آئی سی ای کی حراست میں شوہر کی ہلاکت پر آواز اٹھانے والی خاتون کو اب امریکہ سے بے دخلی کا سامنا
میری لینڈ میں مقیم ایل سلواڈور سے تعلق رکھنے والی خاتون ویرونیکا رامیرز نے اپنے شوہر کی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی حراست میں ہلاکت کے خلاف آواز اٹھائی تو اب انہیں خود امریکہ سے بے دخلی کی کارروائی کا سامنا ہے
واشنگٹن پوسٹ کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، رامیرز کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکلہ کے خلاف ملک بدری کی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے اپنے شوہر کی حراست میں موت کے بارے میں عوامی سطح پر سوالات اٹھائے اور حکام سے جوابدہی کا مطالبہ کیا
ان کے شوہر جولین کورو چوراتا پیرو سے تعلق رکھنے والے بڑھئی تھے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے امریکہ میں مقیم تھے،انہیں جون میں امیگریشن حکام نے حراست میں لیا تھا اور 29 ستمبر کو ان کی موت واقع ہوگئی
ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق ان کی موت کی وجہ سیپٹک شاک کے باعث دل کا بند ہونا تھی،آئی سی ای کا کہنا تھا کہ عملے نے انہیں طبی ہنگامی حالت میں پایا تھا، تاہم دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریبی ہسپتال میں ان کی آمد کا اندراج دو گھنٹے سے زیادہ تاخیر کے بعد ہوا
رامیرز نے اس سے قبل واشنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ آئی سی ای حکام نے ان کے شوہر کی موت کے بارے میں خاندان کو کوئی واضح تفصیلات فراہم نہیں کیں،انہوں نے کہا تھا کہ ان کا شوہر مجرم نہیں تھا، وہ صرف کام کرنا، ٹیکس ادا کرنا اور اپنے بچوں اور خاندان کے لیے بہتر مستقبل بنانا چاہتا تھا،انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ حکام سچ بتائیں اور اگر اس موت میں ان کا کوئی کردار تھا تو اس کی ذمہ داری قبول کریں
ان کے وکیل میکس شویننگ کے مطابق، جمعہ کو رامیرز کو امیگریشن عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس موصول ہوا،دستاویز کے مطابق، انہیں آئندہ ماہ عدالت میں پیش ہونا ہوگا،یہ نوٹس واشنگٹن پوسٹ میں ان کے شوہر کی موت سے متعلق خبر شائع ہونے کے صرف 3 روز بعد جاری کیا گیا
رامیرز نے 2018 میں امریکہ آمد کے بعد سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی، جسے 2023 میں مسترد کر دیا گیا تھا،ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد سے امیگریشن حکام نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا،وکیل نے نئی کارروائی کو ان کے شوہر کی موت کے بارے میں آواز اٹھانے کا انتقامی ردعمل قرار دیا ہے
رامیرز اور ان کے شوہر میری لینڈ کی پرنس جارجز کاؤنٹی میں اپنی 6 سالہ بیٹی اور رامیرز کے بیٹے کے ساتھ رہتے تھے،ان کے شوہر کی پہلی شادی سے بھی ایک بڑا بیٹا ہے
حراست کے دوران جولین روزانہ فون کرکے اپنے خاندان کو تسلی دیتے تھے،میاں بیوی نے اپنی چھوٹی بیٹی کو والد کی گرفتاری کے بارے میں نہ بتانے کا فیصلہ کیا تھا،جولین اسے کہتے تھے کہ وہ دور کسی جگہ ایک خوبصورت گھر بنانے کے کام میں مصروف ہیں اور جلد واپس آجائیں گے
رامیرز کے مطابق، ان کے شوہر کی موت کے بعد ان کی بیٹی، جو پہلے بہت خوش مزاج اور متحرک تھی، خاموش اور خوف زدہ ہوگئی ہے،انہوں نے کہا کہ بچی اب اکیلے رہ جانے سے ڈرتی ہے
رامیرز نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی بیٹی پہلے ہی بہت کچھ سہہ چکی ہے، وہ اپنے والد کو کھو چکی ہے اور اب اس کے پاس صرف وہی باقی ہیں،انہوں نے سوال کیا کہ آخر ان کے خاندان کو مزید کتنی تکلیف برداشت کرنا پڑے گی
ان کے وکیل نے کہا کہ اچانک ملک بدری کی کارروائی شروع کرنا اور بچوں کو ان کی ماں سے جدا کرنے کی کوشش کرنا اس بات کا انتقامی ردعمل ہے کہ رامیرز نے اپنے شوہر کی موت کے بارے میں سچائی اور جوابدہی کا مطالبہ کیا
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا





