چین کےڈیم کے مقابل بھارتی منصوبہ، مقامی آبادی کا احتجاج، اروناچل پردیش میں اضافی فوجی تعینات
بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں چین کے آبی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بڑے ڈیم کی تعمیر کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد حکام نے علاقے میں سیکڑوں اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں مقامی قبائلی آبادی کو خدشہ ہے کہ مجوزہ ڈیم کی تعمیر سے ان کے آبائی گاؤں زیر آب آ جائیں گے اور انہیں اپنی زمینوں، گھروں اور روایتی طرز زندگی سے محروم ہونا پڑے گا
گزشتہ ہفتے وادی سیانگ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں پولیس نے آنسو گیس کے گولے برسائے، جبکہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور ایک پولیس اسٹیشن سمیت سرکاری نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کے دفتر کو آگ لگا دی ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 21 افراد گرفتار کیے گئے بعد کی اطلاعات میں گرفتاریوں اور سکیورٹی کی تعیناتی کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے
مجوزہ منصوبے کا نام سیانگ اپر ملٹی پرپز پراجیکٹ ہے، جس کی پیداواری صلاحیت 11,200 میگاواٹ مقرر کی گئی ہے اسے بھارت کا سرکاری ادارہ نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن تیار کرے گا حکومتی مؤقف کے مطابق اس منصوبے کی ایک بڑی وجہ چین کی جانب سے تبت میں دریائے یارلنگ سانگپو پر دنیا کا سب سے بڑا پن بجلی ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے یہ دریا آگے چل کر بھارت میں دریائے سیانگ اور پھر دریائے برہم پتر کہلاتا ہے
بھارتی حکام کو خدشہ ہے کہ چین اپنے بالائی علاقے میں پانی کے بہاؤ پر کنٹرول کے ذریعے بھارت کے لیے مستقبل میں آبی اور سلامتی کے مسائل پیدا کر سکتا ہے اسی خدشے کے پیش نظر بھارت اپنے علاقے میں بڑے ڈیم کی تعمیر کو تزویراتی اہمیت دیتا ہے چین نے دسمبر 2024 میں اپنے بڑے آبی منصوبے کا اعلان کیا تھا
تاہم مقامی آبادی کے لیے یہ منصوبہ قومی سلامتی سے زیادہ ان کی زمین، گھروں اور مستقبل کا مسئلہ بن گیا ہے مقامی قبائلی تنظیم کے نمائندے گیگونگ جیجونگ کے مطابق ڈیم تعمیر ہونے کی صورت میں 27 آبائی گاؤں مکمل طور پر زیر آب آ سکتے ہیں، جبکہ مزید 40 سے 50 گاؤں متاثر ہونے کا خدشہ ہے ان علاقوں میں آباد اَدی قبیلے کے لوگوں کو اپنی آبائی زمینوں، زرعی کھیتوں اور روایتی معاشرتی زندگی سے محرومی کا خوف ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک حکومت منصوبہ منسوخ نہیں کرتی ان کے نزدیک دریا صرف بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ زراعت، باغبانی، مویشیوں اور مقامی معیشت کی بنیاد بھی ہے دوسری جانب ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ منصوبے کی ابتدائی فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کا عمل ابھی حتمی تعمیراتی منظوری کے مترادف نہیں اور متاثرہ خاندانوں سے بات چیت کی جا سکتی ہے
اس تنازعے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ چین کے ممکنہ آبی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا بھارت کو اپنے ہی سرحدی علاقے میں اتنا بڑا منصوبہ تعمیر کرنا چاہیے، جبکہ اس کی قیمت مقامی آبادی کو اپنے گھر اور زمین چھوڑ کر ادا کرنا پڑ سکتی ہے ڈیم کی تعمیر سے پہلے ماحولیاتی اثرات، زلزلے کے خطرات، ممکنہ نقل مکانی اور متاثرہ خاندانوں کی رضامندی جیسے معاملات کا شفاف جائزہ ضروری ہوگا
اروناچل پردیش کے معاملے کو بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا چین اس ریاست کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے ایسے حساس علاقے میں بڑے آبی منصوبوں پر اختلافات مقامی احتجاج کو قومی سلامتی اور دونوں ملکوں کی تزویراتی رقابت سے جوڑ دیتے ہیں
تازہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کی ہیں تاہم اصل چیلنج صرف احتجاج کو روکنا نہیں بلکہ مقامی آبادی کے خدشات کا قابل اعتماد حل تلاش کرنا ہے اگر متاثرہ قبائل کو فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی اور ان کی زمینوں و مستقبل کے تحفظ کی ضمانت نہ ملی تو یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے






