بھارت: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات کرانے کا اعلان، معطلی کے احکامات واپس، طلبہ نے شرائط مسترد کر دیں
دہلی:بھارت کی جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ نے تقریباً 20 سال بعد طلبہ یونین کے انتخابات کرانے اور احتجاج کے دوران معطل کیے گئے طلبہ کے خلاف تادیبی احکامات واپس لینے کا اعلان کیا ہے، تاہم طلبہ نے حکومتی طرز کی اس یقین دہانی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،طلبہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے یونین کے آئین کی منظوری کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی اور ان کے اس مطالبے کو بھی نظرانداز کیا ہے کہ یونیورسٹی کے پراکٹر مستعفی ہوں
یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے 26 اکتوبر کو جاری کیے گئے حکم نامے کے مطابق، طلبہ یونین کے انتخابات آئین کی منظوری کے 15 دن بعد کرائے جائیں گے،لیکن حکم نامے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آئین کب منظور ہوگا، جس کے باعث انتخابات کی تاریخ اب بھی غیر یقینی ہے،طلبہ کا مؤقف ہے کہ جب تک آئین کی منظوری اور انتخابات کے انعقاد کے لیے واضح وقت مقرر نہیں کیا جاتا، انتظامیہ کا اعلان ان کے بنیادی مطالبے کا مکمل جواب نہیں
انتظامیہ نے احتجاج کے دوران طلبہ کو جاری کیے گئے معطلی کے احکامات اور وجہ بتاؤ نوٹس بھی واپس لینے کا اعلان کیا ہے،اس کے علاوہ احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،تاہم حکم نامے میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف مبینہ ہتک آمیز بیانات، اقدامات اور سوشل میڈیا پوسٹس پر پریس کانفرنس کے ذریعے عوامی معافی مانگیں اور متعلقہ پوسٹس ہٹا دیں،انتظامیہ نے احتجاج فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے
طلبہ نے معافی کی شرط پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے جمہوری حقوق اور طلبہ کی منتخب نمائندگی کی بحالی کے لیے احتجاج کیا ہے اور وہ خود کو مجرم نہیں سمجھتے،ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے مذاکرات کے دوران ان پر دباؤ ڈالا اور جاری کردہ حکم نامہ ان مطالبات کی مکمل عکاسی نہیں کرتا جن پر بات چیت ہوئی تھی،طلبہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک انتظامیہ تمام مطالبات کے بارے میں واضح اور تحریری یقین دہانی نہیں کراتی
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات آخری بار 2005 میں ہوئے تھے، جبکہ منتخب یونین کو 2006 میں تحلیل کر دیا گیا تھا،اس کے بعد سے طلبہ منتخب نمائندہ ادارے کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں،موجودہ احتجاج 12 اکتوبر کو شروع ہوا اور اس میں بھوک ہڑتال بھی شامل ہو گئی،یونیورسٹی انتظامیہ نے کشیدگی کے دوران تمام کلاسیں آن لائن منتقل کر دی تھیں اور بعض تعلیمی سہولتیں بھی بند کر دی تھیں
تازہ حکم نامے سے انتخابات کی بحالی کا راستہ کھلتا دکھائی دیتا ہے، لیکن آئین کی منظوری کے لیے مقررہ مدت نہ ہونے اور پراکٹر کے استعفے سمیت دیگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان تنازعہ برقرار ہے





