کراچی میں بچوں کے کرداروں پر فحش اینیمیشن بنانے والی 3 کمپنیوں کے خلاف کارروائی، نوجوان ڈیزائنرز کو کام کی اصل نوعیت سے بے خبر رکھنے کا انکشاف
پاکستان میں سائبر کرائم کے تحقیقاتی ادارے نے کراچی میں 3 کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ کمپنیاں بچوں جیسے کارٹون کرداروں پر مبنی فحش اینیمیشن تیار کرکے بیرون ملک گاہکوں کو فروخت کرتی تھیں تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کمپنیوں نے نوجوان ڈیجیٹل ڈیزائنرز اور اینیمیشن بنانے والوں کو ملازمت دیتے وقت کام کی اصل نوعیت سے آگاہ نہیں کیا تھا
قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کے مطابق 23 اکتوبر کو ان کمپنیوں کے مالکان، شراکت داروں اور ملازمین کو گرفتار کیا گیا ادارے کا الزام ہے کہ ملزمان ڈیجیٹل طریقوں سے عام کارٹون کرداروں کو تبدیل کرکے انہیں برہنہ اور جنسی نوعیت کے مناظر میں دکھاتے تھے اور اس مواد کے ذریعے غیر قانونی مالی فائدہ حاصل کرتے تھے
تحقیقاتی ادارے کے ایک ذریعے کے مطابق کمپنیوں نے گرافک ڈیزائنرز سے ڈیجیٹل ذرائع اور دوسرے رابطوں کے ذریعے ملازمت کے لیے رابطہ کیا۔ نوجوانوں کو ابتدا میں کام کی اصل نوعیت نہیں بتائی گئی اور ملازمت شروع کرنے کے بعد انہیں اس کا علم ہوا ان میں سے بیشتر کو ماہانہ 25,000 سے 40,000 روپے تنخواہ دی جاتی تھی
تفتیشی ذریعے کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوچھ گچھ میں معلوم ہوا کہ ان کمپنیوں میں ڈیجیٹل ڈیزائننگ کے سافٹ ویئر استعمال کرکے بچوں جیسے فرضی کردار تیار کیے جاتے تھے اور انہیں فحش مناظر میں متحرک کیا جاتا تھا حکام کے مطابق ان اینیمیشنز میں حقیقی بچوں کو استعمال نہیں کیا گیا کمپنیوں کو مبینہ طور پر بیرون ملک گاہکوں سے ایسے منصوبے ملتے تھے جن میں بچوں جیسے کرداروں پر مشتمل جنسی مواد تیار کرنے کا کہا جاتا تھا
گرفتار ملازمین کے بعض وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں میں براہ راست ملوث نہیں تھے بلکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث روزگار حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے تھے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملازمین کے کردار اور ذمہ داریوں کا الگ الگ جائزہ لیا جانا چاہیے تاہم ان کے اس دفاع کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا
ادارے نے ملزمان کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کی دفعات 3، 13 اور 14 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن کا تعلق معلوماتی نظام یا ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی، الیکٹرانک جعل سازی اور الیکٹرانک فراڈ سے ہے مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 109 اور 34 بھی شامل کی گئی ہیں، جو اعانت جرم اور مشترکہ نیت سے متعلق ہیں
یہ معاملہ ڈیجیٹل صنعت میں ملازمت دینے کے طریقہ کار، نوجوان کارکنوں کے تحفظ اور آن لائن فحش مواد کی تیاری کے خلاف قانونی نگرانی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے تاہم اس کیس میں یہ فرق واضح رکھنا ضروری ہے کہ کمپنیوں کے خلاف الزامات تفتیشی ادارے نے عائد کیے ہیں اور ملزمان کا جرم ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہے
اسی دوران کراچی میں سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے نے خود کو فوجی افسر ظاہر کرکے شہریوں سے رقم بٹورنے کے الزام میں 2 افراد کی گرفتاری کا بھی اعلان کیا ادارے کے مطابق ملزمان خود کو اعلیٰ فوجی یا سرکاری افسر ظاہر کرتے اور لوگوں کو تبادلوں، تعیناتیوں اور دوسرے سرکاری کاموں میں مدد دلانے کا جھانسہ دے کر رقم حاصل کرتے تھے۔ ان افراد کے خلاف بھی متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے





