مڈٹرم انتخابات سے قبل عدالت نے انتخابی اہلکاروں کو دھمکانے سے ٹرمپ انتظامیہ کو روک دیا
مڈٹرم انتخابات سے صرف چار روز قبل ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ انتخابی اہلکاروں کو ان ووٹوں کی گنتی کرنے پر فوجداری مقدمات کی دھمکیاں نہ دے جو رجسٹرڈ ووٹروں نے ڈالے ہیں، لیکن جن کی اہلیت پر انتظامیہ نے اعتراض اٹھایا ہے
عدالت کا ہنگامی حکم محکمہ انصاف کو پابند کرتا ہے کہ وہ محض ووٹروں کی مبینہ نااہلی کے الزامات کی بنیاد پر ریاستوں پر ان کے ووٹ مسترد کرنے، بیلٹ روکنے یا ووٹوں کی گنتی بند کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈالے،عدالت نے انتظامیہ کو ان دھمکیوں سے بھی روک دیا ہے جو پہلے ہی انتخابی حکام کو دی جا چکی تھیں
امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹرینا تھامسن نے قرار دیا کہ محکمہ انصاف اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے بظاہر ووٹنگ رائٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے، جو ووٹروں کو دھمکانے سے روکتا ہے،ان محکموں نے انتخابات کے حوالے سے اپنے آئینی اختیارات سے بھی تجاوز کیا ہے
عدالتی حکم کے تحت وفاقی حکومت ریاستوں سے رجسٹرڈ ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کرنے، ان کے بیلٹ روکنے یا ان کے ووٹوں کی گنتی بند کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتی، اگر اس کی واحد بنیاد انتظامیہ کی جانب سے ووٹروں کی اہلیت پر اعتراض ہو
جج نے انتخابی اہلکاروں کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے تاکہ وہ ایسے وفاقی مطالبات مسترد کرنے یا متعلقہ بیلٹ کی گنتی جاری رکھنے پر فوجداری کارروائی کی دھمکیوں کا سامنا نہ کریں
یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے عدالتی محاذ پر ایک اور دھچکا قرار دیا جا رہا ہے،ملک بھر میں وفاقی حکام کی جانب سے انتخابی تحقیقات اور انتخابی عمل کو چیلنج کرنے کی کوششوں میں اضافے کے دوران مختلف عدالتیں خبردار کر رہی ہیں کہ وفاقی دھمکیوں اور تحقیقات کے باعث شہری انتخابی عمل سے دور ہو سکتے ہیں اور قانونی ووٹوں کے ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے





