Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مغربی صحارا پر روس اور امریکہ آمنے سامنے، سلامتی کونسل میں ایک دوسرے کی قراردادیں ویٹو، اقوام متحدہ کا امن مشن غیر یقینی صورت حال سے دوچار

مغربی صحارا پر روس اور امریکہ آمنے سامنے، سلامتی کونسل میں ایک دوسرے کی قراردادیں ویٹو، اقوام متحدہ کا امن مشن غیر یقینی صورت حال سے دوچار
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مغربی صحارا کے مستقبل پر روس اور امریکہ کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے،دونوں ممالک نے جمعہ کو ایک دوسرے کی پیش کردہ قراردادیں ویٹو کر دیں، جس کے نتیجے میں خطے میں اقوام متحدہ کا امن مشن اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہوگیا ہے
اقوام متحدہ کے امن مشن MINURSO کی موجودہ مدت 31 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے اور اس میں توسیع کے لیے سلامتی کونسل کی منظوری ضروری ہے،کئی دہائیوں سے معمول کے مطابق اس مشن کی مدت میں توسیع ہوتی رہی ہے، لیکن اس مرتبہ روس اور امریکہ کے درمیان اختلافات نے معاملہ پیچیدہ بنا دیا ہے
مغربی صحارا کا بیشتر علاقہ مراکش کے کنٹرول میں ہے، تاہم الجزائر کی حمایت یافتہ پولی ساريو فرنٹ اس علاقے پر اپنا حق جتاتی ہے اور ایک آزاد ریاست کے قیام کی خواہاں ہے،یہ تنازعہ طویل عرصے سے جاری ہے اور اقوام متحدہ کا امن مشن جنگ بندی کی نگرانی اور سیاسی حل کی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے
امریکہ کی تیار کردہ قرارداد میں امن مشن کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کی تجویز تھی، تاہم اس میں مشن کے فوجی حصے کو کم کرنے اور اس کے نام سے ریفرنڈم کا حوالہ ختم کرنے کی تجویز بھی شامل تھی
مراکش کے شاہی محل نے مشن کی مدت میں توسیع نہ ہونے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اہلکاروں اور سازوسامان کو آنے والے دنوں میں مغربی صحارا سے واپس چلے جانا چاہیے،تاہم مراکش نے علاقے میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے
دوسری جانب پولی ساريو فرنٹ کے نمائندے سیدی عمر نے روس کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے امریکی قرارداد کو ویٹو کیا،ان کے مطابق اس قرارداد سے اقوام متحدہ کے امن عمل کی بنیادی بنیادیں ختم ہونے کا خطرہ تھا
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، MINURSO کے تحت اس وقت 155 فوجی اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں اور رواں مالی سال میں اس مشن پر تقریباً 62 ملین ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے
روس اور امریکہ کی جانب سے ایک دوسرے کی قراردادیں مسترد کیے جانے کے بعد مشن کی آئندہ حیثیت اور مغربی صحارا میں امن عمل کا مستقبل ایک بڑے سفارتی سوال کی صورت اختیار کر گیا ہے

قومی خبریں سے مزید