Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران امریکہ جنگ کی وجہ تیل کی بڑی کمپنیوں کی چاندی ہوگئی، 6 ماہ میں 130 ارب ڈالر سے زائد منافع، گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تین گنا دولت کمائی

ایران امریکہ جنگ کی وجہ
تیل کی بڑی کمپنیوں کی چاندی ہوگئی، 6 ماہ میں 130 ارب ڈالر سے زائد منافع، گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تین گنا دولت کمائی

دنیا میں جنگ کے باعث تیل اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں، عام صارفین کو پٹرول اور ڈیزل کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑی، لیکن اسی بحران نے تیل کی بڑی کمپنیوں کے لیے اربوں ڈالر کے اضافی منافع کے دروازے کھول دیے ہیں
نیویارک ٹائمز کے 30 اکتوبر 2026 کے تجزیے کے مطابق، امریکہ کی 50 سے زائد بڑی تیل اور گیس کمپنیوں نے اپریل سے ستمبر 2026 کے دوران مجموعی طور پر 130 ارب ڈالر سے زیادہ منافع کمایا,گزشتہ سال انہی 6 مہینوں میں ان کمپنیوں کا منافع 47 ارب ڈالر سے بھی کم تھا,یعنی ایک سال میں منافع تقریباً 2.8 گنا ہوگیا,یہ تخمینہ محتاط ہے، کیونکہ اس میں جنگ کے ابتدائی مہینے مارچ اور اکتوبر کے اعدادوشمار شامل نہیں ہیں
سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ جنگ کے دوران صرف خام تیل نکالنے والی کمپنیوں نے نہیں بلکہ ریفائنریوں نے بھی غیر معمولی منافع کمایا
شیورون (Chevron): امریکی کمپنی کا تیسری سہ ماہی کا خالص منافع 9.9 ارب ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں یہ 3.5 ارب ڈالر تھا,یعنی منافع تقریباً 180 فیصد بڑھ گیا,کمپنی کی ایڈجسٹڈ آمدنی 10.4 ارب ڈالر رہی,اس کی ریفائننگ اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کے شعبے کا منافع 1.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.93 ارب ڈالر ہوگیا
ایکسون موبل (ExxonMobil): دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں میں شامل اس ادارے نے تیسری سہ ماہی میں 15.4 ارب ڈالر خالص منافع کمایا، جبکہ ایڈجسٹڈ منافع 17.5 ارب ڈالر رہا,گزشتہ سال کے مقابلے میں خالص منافع دو گنا سے زیادہ ہوگیا,اس کی ریفائننگ سے متعلق کاروباری سرگرمیوں نے تقریباً 9 ارب ڈالر ایڈجسٹڈ منافع کمایا، جو دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں 120 فیصد زیادہ تھا
ویلرو (Valero): یہ کمپنی بنیادی طور پر خام تیل کو پٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات میں تبدیل کرتی ہے,اس کا منافع گزشتہ سال کے 1.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.8 ارب ڈالر ہوگیا,یعنی چھ گنا سے زیادہ اضافہ
شیل (Shell): برطانوی توانائی کمپنی نے تیسری سہ ماہی میں 12.06 ارب ڈالر منافع کمایا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تقریباً 5.3 ارب ڈالر تھااس طرح منافع دو گنا سے زیادہ ہوگیا
ٹوٹل انرجیز (TotalEnergies)،فرانس کی اس بڑی توانائی کمپنی نے تیسری سہ ماہی میں 8.26 ارب ڈالر منافع کمایا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے
بی پی (BP): برطانوی کمپنی نے 30 اکتوبر کو اعلان کیا کہ اس کا تیسری سہ ماہی کا بنیادی منافع 8.46 ارب ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 2.2 ارب ڈالر تھا،تقریباً چار گنا اضافہ ہوا،کمپنی کا یہ 2008 کے بعد سب سے زیادہ سہ ماہی منافع ہے
بلومبرگ کے مطابق ExxonMobil، Chevron، BP، Shell اور TotalEnergies نے صرف تیسری سہ ماہی میں مجموعی طور پر 56.3 ارب ڈالر ایڈجسٹڈ منافع کمایا
آخر یہ منافع اتنا کیوں بڑھا؟
اس کی بنیادی وجہ ایران جنگ، آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور مشرق وسطیٰ اور روس میں ریفائنریوں کو پہنچنے والا نقصان ہے،دنیا کی تقریباً 10 فیصد ایندھن تیار کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی،نتیجتاً پٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی عالمی رسد کم ہوئی اور کام کرنے والی ریفائنریوں کے منافع میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا
یہاں ایک اہم نکتہ ہے،کمپنیوں نے لازماً تیل کی پیداوار میں اتنا اضافہ نہیں کیا جتنا ان کے منافع میں اضافہ ہوا،بعض کمپنیوں نے تقریباً اتنی ہی مصنوعات فروخت کرکے زیادہ منافع کمایا، کیونکہ مارکیٹ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اور ریفائننگ مارجن بڑھ گئے
براؤن یونیورسٹی کے کلائمیٹ سلوشنز لیب کے تجزیے کے مطابق، 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے آغاز سے اکتوبر کے آخری ہفتے تک امریکی شہری پٹرول اور ڈیزل کی اضافی قیمتوں کی مد میں تقریباً 147 ارب ڈالر زیادہ ادا کر چکے تھے،یہ رقم اوسطاً ہر امریکی گھرانے پر 1,100 ڈالر سے زیادہ بنتی ہے
تیل کمپنیوں نے اس اضافی دولت کا ایک حصہ قرضوں کی ادائیگی، نقد ذخائر بڑھانے، شیئر ہولڈرز کو منافع دینے اور اپنے حصص واپس خریدنے کے لیے استعمال کیا،ایک طرف صارفین مہنگے ایندھن کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، دوسری طرف کمپنیوں کے مالی نتائج ریکارڈ سطح پر پہنچ رہے ہیں
یہ بھی واضح رہے کہ 130 ارب ڈالر کا تخمینہ 50 سے زائد امریکی کمپنیوں کا ہے، جبکہ شیل، بی پی اور ٹوٹل انرجیز کے اعدادوشمار عالمی کمپنیوں کے الگ مالی نتائج ہیں،ان اعدادوشمار کو جمع کرکے ایک ہی مجموعی رقم قرار دینا درست نہیں ہوگا
اس پوری کہانی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے،جنگ کی قیمت عام آدمی پٹرول، ڈیزل اور مہنگائی کی صورت میں ادا کر رہا ہے، لیکن اس جنگ سے سب سے زیادہ مالی فائدہ اٹھانے والوں میں دنیا کی تیل کمپنیاں کیوں شامل ہیں؟

قومی خبریں سے مزید