Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

چیک جمہوریہ میں سرکاری نشریاتی اداروں کی مالی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہزاروں افراد کا احتجاج

چیک جمہوریہ میں سرکاری نشریاتی اداروں کی مالی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہزاروں افراد کا احتجاج

چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں اتوار کو ہزاروں افراد نے حکومت کے اس منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا جس کے تحت سرکاری نشریاتی اداروں کی مالی معاونت کا موجودہ نظام تبدیل کیا جا رہا ہے،مظاہرین کو خدشہ ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی ادارتی آزادی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں
احتجاج میں شریک افراد کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ تاریخی اولڈ ٹاؤن اسکوائر میں جگہ کم پڑ گئی اور لوگوں کی بڑی تعداد نے قریبی سڑکوں پر جمع ہو کر مظاہرہ کیا،مظاہرین کا غصہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب ارب پتی آندری بابیش کی قیادت میں قائم حکومتی اتحاد نے اچانک پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں اس منصوبے پر کارروائی آگے بڑھا دی
حکومتی اتحاد کے ارکان نے دو روز قبل بحث کے لیے محدود وقت مختص کیا اور اپوزیشن کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیے بغیر مجوزہ قانون کو پارلیمانی کارروائی کے پہلے مرحلے میں منظوری کے لیے پیش کر دیا،ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 36 منٹ پر ہوئی، جس کے بعد مسودے کو قانون سازی کے تین مراحل میں سے پہلی خواندگی میں آگے بڑھانے کی منظوری مل گئی
مظاہرین نے ’’ہم مزید برداشت نہیں کریں گے‘‘، ’’اسے منظور نہیں ہونے دیا جا سکتا‘‘ اور ’’4 بج کر 36 منٹ‘‘ کے نعرے لگائے،جمہوریت کے لیے سرگرم تنظیم ’’ملین مومنٹس فار ڈیموکریسی‘‘ کے اہم منتظم میکولاش منیار نے کہا ہے کہ حکومت حد سے آگے بڑھ چکی ہے اور مظاہرین ملک کو تباہ ہونے نہیں دیں گے،انہوں نے رات گئے ہونے والی کارروائی کو مافیا کے گروہوں یا سوویت پولٹ بیورو کے طرزِ فیصلہ سازی سے تشبیہ دی
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت مجوزہ منصوبہ واپس لے اور بابیش سرکاری نشریاتی اداروں کی آزادی کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں،ان کا مؤقف ہے کہ مالی معاونت کے نظام میں تبدیلی ایسے اداروں کو سیاسی دباؤ کے سامنے کمزور کر سکتی ہے جن کا کام حکومت سمیت تمام طاقتور حلقوں کا آزادانہ احتساب کرنا ہے

قومی خبریں سے مزید