Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ انتظامیہ پر امیگریشن ججوں کے فیصلوں میں مداخلت کا الزام، اختلاف کرنے والی جج کو پہلے مقدمات سے ہٹایا، پھر ملازمت سے برطرف کر دیا

ٹرمپ انتظامیہ پر امیگریشن ججوں کے فیصلوں میں مداخلت کا الزام، اختلاف کرنے والی جج کو پہلے مقدمات سے ہٹایا، پھر ملازمت سے برطرف کر دیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے ملک بدری کے مقدمات میں امیگریشن ججوں پر حکومتی مؤقف کے مطابق فیصلے دینے کے لیے دباؤ ڈالا اور اس دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنے والی ایک تجربہ کار جج کو زیرِ حراست تارکینِ وطن کے مقدمات کی سماعت سے ہٹانے کے بعد ملازمت سے بھی برطرف کر دیا،واشنگٹن پوسٹ کی ایک خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، جج کیرن ڈونوسو اسٹیونز نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ انصاف کے اعلیٰ حکام نے ان سے بعض ضمانتی فیصلے واپس لینے کا مطالبہ کیا، جسے انہوں نے عدالتی آزادی میں مداخلت قرار دیا
شمالی ورجینیا کی ایننڈیل امیگریشن کورٹ میں خدمات انجام دینے والی 53 سالہ ڈونوسو اسٹیونز نے 2016 میں جج کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے تقریباً ایک دہائی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی میں استغاثہ کی وکیل کے طور پر کام کیا تھا؟وہ زیرِ حراست تارکینِ وطن کے مقدمات سننے والی تجربہ کار ججوں میں شامل تھیں،رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی دوسری مدت کے پہلے سال میں محکمہ انصاف نے ملک بھر میں تقریباً 700 امیگریشن ججوں میں سے لگ بھگ 100 کو ملازمت سے نکال دیا اور ایسے ججوں کی تقرری شروع کی جنہیں انتظامیہ نے ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے والے جج قرار دیا
تنازعہ ستمبر 2025 میں اس وقت شروع ہوا جب امیگریشن اپیلز بورڈ نے ایک فیصلے میں غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے بعض تارکینِ وطن کے ضمانت پر رہائی کی درخواست دینے کے حق کو محدود کر دیا،ڈونوسو اسٹیونز کے مطابق، اس فیصلے میں ایسے افراد کی صورتِ حال واضح نہیں کی گئی تھی جو کم عمری میں والدین یا سرپرست کے بغیر امریکہ آئے اور بعد میں بالغ ہوئے،انہوں نے قانونی مطالعے اور ساتھی ججوں سے مشاورت کے بعد ایسے چار افراد کو ضمانت دے دی
رپورٹ کے مطابق، اس کے بعد ان کے نگران افسر ایرک ڈِلو نے انہیں فون کرکے ان فیصلوں پر نظرثانی کے لیے کہا،جج کے تحریری نوٹس کے مطابق، ڈِلو نے ابتدا میں ایک وفاقی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا، لیکن بعد میں کہا کہ اعلیٰ حکام چاہتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے خود واپس لے لیں، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے معمول کے قانونی طریقۂ کار کے تحت نظرثانی کی درخواست دائر کرنے سے انکار کیا جا رہا تھا،ڈونوسو اسٹیونز نے اس گفتگو کی تفصیلات اپنے نوٹس میں محفوظ کیں، جن کی واشنگٹن پوسٹ نے ان کے ساتھیوں اور دیگر افراد سے تصدیق کی
جج کے مطابق، نومبر میں ان سے مزید چھ مقدمات میں ضمانت دینے کی وجوہات طلب کی گئیں،ان کا کہنا تھا کہ ان مقدمات میں وفاقی عدالتیں پہلے ہی حکومت کو ضمانتی سماعتیں کرانے کا حکم دے چکی تھیں،جنوری 2026 میں ان کے ایک اور نگران نے انہیں بتایا کہ عدالت کی جانب سے ضمانتی سماعت کا حکم آنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم کو ضمانت بھی دی جائے،ڈونوسو اسٹیونز کے مطابق، انہوں نے جواب دیا کہ اگر کوئی شخص معاشرے کے لیے خطرہ نہیں اور فرار ہونے کا اندیشہ بھی نہیں تو قانون کے مطابق اسے ضمانت ملنی چاہیے
14 جنوری کو ان کے نگران عدالت میں داخل ہوئے اور انہیں زیرِ سماعت مقدمات سے ہٹانے کا حکم دیا،جج نے بتایا کہ انہیں نہ تو سماعت مکمل کرنے دی گئی اور نہ ہی اس کارروائی کے بارے میں عدالت میں موجود وکلا کو تفصیل بتانے کی اجازت دی گئی،انہیں صرف زیرِ حراست تارکینِ وطن کے مقدمات سے ہٹایا گیا، جبکہ بعد میں انہیں دیگر مقدمات دیے گئے،ان کی جگہ آنے والے جج رچرڈ وان ویلڈہوسن نے فروری میں ایک افغان پناہ گزین کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا، جس کے مقدمے پر پہلے ڈونوسو اسٹیونز سماعت کر رہی تھیں
اس افغان شہری نے اپنے ملک میں امریکی کوششوں کی حمایت کی تھی اور 2021 میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے وقت اپنی اہلیہ کے ساتھ فوجی طیارے کے ذریعے افغانستان سے نکلا تھا،امریکی حکام نے بعد میں اسے گرفتار کر لیا،رپورٹ کے مطابق، اس پر کوئی جرم عائد نہیں کیا گیا تھا، تاہم محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ایک غیر دستخط شدہ ایف بی آئی یادداشت پیش کی جس میں دور کے بعض رشتہ داروں کے مبینہ شدت پسند گروہوں سے تعلقات کی بنیاد پر اسے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا تھا،ڈونوسو اسٹیونز کے مقدمے سے ہٹائے جانے کے نو دن بعد اس کی سکیورٹی جانچ مکمل ہوئی، لیکن ان کی جگہ آنے والے جج نے سماعت کیے بغیر اسے افغانستان واپس بھیجنے کا حکم دے دیا
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران ڈونوسو اسٹیونز نے تقریباً 85 فیصد پناہ کی درخواستیں مسترد کی تھیں، جبکہ ان کی جگہ آنے والے جج کے دور میں یہ شرح تقریباً 95 فیصد رہی،سابق امیگریشن ججوں اور قانونی ماہرین نے اس رجحان کو عدالتی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ امیگریشن ججوں کا محکمہ انصاف کے ماتحت ہونا انہیں سیاسی دباؤ سے محفوظ نہیں رکھتا، کیونکہ وہ وفاقی ججوں کے برعکس تاحیات تقرری اور آئینی تحفظات سے محروم ہیں
محکمہ انصاف کے ترجمان نے کہا کہ امیگریشن مقدمات کا فیصلہ قانون اور شواہد کے مطابق غیر جانب داری سے کیا جاتا ہے اور ادارہ کسی خاص نتیجے کا خواہش مند نہیں،تاہم، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، اخبار نے جج کے الزامات کے بارے میں محکمہ انصاف، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی اور رپورٹ میں نامزد متعدد حکام سے سوالات کیے، لیکن کسی نے ان مخصوص الزامات کا براہِ راست جواب نہیں دیا،انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ججوں کی کارکردگی، غیر جانب داری، قانون کی پابندی اور مقدمات نمٹانے کی رفتار کا جائزہ لیا جاتا ہے
ڈونوسو اسٹیونز کو 21 مئی 2026 کو ملازمت سے برطرفی کا نوٹس ملا، حالانکہ ان کے مطابق انہیں اس سے پہلے اپنی کارکردگی کے جائزے میں تسلی بخش درجہ دیا گیا تھا،ان کی برطرفی کی باضابطہ وجہ واضح نہیں کی گئی،انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے،ان کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ کو ججوں کو کسی بھی وجہ سے برطرف کرنے کا غیر محدود اختیار دے دیا گیا تو امیگریشن جج عملی طور پر سیاسی تقرریاں بن کر رہ جائیں گے
امریکی امیگریشن عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 4 ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں تیزی سے نمٹانے کے لیے سخت اہداف مقرر کیے ہیں،لیکن قانونی ماہرین کے مطابق، مقدمات جلد نمٹانے کا دباؤ اگر فیصلوں کے نتائج پر اثرانداز ہونے لگے تو اس سے تارکینِ وطن کے منصفانہ سماعت کے حق اور عدالتی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید