ٹیکساس میں شریعت کے نام پر انتخابی مہم، گورنر ایبٹ کا ڈیموکریٹ حریف پر اسلامی قوانین کی حمایت کا الزام، مسلم آبادی اور امیگریشن سیاست بھی نشانے پر
آسٹن: ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ڈیموکریٹک امیدوار گینا ہینوجوسا پر شریعت کے نفاذ اور مسلمانوں کے لیے مخصوص رہائشی آبادیوں کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں ریاست کے لیے خطرہ قرار دیا ہے،انتخابی مہم کے دوران ان الزامات نے ٹیکساس میں مسلمانوں کے شہری حقوق، مذہبی آزادی، امیگریشن اور ریپبلکن جماعت کی انتخابی حکمت عملی سے متعلق ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ شریعت کے موضوع کو بار بار اٹھا کر ایک مذہبی اقلیت کے بارے میں خوف پیدا کیا جا رہا ہے، جبکہ ایبٹ اور ان کے حامی اسے امریکی آئین، قانون کی بالادستی اور رہائشی امتیاز کی روک تھام کا معاملہ قرار دیتے ہیں
ایبٹ نے اتوار کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہینوجوسا کو کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز، یعنی کیئر، کی حمایت حاصل ہے اور وہ اس حمایت کی وجہ سے شریعت کے قانون اور مسلمانوں کی مخصوص رہائشی آبادیوں کی حامی ہیں،ایبٹ نے کہا کہ ان کی توجہ شریعت کے قانون، شریعت کے نام پر قائم شہروں اور مخصوص رہائشی منصوبوں پر پابندی لگانے پر ہے،ان کی انتخابی مہم نے اسی روز ایک اشتہار بھی جاری کیا جس میں ہینوجوسا کو ٹیکساس کے لیے خطرہ قرار دیا گیا،ایبٹ کی ترجمان کیتھرین فریزیئر نے ان پر سرحدی پالیسیوں، زیادہ ٹیکس اور غیرقانونی تارکین وطن کو سرکاری اخراجات سے صحت کی سہولتیں دینے کی حمایت کا الزام بھی لگایا،
کیئر کی حمایت کا تنازعہ اس قانون سے جڑا ہے جس کے تحت ٹیکساس نے تنظیم اور مسلم برادرہڈ کو غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا،ہینوجوسا نے اس قانون کے خلاف ووٹ دیا تھا،ایبٹ کی انتخابی مہم اس ووٹ اور کیئر ایکشن کی جانب سے ہینوجوسا کی حمایت کو ان کے خلاف استعمال کر رہی ہے،تاہم ٹیکساس کی جانب سے کسی تنظیم کو اس فہرست میں شامل کرنا وفاقی حکومت کی جانب سے اسے باضابطہ غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے مترادف نہیں،کیئر امریکہ کی سب سے بڑی مسلم شہری حقوق کی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے اور اپنے خلاف الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے
یہ تنازعہ محض دو امیدواروں کے درمیان انتخابی بیان بازی تک محدود نہیں،مارچ 2026 میں ٹیکساس کے ریپبلکن قانون سازوں نے شریعت فری ٹیکساس کاکس قائم کیا، جس کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی اور وفاقی آئین کے خلاف کسی متوازی قانونی نظام کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں،کانگریس میں بھی ریپبلکن ارکان نے شریعت فری امریکہ کاکس قائم کیا ہے، جس کے ستر کے قریب مممبربتائے جاتے ہیں ، جو سب کے سب ریپبلکن ہیں،اس موضوع کو ریپبلکن انتخابی سیاست میں نمایاں جگہ ملنے کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف بیان بازی پر بھی بحث تیز ہوئی ہے،ٹیکساس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، مسلمان ریاست کی آبادی کا 2 فیصد سے بھی کم حصہ ہیں، لیکن اس انتخابی دور میں بعض ریپبلکن امیدواروں نے شریعت اور اسلام کے پھیلاؤ کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا ہے
ڈیلس کے قریب مسلمانوں کے لیے منصوبہ بند رہائشی منصوبہ، جسے ابتدا میں ایپک سٹی کہا گیا اور بعد میں دی میڈو کا نام دیا گیا، اس بحث کی نمایاں مثال ہے،ایسٹ پلینو اسلامک سینٹر سے وابستہ اس مجوزہ منصوبے میں ایک ہزار سے زیادہ گھروں اور اپارٹمنٹس، مسجد، مذہبی اسکول، بزرگوں کی رہائش، طبی سہولتوں اور تجارتی مراکز کا تصور پیش کیا گیا تھا،ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ منصوبہ غیرمسلموں کو باہر رکھنے یا شریعت کے تحت ایک متوازی نظام قائم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے،منصوبے کے منتظمین نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ رہائشی سہولتیں تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے کھلی ہوں گی اور منصوبہ ریاستی و وفاقی قوانین کے مطابق چلایا جائے گا
گورنر ایبٹ نے ستمبر 2025 میں ہاؤس بل 4211 پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد ایسے رہائشی منصوبوں میں امتیازی انتظامات اور مبینہ غیرمنصفانہ کاروباری طریقوں کو روکنا بتایا گیا،اس کے بعد منصوبے کو مختلف تحقیقات اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا،جون 2025 میں امریکی محکمہ انصاف نے شہری حقوق کی اپنی تحقیقات کسی الزام یا مقدمے کے بغیر ختم کر دی تھیں، جب منصوبے کے منتظمین نے یقین دہانی کرائی کہ وہاں تمام لوگوں کا خیرمقدم ہوگا،اس کے باوجود ریاستی سطح پر مالی معاملات، رہائشی قوانین اور بنیادی سہولتوں سے متعلق قانونی تنازعات جاری رہے
اپریل 2026 میں ایک ٹریوس کاؤنٹی جج نے ٹیکساس ورک فورس کمیشن کو منصوبے کے منتظمین کے ساتھ کیے گئے منصفانہ رہائش سے متعلق سمجھوتے پر عمل کرنے کا حکم دیا،یہ فیصلہ منصوبے کے منتظمین کے لیے ایک اہم قانونی کامیابی تھا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مقدمات ختم ہو گئے یا منصوبے کو تعمیر کے لیے درکار ہر منظوری مل گئی،ایک الگ مقدمے میں کولن کاؤنٹی کی عدالت نے مارچ 2026 میں متعلقہ میونسپل یوٹیلٹی ڈسٹرکٹ کے خلاف عارضی حکمِ امتناع جاری کیا، جس سے پانی، نکاسیٔ آب اور دوسری بنیادی سہولتوں کے انتظام سے متعلق پیش رفت رک گئی،اس طرح منصوبے کے قانونی معاملات میں مختلف مقدمات کے نتائج ایک دوسرے سے الگ ہیں
مسلمانوں کے لیے مخصوص رہائشی منصوبے پر اعتراضات کا ایک اہم سوال یہ ہے کہ مذہبی برادری کے قریب گھر خریدنے، مسجد کے آس پاس رہنے یا اپنی مذہبی ضروریات کے مطابق کمیونٹی قائم کرنے کی خواہش کہاں تک مذہبی آزادی کا حصہ ہے اور کہاں سے غیرقانونی امتیاز شروع ہوتا ہے؟ امریکی قانون مذہب کی بنیاد پر رہائشی امتیاز کی اجازت نہیں دیتا، لیکن کسی مسجد، مذہبی اسکول یا کمیونٹی مرکز کے قریب رہنے کی خواہش بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہاں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو خارج کیا جا رہا ہے یا ان پر مذہبی قانون نافذ کیا جائے گا،دی میڈو کے منتظمین نے کہا ہے کہ وہ کسی پر شریعت نافذ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے،اس کے برعکس ریاستی حکام نے منصوبے کے بعض انتظامی اور کاروباری پہلوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں
ٹیکساس میں مسلمانوں کی آبادی بھی سیاسی بحث کا اہم پہلو ہے،ہیوسٹن، ڈیلس ،فورٹ ورتھ اور آسٹن سمیت ریاست کے دوسرے بڑے شہری علاقوں میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، عرب، افریقی اور دیگر مسلم برادریاں آباد ہیں،ان میں کاروباری افراد، ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، طلبہ اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری شامل ہیں،ان کے سیاسی رجحانات یکساں نہیں،بعض مسلمان ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں، بعض ریپبلکن جماعت کے قریب ہیں، جبکہ بہت سے ووٹرز معیشت، تعلیم، ٹیکس، امیگریشن، خارجہ پالیسی اور مذہبی آزادی جیسے معاملات کو الگ الگ اہمیت دیتے ہیں،پیو ریسرچ سینٹر کے 2023-24 کے مذہبی جائزے میں بھی امریکی مسلمانوں کے سیاسی رجحانات میں تنوع سامنے آیا تھا، جبکہ امریکہ میں آباد مسلم آبادی کی اکثریت خود کو مذہبی طور پر مسلمان ہونے کے باوجود ماڈرن لبرل اور سیکولر خیالات کی حامی تصور کرتی ہے
ٹیکساس میں مسلم ووٹ کی اہمیت صرف آبادی کے تناسب سے نہیں بلکہ ان علاقوں میں ووٹروں کی تعداد اور مقامی انتخابی مقابلوں سے بھی جڑی ہے جہاں مسلم خاندان کاروبار، تعلیم اور شہری زندگی میں فعال ہیں،ریاست کے بعض علاقوں میں ریپبلکن امیدوار پہلے مسلم برادریوں سے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن شریعت اور مذہبی شناخت پر بڑھتی ہوئی بیان بازی نے بعض مسلم رہنماؤں میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ ان کی برادری کو سیاسی فائدے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے،دوسری طرف ریپبلکن امیدواروں کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیوں کا مقصد مذہب پر پابندی نہیں بلکہ امریکی قانون کی بالادستی یقینی بنانا ہے
ہینوجوسا کے خلاف ایبٹ کی مہم میں شریعت کے الزامات کے ساتھ امیگریشن اور ٹیکس کے معاملات بھی شامل ہیں،اس سے انتخابی بحث میں دو الگ موضوعات ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں،ایک طرف سرحدی پالیسی اور غیرقانونی امیگریشن، اور دوسری طرف مسلمان امریکیوں کی مذہبی آزادی اور شہری حیثیت،ناقدین کے مطابق، جب کسی امیدوار کو مسلم تنظیم کی حمایت کی بنیاد پر اسلامی انتہا پسندی سے جوڑا جاتا ہے تو اس سے تنظیم کی پالیسیوں پر تنقید اور پوری مذہبی برادری کو مشکوک بنانے کے درمیان فرق دھندلا سکتا ہے،تاہم کسی امیدوار کی پالیسیوں کا جائزہ اس کے اصل بیانات، ووٹنگ ریکارڈ اور مجوزہ قانون سازی کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس تنظیم کی شناخت کی بنیاد پر جو اس کی حمایت کرتی ہے
ٹیکساس کی سیاست میں شریعت کا سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکی آئین مذہبی آزادی اور ریاست و مذہب کے تعلق سے متعلق واضح اصول رکھتا ہے،مسلمان اپنے مذہبی عقائد کے مطابق عبادت، خیرات، روزمرہ اخلاق اور خاندانی زندگی کے معاملات میں رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن کوئی مذہبی ضابطہ امریکی آئین اور نافذ ریاستی و وفاقی قوانین کی جگہ نہیں لے سکتا،اس بنیادی فرق پر سیاسی اتفاق کے باوجود اس بات پر اختلاف موجود ہے کہ آیا موجودہ قوانین کافی ہیں یا نئی پابندیوں کی ضرورت ہے
گریگ ایبٹ کی مہم اور شریعت فری ٹیکساس کاکس کی سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ مذہبی شناخت اور امیگریشن آئندہ انتخابات میں بھی اہم سیاسی موضوعات رہیں گے،دوسری طرف مسلم شہری حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انتخابی مباحث میں کسی مذہب کے بارے میں خوف پیدا کرنے کے بجائے حقیقی قانونی خلاف ورزیوں، امتیازی سلوک کے شواہد اور ہر شہری کے آئینی حقوق پر توجہ دینی چاہیے،ٹیکساس میں جاری بحث کا اصل امتحان یہی ہے کہ مذہبی آزادی اور قانون کی بالادستی کو سیاسی نعرے بنانے کے بجائے دونوں کو یکساں طور پر کیسے یقینی بنایا جائے





