Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

شرومنی اکالی دل اتحاد کے لیے تیار، مگر بی جے پی پنجاب میں فاصلہ کیوں برقرار رکھنا چاہتی ہے؟

شرومنی اکالی دل اتحاد کے لیے تیار، مگر بی جے پی پنجاب میں فاصلہ کیوں برقرار رکھنا چاہتی ہے؟

دہلی:بھارتی ریاست پنجاب میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی اور شرومنی اکالی دل کے درمیان انتخابی اتحاد کی بحالی پر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں، لیکن دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں،اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل نے نظریاتی طور پر ہم آہنگ جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم بی جے پی فی الحال ریاست کی تمام 117 اسمبلی نشستوں پر خود انتخاب لڑنے کی تیاری کا عندیہ دے رہی ہے
دونوں جماعتیں کئی دہائیوں تک اتحادی رہیں، لیکن ستمبر 2020 میں زرعی قوانین کے تنازعہ پر اکالی دل نے قومی جمہوری اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی تھی،اس وقت کسانوں کی تحریک کے دوران بی جے پی کی مرکزی حکومت کے منظور کردہ زرعی قوانین کے خلاف پنجاب میں شدید مخالفت پائی جاتی تھی،بعد میں یہ قوانین واپس لے لیے گئے، مگر دونوں جماعتوں کے تعلقات پہلے جیسی صورت اختیار نہیں کر سکے
اتحاد کی بحالی میں سب سے اہم سوال نشستوں کی تقسیم کا ہے،ماضی میں اکالی دل پنجاب میں بڑا اتحادی تھا اور بی جے پی نسبتاً کم نشستوں پر انتخاب لڑتی تھی،2017 کے اسمبلی انتخابات میں اکالی دل نے 94 اور بی جے پی نے 23 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے،لیکن اب بی جے پی اپنی تنظیمی طاقت اور ووٹوں میں اضافے کی بنیاد پر زیادہ نشستیں چاہ سکتی ہے، جبکہ اکالی دل کے لیے اپنے روایتی حلقوں اور سیاسی حیثیت کو برقرار رکھنا اہم ہوگا
دونوں جماعتوں کی انتخابی پوزیشن بھی بدل چکی ہے،2022 کے پنجاب اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 2 اور اکالی دل نے صرف 3 نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ عام آدمی پارٹی نے 117 میں سے 92 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی،2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی پنجاب کی کوئی نشست نہیں جیت سکی، لیکن اس کا ووٹ شیئر بڑھ کر تقریباً 18 فیصد ہو گیا،اکالی دل ایک نشست جیت سکی اور اس کا ووٹ شیئر تقریباً 13 فیصد رہا،ان نتائج کے بعد بی جے پی کے لیے پرانے اتحاد میں چھوٹے اتحادی کا کردار قبول کرنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو سکتا ہے
ایک اور بنیادی مسئلہ ووٹوں کی منتقلی کا ہے،ماضی میں بی جے پی کو شہری ہندو ووٹروں میں حمایت حاصل تھی، جبکہ اکالی دل سکھ ووٹروں اور دیہی علاقوں میں مضبوط تنظیمی نیٹ ورک رکھتی تھی،دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے لیے مختلف انتخابی حلقوں تک رسائی کا ذریعہ بنتی تھیں،لیکن اب بی جے پی سکھ اکثریتی علاقوں میں بھی اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے اور اکالی دل کو اپنے روایتی ووٹ بینک کے لیے عام آدمی پارٹی، کانگریس اور امرت پال سنگھ سے وابستہ وارث پنجاب دے سمیت دیگر سیاسی قوتوں کا مقابلہ درپیش ہے،اس لیے یہ یقینی نہیں کہ اتحاد ہونے کی صورت میں دونوں جماعتوں کے ووٹر ایک دوسرے کے امیدواروں کو بھی اسی طرح ووٹ دیں گے جیسے ماضی میں دیتے تھے
بی جے پی کے لیے پنجاب میں منشیات کا مسئلہ بھی سیاسی طور پر حساس ہے،مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے عام آدمی پارٹی کی حکومت کو منشیات کے پھیلاؤ پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ بی جے پی 2029 تک اس مسئلے کے خاتمے کے لیے کام کرے گی،لیکن اکالی دل کے بعض رہنماؤں کو بھی منشیات سے متعلق تحقیقات اور الزامات کا سامنا رہا ہے،سابق وزیر بکرم سنگھ مجیٹھیا کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے معاملات میں تحقیقات سیاسی بحث کا حصہ رہی ہیں،ان الزامات اور تحقیقات کی موجودگی میں اکالی دل کے ساتھ اتحاد بی جے پی کی منشیات مخالف مہم کے لیے سوالات پیدا کر سکتا ہے،
22 اکتوبر کو نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے پیش گوئی کی تھی کہ 2027 میں پنجاب میں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت قائم ہوگی،ان کے بیان سے اتحاد کی بحالی کے بارے میں قیاس آرائیوں کو تقویت ملی، تاہم دونوں جماعتوں نے اب تک کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا،پنجاب بی جے پی کی قیادت اس سے قبل واضح کر چکی ہے کہ پارٹی تمام 117 نشستوں پر انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہی ہے
اکالی دل کے لیے بی جے پی کے ساتھ اتحاد انتخابی حمایت اور تنظیمی وسائل تک رسائی کا موقع ہو سکتا ہے، جبکہ بی جے پی کو اکالی دل کے روایتی دیہی نیٹ ورک سے فائدہ پہنچ سکتا ہے،تاہم، نشستوں کی تقسیم، ووٹوں کی منتقلی، سکھ ووٹروں میں دونوں جماعتوں کی بدلتی ہوئی حیثیت اور منشیات کے مسئلے پر سیاسی تنقید ایسے معاملات ہیں جن پر اتفاق کے بغیر اتحاد کی بحالی آسان نہیں ہوگی،فی الحال سکھبیر سنگھ بادل کی آمادگی کے باوجود بی جے پی کی جانب سے تنہا انتخاب لڑنے کی تیاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی گنجائش موجود ہے، مگر سیاسی شرائط پر اتفاق ہونا ابھی باقی ہے
بھارتی پنجاب میں بھی الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران 13 لاکھ 60 ہزار سے زائد ووٹروں کے نام ابھی تک خارج کیے ہیں، جو سابقہ فہرست کے مقابلے میں تقریباً 6.33 فیصد کمی ہے،الیکشن کمیشن کے مطابق یہ کارروائی فوت ہونے والے، مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہونے والے، پتے پر نہ ملنے والے اور دوہری رجسٹریشن رکھنے والے ووٹروں کی نشاندہی کے لیے کی گئی،تاہم، پنجاب اسمبلی نے 23 اکتوبر کو ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے،اس سے پہلے بی جے پی کے رکنِ پارلیمان راگھو چڈھا کا نام بھی مسودہ فہرست میں پنجاب سے منتقل شدہ ووٹر کے طور پر درج ہونے پر تنازعہ کھڑا ہوا تھا،دوسری طرف، نظرثانی کے عمل میں پنجاب کی عام آدمی پارٹی، کانگریس اور شرومنی اکالی دل کے نمائندوں نے ابتدائی طور پر ریاستی سطح پر کارروائی کی تعریف بھی کی تھی، اس لیے تمام خارج شدہ ووٹوں کو دانستہ سیاسی مداخلت کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا

قومی خبریں سے مزید