مسیسیپی میں ڈیموکریٹس کی غیر متوقع پیش قدمی، سینیٹ کی ری پبلکن اکثریت کے لیے نیا انتخابی چیلنج
مسیسیپی کی سینیٹ نشست پر ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولم نے ری پبلکن جماعت کے لیے غیر متوقع انتخابی مقابلہ کھڑا کر دیا ہے،یہ وہ ریاست ہے جہاں کئی دہائیوں سے ری پبلکن امیدواروں کو واضح برتری حاصل رہی ہے، لیکن 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند روز پہلے ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم نے اس مقابلے کو قومی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے
اسکاٹ کولم موجودہ ری پبلکن سینیٹر سنڈی ہائیڈ اسمتھ کو چیلنج کر رہے ہیں،ری پبلکن قیادت نے انتخابی مہم میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی میدان میں اتارا ہے،ٹرمپ نے منگل کو ریاست کے شہر کورنتھ میں ہائیڈ اسمتھ کی حمایت میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں اس لیے آئے ہیں کہ سنڈی اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں، لیکن وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے
جلسے میں ریاست کے گورنر ٹیٹ ریوز سمیت کئی نمایاں ری پبلکن رہنما بھی موجود تھے،گورنر نے انتخابات کو اپنی زندگی کا اہم ترین انتخاب قرار دیا،دوسری جانب کولم کی انتخابی مہم کے دفتر میں رضاکار ووٹروں سے رابطوں اور انتخابی سرگرمیوں میں مصروف تھے
تازہ انتخابی سروے بھی اس مقابلے کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں۔ 21 اور 22 اکتوبر کو کیے گئے چینج ریسرچ کے سروے میں سنڈی ہائیڈ اسمتھ کو 43 فیصد اور اسکاٹ کولم کو 40 فیصد حمایت حاصل ہوئی۔ اس سروے میں 842 ممکنہ ووٹروں کی رائے لی گئی تھی
12 سے 14 اکتوبر کے ویج ووڈ پولز سروے میں ہائیڈ اسمتھ 52 فیصد اور کولم 48 فیصد پر تھے،اس سروے میں 511 ممکنہ ووٹر شامل تھے
مختلف پولنگ اداروں کے مجموعی اعدادوشمار میں بھی ہائیڈ اسمتھ کو برتری حاصل ہے، تاہم اس برتری کا حجم طریقۂ کار کے مطابق مختلف ہے،31 اکتوبر کو اپ ڈیٹ ہونے والے پولز میکس کے مطابق ہائیڈ اسمتھ کی اوسط حمایت 45.5 فیصد اور کولم کی 38.6 فیصد ہے، یعنی 6.9 پوائنٹس کا فرق،آن پوائنٹ پولیٹکس کے 22 اکتوبر کے مجموعی جائزے میں یہ فرق 5 پوائنٹس تھا، جہاں ہائیڈ اسمتھ 44 فیصد اور کولم 39 فیصد پر تھے۔
مسیسیپی میں یہ انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کہ ڈیموکریٹس قومی سطح پر سینیٹ میں ری پبلکن اکثریت کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،تاہم موجودہ سروے ابھی تک ہائیڈ اسمتھ کو برتری دکھا رہے ہیں،کولم کی انتخابی مہم کی اصل اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے ایک روایتی ری پبلکن ریاست میں مقابلے کو قومی سیاسی بحث کا حصہ بنا دیا ہے






