Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جو مینجن کا ڈیموکریٹک پارٹی پر تنقیدی حملہ، سوشلسٹ نظریات کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تشویش

جو مینجن کا ڈیموکریٹک پارٹی پر تنقیدی حملہ، سوشلسٹ نظریات کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تشویش

امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا کے سابق ڈیموکریٹ سینیٹر جو مینجن نے اپنی سابق جماعت پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ڈیموکریٹک سوشلسٹوں کا پارٹی میں اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، جبکہ روایتی اور اعتدال پسند ڈیموکریٹ رہنما اس تبدیلی پر خاموش ہیں
مینجن نے شان ہینٹی کے پوڈکاسٹ ’’ہینگ آؤٹ ود شان ہینٹی‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی چھوڑ کر خود کو آزاد امیدوار کے طور پر رجسٹر کرایا
ان کے بقول، ’’ڈیموکریٹک پارٹی لبرل سیاست سے ترقی پسند سیاست اور پھر ڈی ایس اے (ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ) کی طرف بڑھ گئی ہے،یہ رجحان مسلسل آگے جا رہا ہے۔‘‘
مینجن نے مئی 2024 میں ڈیموکریٹک پارٹی چھوڑ کر آزاد حیثیت اختیار کر لی تھی،کانگریس میں اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران وہ متعدد معاملات پر اپنی جماعت کے دوسرے ارکان سے اختلاف کرتے رہے اور اعتدال پسند سیاست دان کے طور پر پہچانے جاتے تھے
پارٹی چھوڑنے کے اعلان میں انہوں نے بائیں اور دائیں بازو دونوں جانب انتہا پسندی پر تنقید کی تھی،ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈیموکریٹک اور ری پبلکن دونوں جماعتوں کو ویسٹ ورجینیا اور امریکہ کے عوام کو نظرانداز کرتے اور جماعتی انتہا پسندی کے باعث جمہوریت کو خطرے میں ڈالتے دیکھا ہے
فاکس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق مینجن نے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں جماعتیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ بنیاد تلاش کرنے اور ملک کو جماعتی مفادات پر ترجیح دینے کے لیے تیار نہیں ہیں
ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اعتدال پسند اور ترقی پسند دھڑوں کے درمیان نظریاتی اختلافات پر بحث جاری ہے،سابق سینیٹر کرسٹن سینیما بھی یہ سوال اٹھا چکی ہیں کہ کیا اعتدال پسند سیاست دانوں کے لیے اب ڈیموکریٹک پارٹی میں جگہ باقی رہ گئی ہے؟
دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے معروف سیاسی مشیر جیمز کارویل نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کی ایوان نمائندگان میں صرف پانچ نشستوں کی اکثریت کے بجائے ری پبلکنز کے ایوان پر کنٹرول کو ترجیح دیں گے، اگر اس طرح ڈیموکریٹس ڈیموکریٹک سوشلسٹ گروپ کے دباؤ اور یرغمالی صورت حال سے بچ سکیں

قومی خبریں سے مزید