور پر سرگرم ہے
یورپ میں نوجوانوں کے ان احتجاجی مظاہروں نے حکومتوں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، مکانوں کی ناقابل برداشت قیمتوں، بے روزگاری اور تعلیم کے مسائل سے دوچار نئی نسل کو کس طرح مطمئن کیا جائے جرمنی میں فوجی سروس کی مخالفت، پرتگال میں کرایوں کا بحران اور فرانس میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج بظاہر الگ الگ مسائل ہیں، لیکن ان سب کے پیچھے نوجوانوں کی معاشی مشکلات اور مستقبل کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی نمایاں ہے






