Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار 5 ریاستوں میں ٹرانس جینڈر بچوں کے حقوق پر براہِ راست ووٹنگ، کھیلوں اور طبی علاج پر پابندی کی تجاویز زیرِ غور

امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار 5 ریاستوں میں ٹرانس جینڈر بچوں کے حقوق پر براہِ راست ووٹنگ، کھیلوں اور طبی علاج پر پابندی کی تجاویز زیرِ غور

واشنگٹن: امریکہ کی 5 ریاستوں میں ووٹرز انتخابات کے دوران ایسی تجاویز پر فیصلہ کریں گے جن کا مقصد ٹرانس جینڈر نوجوانوں کے حقوق، لڑکیوں کے اسکولوں کے کھیلوں میں ان کی شرکت اور بچوں کے لیے صنفی تبدیلی سے متعلق طبی علاج کو محدود کرنا ہے، واشنگٹن، کولوراڈو، نیبراسکا، ایریزونا اور میسوری میں پیش کی گئی ان تجاویز کے ذریعے پہلی بار کسی عام انتخاب میں تقریباً 2 کروڑ ووٹروں کو ٹرانس جینڈر بچوں سے متعلق ان معاملات پر براہِ راست رائے دینے کا موقع مل رہا ہے
واشنگٹن ریاست، جہاں ڈیموکریٹس کو مضبوط سیاسی حمایت حاصل ہے، اس قومی بحث کا اہم مرکز بن گئی ہے،یہاں بیلٹ پر موجود 2 تجاویز میں ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں کی لڑکیوں کے اسکولوں کے کھیلوں میں شرکت پر پابندی اور والدین کو اسکولوں کے نصاب، بچوں کی ذہنی صحت اور طبی ریکارڈ تک رسائی دینے کے اقدامات شامل ہیں،ان تجاویز کو ایک قدامت پسند نجی سرمایہ کاری کے بڑے سرمایہ کار کی جانب سے بھاری مالی معاونت حاصل ہوئی ہے
واشنگٹن کے شہر کاماس میں ایک ہائی اسکول کی ٹرانس جینڈر طالبہ سخت سکیورٹی کے درمیان دوڑ کے مقابلے کی تیاری کر رہی تھی،اس موقع پر نئی مخالفِ ٹرانس جینڈر تجویز کے حامی ’’اب بہت ہو چکا‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے، جبکہ قوسِ قزح کے رنگوں والے لباس میں موجود دوسرے افراد طالبہ کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے،یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹرانس جینڈر حقوق کا معاملہ کس قدر متنازعہ ہو چکا ہے
اس انتخابی مہم میں ریپبلکن امیدواروں نے ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف مؤقف کو اپنی سیاسی تشہیر میں نمایاں جگہ دی ہے،واشنگٹن میں زیرِ غور تجاویز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لڑکیوں کے کھیلوں میں منصفانہ مقابلے کو یقینی بنانا اور والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم اور صحت سے متعلق معلومات تک زیادہ رسائی دینا ہے،دوسری جانب، ان اقدامات کے مخالفین انہیں ٹرانس جینڈر نوجوانوں کے حقوق محدود کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں
واشنگٹن کی ایک تجویز لڑکیوں کے اسکولوں کے کھیلوں میں ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں کی شرکت پر پابندی سے متعلق ہے، جبکہ دوسری تجویز والدین کے لیے نصاب اور بچوں کے خفیہ ذہنی صحت اور طبی ریکارڈ تک رسائی کو وسعت دینے کی کوشش کرتی ہے،ان تجاویز کے اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ ان کی قانونی زبان کس طرح نافذ کی جاتی ہے اور اسکولوں کو کن تقاضوں کا پابند بنایا جاتا ہے
میڈیا رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن میں زیرِ بحث اقدامات میں لڑکیوں کے اسکولوں کے کھیلوں میں حصہ لینے والی طالبات کی جنس کی جانچ کے لیے جسمانی معائنے کی شرط عائد کرنے کا امکان بھی شامل ہے،اس پہلو نے طالبات کی رازداری، جسمانی خودمختاری اور کھیلوں میں شرکت کے ضوابط کے بارے میں مزید سوالات پیدا کیے ہیں
کولوراڈو، نیبراسکا، ایریزونا اور میسوری میں بھی اسی نوعیت کے سوالات ووٹروں کے سامنے رکھے گئے ہیں،اس طرح یہ انتخابات ٹرانس جینڈر نوجوانوں کے حقوق پر عوامی رائے جانچنے کا ایک غیر معمولی موقع بن گئے ہیں، جس کے نتائج مستقبل میں ریاستی قوانین اور اسکولوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
سروے کے مطابق، امریکہ میں اکثریتی رائے ٹرانس جینڈر کھلاڑیوں کی لڑکیوں کے کھیلوں میں شرکت کی مخالفت کرتی ہے،تاہم، ان تجاویز پر ہونے والی بحث صرف کھیلوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں بچوں کے طبی علاج، والدین کے حقوق، رازداری اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں جیسے معاملات بھی شامل ہو گئے ہیں

قومی خبریں سے مزید