امریکہ میں 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات محض کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کی سیاسی جنگ نہیں رہے بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ممکنہ امیدواروں کی ابتدائی آزمائش بھی بن گئے ہیں،پارٹی کے کئی بڑے رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال سے اپنی سیاسی حکمت عملی، انتخابی سرمایہ کاری، ریاستی اثرورسوخ اور عوامی مقبولیت کو مخصوص انتخابی مقابلوں سے وابستہ کر رکھا ہے،ان کے لیے ان انتخابات میں ڈیموکریٹس کی مجموعی کامیابی اہم ہے، لیکن بعض ریاستوں کے نتائج ان کے اپنے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں
ایکسوس کی صحافی ہولی اوٹربائن اور الیکس تھامپسن کی خصوصی رپورٹ کے مطابق نیویارک کی رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو، کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم، کینٹکی کے گورنر اینڈی بیشیئر، جارجیا کے سینیٹر جون اوسوف، سابق نائب صدر کاملا ہیرس اور سابق وزیر ٹرانسپورٹ پیٹ بٹجج نے مختلف انداز میں اپنی سیاسی قسمت ان انتخابات سے جوڑ رکھی ہے،بعض رہنماؤں نے مخصوص امیدواروں پر کروڑوں نہیں بلکہ لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، بعض نے اپنی ریاستوں میں انتخابی طاقت دکھانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ کچھ نے ملک بھر میں درجنوں امیدواروں کی حمایت کرکے کسی ایک انتخابی شکست کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے
نیویارک کی ترقی پسند ڈیموکریٹ رہنما الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کے لیے مشی گن کا سینیٹ انتخاب سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے،انہوں نے ترقی پسند امیدوار عبدالسید کی انتخابی مہم میں 1 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی ہے اور ان کے ساتھ متعدد انتخابی جلسوں میں شرکت بھی کی ہے،اوکاسیو کورٹیز اس وقت اس سوال پر غور کر رہی ہیں کہ 2028 میں صدر کا انتخاب لڑیں یا نیویارک سے سینیٹ کی نشست حاصل کرنے کی کوشش کریں،ان کے لیے عبدالسید کی کامیابی اس دلیل کو مضبوط کر سکتی ہے کہ ترقی پسند سیاست صرف بڑے شہروں اور روایتی ڈیموکریٹک حلقوں تک محدود نہیں بلکہ اہم سوئنگ ریاستوں میں بھی کامیاب ہو سکتی ہے
اوکاسیو کورٹیز نے عبدالسید کی ممکنہ کامیابی کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے امریکہ کا پورا سیاسی حساب کتاب تبدیل ہو سکتا ہے اور ثابت ہوگا کہ کوئی بھی امیدوار کسی بھی ریاست میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے،مشی گن کے ترقی پسند سیاسی حکمت کار بھاوک لاتھیہ کے مطابق عبدالسید کی فتح امریکہ اور دنیا کو یہ پیغام دے گی کہ باصلاحیت، جرات مند اور عوامی مسائل پر توجہ دینے والے ترقی پسند امیدوار انتہائی سخت مقابلے والی ریاستوں میں بھی جیت سکتے ہیں،ان کے بقول اس کامیابی کے 2028 کی صدارتی سیاست پر غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے
اوکاسیو کورٹیز کو صرف عبدالسید کی کامیابی سے فائدہ نہیں ہوگا بلکہ کیلیفورنیا میں ایوان نمائندگان کے امیدوار رینڈی ویلیگاس اور فلوریڈا میں سینیٹ کی امیدوار اینجی نکسن بھی ان کی حمایت یافتہ ترقی پسند امیدوار ہیں،اگر یہ امیدوار بھی اپنے مقابلے جیت جاتے ہیں تو ان کے سیاسی مؤقف کو مزید تقویت ملے گی،اس کے برعکس عبدالسید کی شکست ترقی پسند حلقوں میں یہ سوال پیدا کر سکتی ہے کہ کیا اوکاسیو کورٹیز قومی سطح پر صدارتی انتخاب جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟ اسی وجہ سے ایکسوس کی رپورٹ انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے ان ممکنہ صدارتی امیدواروں میں سب سے زیادہ سیاسی خطرہ مول لینے والی رہنما قرار دیتی ہے
پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو بھی ان انتخابات میں اپنی سیاسی حیثیت کا بڑا امتحان دے رہے ہیں،ان کا مقصد صرف دوبارہ گورنر منتخب ہونا نہیں بلکہ اتنے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کرنا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں کے انتخاب میں ووٹرز انہیں 2028 کے لیے مضبوط ترین امیدواروں میں شمار کریں،شاپیرو اپنی انتظامی کارکردگی اور عملی نتائج پر مبنی سیاست کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں،ان کا سیاسی پیغام یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کو ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو صرف سیاسی نعرے نہ لگائے بلکہ حکومت چلا کر نتائج بھی دکھائے
شاپیرو کے لیے بہترین انتخابی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ری پبلکن امیدوار سٹیسی گیریٹی کو کم از کم 10 پوائنٹس کے فرق سے شکست دیں،اس کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ پنسلوانیا میں ایوان نمائندگان کی نشستوں پر ڈیموکریٹ امیدوار جینیل سٹیلٹن، باب بروکس اور پیج کوگنیٹی بھی ری پبلکن ارکان کو شکست دیں،اگر ان کی انتخابی مقبولیت کا اثر مزید آگے پہنچا اور باب ہاروی بھی ری پبلکن رکن کانگریس برائن فٹزپیٹرک کو ہرانے میں کامیاب ہو گئے تو شاپیرو کی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کہیں زیادہ نمایاں ہوگا
ان کے لیے ایک اور بڑی کامیابی پنسلوانیا کی ریاستی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت قائم ہونا ہوگی،اس طرح کئی دہائیوں بعد ڈیموکریٹس کو ریاست کے گورنر، ایوان نمائندگان اور سینیٹ تینوں پر کنٹرول حاصل ہو سکتا ہے،لیکن اگر شاپیرو 10 پوائنٹس سے کم فرق سے جیتتے ہیں یا ان کی جماعت صرف ایک یا دو کانگریسی نشستیں حاصل کرتی ہے تو 2028 کے لیے ان کی سیاسی تیاری توقعات سے کمزور سمجھی جائے گی
کینٹکی کے گورنر اینڈی بیشیئر نے اپنی سیاسی سرمایہ کاری ایک مختلف انداز میں کی ہے،وہ ڈیموکریٹک گورنرز ایسوسی ایشن کے سربراہ بھی ہیں اور ان کی توجہ اس بات پر ہے کہ ملک بھر میں ڈیموکریٹک پارٹی گورنروں کی اکثریت حاصل کرے،اس مقصد کے لیے ڈیموکریٹس کو مزید دو گورنر نشستیں جیتنے کی ضرورت ہے،بیشیئر خاص طور پر آئیووا، اوہائیو، جارجیا اور نیواڈا کے انتخابات پر نظر رکھے ہوئے ہیں
بیشیئر نے ایکسوس کو بتایا کہ ان کی پوری توجہ گورنروں کے انتخابات پر ہے کیونکہ ان کے نتائج یہ طے کرنے میں مدد دیں گے کہ 2028 کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے لیے کن ریاستوں میں کامیابی ممکن ہو سکتی ہے،ان کا کہنا تھا کہ اگر روب سینڈ آئیووا جیت جاتے ہیں تو آئیووا میں ڈیموکریٹس کے لیے صدارتی مقابلہ قابل حصول ہو جائے گا، اسی طرح ایمی ایکٹن کی اوہائیو میں کامیابی اس ریاست کو بھی ڈیموکریٹس کے لیے دوبارہ انتخابی میدان بنا سکتی ہے
تاہم بیشیئر کے لیے ٹیکساس ایک سیاسی مسئلہ بھی بن سکتا ہے،ڈیموکریٹک گورنرز ایسوسی ایشن نے ٹیکساس میں گورنر کی امیدوار جینا ہینوجوسا کی انتخابی مہم میں بڑی مالی سرمایہ کاری کرنے کے مطالبات قبول نہیں کیے تھے،اس فیصلے پر بعض لاطینی نژاد ڈیموکریٹ رہنما ناراض ہیں،اگر ہینوجوسا ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ سے انتہائی معمولی فرق سے ہار جاتی ہیں یا غیر متوقع طور پر کامیاب ہو جاتی ہیں تو بیشیئر کے فیصلے پر سوالات اٹھ سکتے ہیں،اس کا اثر 2028 میں ان کی صدارتی مہم کے دوران لاطینی ووٹرز اور سیاسی رہنماؤں کی حمایت پر بھی پڑ سکتا ہے
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے اپنی سیاسی حکمت عملی میں انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کو مرکزی اہمیت دی ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوسری ریاستوں میں ری پبلکن جماعت کے لیے کانگریس کی مزید نشستیں حاصل کرنے کی کوششوں کے جواب میں نیوزم نے کیلیفورنیا میں بھی انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کے لیے عوامی حمایت حاصل کی،ان کا مقصد اس تبدیلی کے ذریعے ڈیموکریٹس کے لیے ایوان نمائندگان کی پانچ اضافی نشستیں حاصل کرنا اور کانگریس میں ری پبلکن اکثریت ختم کرنے کی کوشش کو کامیاب بنانا ہے
نیوزم کی اس حکمت عملی نے انہیں ملک بھر میں ٹرمپ مخالف اور مزاحمتی سیاست سے وابستہ ڈیموکریٹ حلقوں میں مقبولیت دلائی ہے،لیکن اب ان کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ کیلیفورنیا میں ڈیموکریٹس واقعی پانچ اضافی نشستیں حاصل کر پاتے ہیں یا نہیں،سیاسی حلقوں میں یہ توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ ملک بھر میں ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کی 20 یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کر سکتے ہیں،اگر ایسا ہوتا ہے تو نیوزم کی جانب سے کیلیفورنیا میں کی گئی انتخابی حلقوں کی تبدیلی کا قومی نتائج میں انفرادی کردار اتنا نمایاں نہیں رہے گا جتنا پہلے تصور کیا جا رہا تھا
نیوزم کے لیے ایک دوسرا اہم مسئلہ ارب پتی افراد پر مجوزہ دولت ٹیکس ہے،کیلیفورنیا میں اس تجویز کی حمایت سینیٹر برنی سینڈرز کر رہے ہیں، جبکہ نیوزم اس کے مخالف ہیں،اگر ریاست کے ووٹر اس ٹیکس کی تجویز مسترد کر دیتے ہیں تو نیوزم اسے اپنی سیاسی کامیابی سمجھیں گے،لیکن اگر ووٹر اس کی منظوری دے دیتے ہیں یا ڈیموکریٹس پانچ اضافی کانگریسی نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ریاست کے اندر نیوزم کا سیاسی اثرورسوخ کمزور پڑ سکتا ہے،2028 کی صدارتی دوڑ میں ان کے لیے کیلیفورنیا میں اپنی سیاسی گرفت برقرار رکھنا انتہائی اہم ہوگا
جارجیا کے سینیٹر جون اوسوف کے لیے بھی یہ انتخابات ان کی سیاسی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع ہیں،ان پر طویل عرصے سے یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ انہوں نے 2021 میں سینیٹ کا انتخاب اپنے ساتھی ڈیموکریٹ سینیٹر رافیل وارنک کی انتخابی مقبولیت اور حمایت کے باعث جیتا تھا،اس مرتبہ وارنک انتخابی میدان میں موجود نہیں ہیں، اس لیے اوسوف کو یہ ثابت کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ وہ اپنی ذاتی مقبولیت اور سیاسی طاقت کے بل پر بھی انتخاب جیت سکتے ہیں،سروے انہیں ری پبلکن امیدوار مائیک کولنز پر واضح برتری دکھا رہے ہیں
اوسوف کے لیے ایک بڑی کامیابی یہ بھی ہوگی کہ وہ جارجیا میں ڈیموکریٹک گورنر کی امیدوار کیشا لانس باٹمز کو بھی کامیاب کرا سکیں،اگر باٹمز شکست کھا جاتی ہیں تو اوسوف کے لیے مستقبل میں سینیٹ کی نشست چھوڑ کر صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ جارجیا کے گورنر کو کسی سینیٹر کے مستعفی ہونے کی صورت میں عارضی جانشین مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے،اس طرح اگر اوسوف 2028 میں صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے سینیٹ چھوڑتے ہیں تو ریاست کی سینیٹ کی نشست پر ان کی جماعت کا کنٹرول متاثر ہو سکتا ہے،اوسوف نے خود 2028 میں صدر بننے کے انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں کہا ہے کہ انہیں اس میں بالکل دلچسپی نہیں، تاہم رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ باراک اوباما نے بھی 2008 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے پہلے اسی طرح کے بیانات دیے تھے
سابق نائب صدر کاملا ہیرس نے اپنی سیاسی حکمت عملی میں کسی ایک امیدوار پر تمام سرمایہ کاری کرنے کے بجائے سیاہ فام ووٹرز کی سیاسی طاقت اور کانگریس میں ان کی نمائندگی کو مرکزی اہمیت دی ہے،انہوں نے ری پبلکن جماعت کی جانب سے انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کے خلاف ووٹروں کو متحرک کیا اور سپریم کورٹ کے ووٹنگ رائٹس ایکٹ سے متعلق حالیہ فیصلے کے بعد بھی انتخابی سرگرمیاں جاری رکھیں،اس فیصلے کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے کانگریس میں سیاہ فام نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے
ہیرس کے لیے سب سے اہم بات جنوبی ریاستوں میں سیاہ فام ووٹرز کی بڑی تعداد میں انتخابی شرکت ہوگی،اگر ان ریاستوں میں سیاہ فام ووٹرز بڑی تعداد میں نکلتے ہیں اور سیاہ فام ڈیموکریٹ امیدوار گورنر اور سینیٹ کے انتخابات جیتتے ہیں تو ہیرس کے حامی یہ دلیل دے سکیں گے کہ وہ 2028 میں پارٹی کی بہترین صدارتی امیدوار ہیں،تاہم انہوں نے اپنی سیاسی قسمت کسی ایک امیدوار سے نہیں جوڑی،اس کے باوجود اگر خواتین یا سیاہ فام امیدوار، خصوصاً جارجیا کی کیشا لانس باٹمز، شکست کھا جاتی ہیں تو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر یہ بحث دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے کہ کیا 2028 میں سفید فام مرد کے علاوہ کسی خاتون یا غیر سفید فام امیدوار کے لیے صدارتی انتخاب جیتنا ممکن ہوگا
سابق وزیر ٹرانسپورٹ پیٹ بٹجج نے ان انتخابات میں سب سے مختلف اور نسبتاً کم خطرے والی حکمت عملی اختیار کی ہے،انہوں نے ملک بھر میں 100 سے زیادہ ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت کی اور ان میں سے نصف سے زیادہ کے لیے خود انتخابی مہم میں شرکت کی،اس حکمت عملی کا مقصد انہیں ایک ایسے قومی رہنما کے طور پر پیش کرنا ہے جو مختلف ریاستوں میں انتخابی مہم چلا سکتا ہے، عوام سے رابطہ قائم کر سکتا ہے اور پیچیدہ سیاسی مسائل کو سادہ اور قابل فہم انداز میں بیان کر سکتا ہے
بٹجج کے لیے اس حکمت عملی کا فائدہ یہ ہے کہ انہیں کسی ایک ریاست یا امیدوار کی کامیابی پر انحصار نہیں کرنا پڑتا،وہ ملک بھر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کے ساتھ رابطے اور سیاسی تعلقات قائم کر رہے ہیں،تاہم اس حکمت عملی کا نقصان بھی ہے،اگر ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابیاں نمایاں نہ ہوئیں تو ان کا انتخابی کردار پارٹی کی بڑی سیاسی بحث میں پس منظر میں جا سکتا ہے،ایکسوس کے تجزیے کے مطابق ان کی حکمت عملی میں خطرہ کم ہے، لیکن اس کے ساتھ بڑے سیاسی فائدے کے امکانات بھی محدود ہیں
ان تمام رہنماؤں کی انتخابی حکمت عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی میں 2028 کی صدارتی نامزدگی کی جنگ کے لیے تیاری شروع ہو چکی ہے، اگرچہ ابھی کسی نے باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان نہیں کیا،اوکاسیو کورٹیز ترقی پسند سیاست کی انتخابی طاقت ثابت کرنا چاہتی ہیں، شاپیرو اپنی انتظامی کارکردگی کو قومی سطح پر منوانے کے خواہش مند ہیں، نیوزم ٹرمپ مخالف سیاست اور انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی کو اپنی کامیابی بنانا چاہتے ہیں، جبکہ بیشیئر ملک بھر میں گورنروں کے انتخابی نتائج کے ذریعے اپنی سیاسی حیثیت مضبوط کر رہے ہیں
کاملا ہیرس سیاہ فام ووٹرز کی حمایت اور نمائندگی کو اپنی طاقت سمجھتی ہیں، جون اوسوف جارجیا میں اپنی ذاتی انتخابی صلاحیت ثابت کرنا چاہتے ہیں اور پیٹ بٹجج ملک بھر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اپنا سیاسی نیٹ ورک مضبوط کر رہے ہیں،لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان رہنماؤں کی انتخابی سرمایہ کاری انہیں 2028 میں وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے قابل بنائے گی یا منگل کی رات کے نتائج ان میں سے بعض کے صدارتی خوابوں کو ابتدا ہی میں کمزور کر دیں گے






