ایلون مسک کا یوکرین پر اسٹارلنک کے غلط فوجی استعمال کا الزام، سیٹلائٹ سروس بند کرنے کی تنبیہ، محاذ پر مواصلاتی نظام کی اہمیت بڑھ گئی
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس
کے مالک ایلون مسک نے یوکرین کی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کو روس کے خلاف حملہ آور ڈرون کارروائیوں میں لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کرکے کمپنی کی شرائط کی خلاف ورزی کی مسک کے مطابق اس استعمال کی اجازت دینے والی تکنیکی گنجائش گزشتہ ہفتے بند کر دی گئی ہے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سروس کی شرائط کی خلاف ورزی جاری رہی تو رابطہ منقطع کیا جا سکتا ہے
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین کی فوجی کارروائیوں کے لیے اسٹارلنک اور اس کے فوجی نوعیت کے نظام اسٹارشیلڈ کی اہمیت بڑھ چکی ہے گزشتہ ہفتے ان نظاموں پر رفتار کی پابندیوں اور رابطے میں خلل کے باعث یوکرینی فوج کی بعض کارروائیاں متاثر ہوئیں یوکرین نے 24 اکتوبر کو بتایا کہ دونوں نظاموں کی کارکردگی دوبارہ معمول پر آ گئی ہے، لیکن مسک کے تازہ الزامات نے سروس کے استعمال اور اس پر کنٹرول کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے
مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسٹارلنک ایک شہری مواصلاتی نظام ہے، جسے لوگوں کی ہلاکت کے لیے حملہ آور ہتھیاروں کے ساتھ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ان کے مطابق یوکرینی فوج نے اس نظام کو جارحانہ ڈرون حملوں میں استعمال کیا اور کمپنی نے اس خامی کو دور کر دیا ہے تاہم مسک نے اپنے الزام کی حمایت میں عوامی طور پر ایسی تفصیلات یا شواہد پیش نہیں کیے جن سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ہو سکے
یوکرین نے مسک کے الزام کو چیلنج کیا ہے یوکرینی صدر کے مشیر اور دفاعی ٹیکنالوجی کے ماہر سرہی بیسکرستنوف نے کہا کہ عام اسٹارلنک سروس پر پہلے سے ایسی تکنیکی پابندیاں موجود ہیں جن کی وجہ سے اسے روس کے اندر طویل فاصلے تک حملہ کرنے والے ڈرونز کے لیے استعمال کرنا ممکن نہیں یوکرین کے دفاعی حلقوں کے مطابق ایسے بعض فوجی مشنز کے لیے اسٹارشیلڈ استعمال ہوتا ہے، جو عام اسٹارلنک سے الگ نظام ہے
اسٹارلنک ایک تجارتی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے جسے اسپیس ایکس چلاتی ہے، جبکہ اسٹارشیلڈ فوجی اور سرکاری ضروریات کے لیے تیار کیا گیا نظام ہے جس پر امریکی حکومت کا کنٹرول ہے ان دونوں نظاموں کے فرق نے حالیہ تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ ان کی نگرانی، استعمال کی شرائط اور پابندیاں عائد کرنے کے اختیارات ایک جیسے نہیں ہیں
اس تنازع کا پس منظر اکتوبر کے وسط میں شروع ہونے والی ان پابندیوں سے جڑا ہے جن کے باعث یوکرینی فوج کے بعض سیٹلائٹ رابطوں کی رفتار محدود ہو گئی تھی یوکرین کے حکام کے مطابق رفتار تقریباً 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود ہونے سے تیز رفتار روسی ڈرونز کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے بعض یوکرینی ڈرونز کی کارروائیاں متاثر ہوئیں اور کچھ فوجی مشنز منسوخ کرنا پڑے
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے 24 اکتوبر کو کہا کہ اسٹارلنک اور اسٹارشیلڈ کی رفتار دوبارہ مطلوبہ سطح پر آ گئی ہے یوکرینی وزارت دفاع کے مطابق رابطے کی رفتار 400 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ریکارڈ کی گئی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی رپورٹ سامنے آئی کہ انہوں نے مسک سے یوکرین پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا، تاہم پابندیاں لگانے کے فیصلے کے ذمہ دار کون تھے، اس بارے میں امریکی حکام اور متعلقہ فریقوں کے بیانات میں اختلاف رہا ہے
اسٹارلنک یوکرین کے لیے صرف انٹرنیٹ فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ جنگ کے دوران فوجی رابطوں، معلومات کی ترسیل اور مختلف یونٹوں کے درمیان ہم آہنگی کا اہم حصہ بن چکا ہے روس کے حملوں کے باعث روایتی مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی صورت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ نے یوکرینی فوج کو رابطے برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ اسی لیے اس نظام تک رسائی میں اچانک رکاوٹ فوجی کارروائیوں اور فضائی دفاع دونوں کو متاثر کر سکتی ہے
دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے روسی حکام کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملوں میں روس کے سرحدی شہر بیلگورود میں 2 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے یوکرینی صدر زیلنسکی نے بھی دعویٰ کیا کہ روسی حملوں میں دنیپرو کے علاقے میں 4 افراد ہلاک ہوئے یہ جانی نقصان سے متعلق اعداد و شمار متعلقہ فریقوں کے بیانات پر مبنی ہیں
اس معاملے نے ایک اہم سوال بھی اٹھایا ہے کہ جب کسی نجی کمپنی کی ٹیکنالوجی کسی ملک کی جنگی کارروائیوں کے لیے انتہائی اہم ہو جائے تو اس کے استعمال کی حدود کون طے کرے گا ایک طرف کمپنی اپنے نظام کو شہری مواصلات کے لیے فراہم کرنے اور اس کی شرائط نافذ کرنے کا حق رکھتی ہے، جبکہ دوسری طرف جنگ کے دوران اس سروس پر انحصار کرنے والی فوج کے لیے اچانک پابندیاں عملی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں
یوکرین کے لیے یہ تنازع اس لیے بھی اہم ہے کہ اسٹارلنک تک رسائی صرف ایک تجارتی معاہدے کا معاملہ نہیں رہی بلکہ جنگی دفاعی صلاحیت سے جڑ چکی ہے امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں پہلے ہی فوجی امداد، انٹیلی جنس معلومات اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر اختلافات موجود ہیں ایسے میں سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کی دستیابی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور دفاعی تعلقات کو مزید متاثر کر سکتی ہے
فی الحال بنیادی تنازع یہ ہے کہ آیا یوکرینی فوج نے واقعی اسٹارلنک کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے حملہ آور ڈرون کارروائیوں میں استعمال کیا، جیسا کہ مسک کا الزام ہے، یا عام اسٹارلنک نظام کی تکنیکی پابندیوں کے باعث یہ دعویٰ درست نہیں، جیسا کہ یوکرینی حکام کا مؤقف ہے اس بارے میں آزادانہ تصدیق سامنے آنے تک دونوں بیانات کو الزامات اور جوابی مؤقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے تاہم یہ واضح ہے کہ جدید جنگ میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کردار اب میدان جنگ کی حکمت عملی اور بین الاقوامی تعلقات دونوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے





