Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بلوچستان میں سرداری نظام ختم کرنے کی قرارداد پر قبائلی عمائدین کا اعتراض، اسمبلی کا اختیار چیلنج

بلوچستان میں سرداری نظام ختم کرنے کی قرارداد پر قبائلی عمائدین کا اعتراض، اسمبلی کا اختیار چیلنج

کوئٹہ: بلوچستان کے قبائلی عمائدین نے صوبائی اسمبلی میں سرداری اور نوابی نظام ختم کرنے سے متعلق قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض اسمبلی کی قرارداد سے صدیوں پرانا قبائلی نظام ختم نہیں کیا جا سکتا ان کا مؤقف ہے کہ قبائلی سردار روایتی اور موروثی حیثیت رکھتے ہیں اور تنازعات کے حل، جانوں کے تحفظ اور قبائلی جھگڑوں کو بڑھنے سے روکنے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں
اتوار کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواب محمد خان شاہوانی، سردار کمال خان بنگلزئی، سردارزادہ میر اشرف خان ستکزئی، سردار محمد عاصم سرپارہ، سید علی محمد شاہ اور دیگر قبائلی شخصیات نے کہا کہ کسی ایک سردار یا اس کے ساتھی کی غلط کاریوں کی بنیاد پر پورے قبائلی نظام کو ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ان کے مطابق اگر کوئی فرد قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، نہ کہ پورے نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے
قبائلی عمائدین نے دعویٰ کیا کہ روایتی جرگوں اور باہمی رضامندی سے ہونے والے فیصلوں کے ذریعے متعدد تنازعات حل کیے جاتے رہے ہیں اور کئی جھگڑوں کو خونریزی میں تبدیل ہونے سے روکا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ قبائلی نظام میں بعض معاملات کے فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرداری اور نوابی نظام ختم کرنے کی وجوہات واضح کی جائیں اور بتایا جائے کہ اس نظام کو نقصان دہ سمجھنے کی بنیاد کیا ہے ان کے مطابق کسی بڑی تبدیلی سے پہلے قبائلی رہنماؤں کے ساتھ براہ راست بات چیت کی جانی چاہیے
سردار کمال خان بنگلزئی نے بھی اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت روایتی نظام ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے پہلے ایسا مؤثر عدالتی نظام فراہم کرنا ہوگا جہاں عام شہریوں کو فوری، سستا اور قابل رسائی انصاف مل سکے
قبائلی عمائدین نے بلوچستان کی امن و امان کی صورت حال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ صوبے میں سرداروں سمیت کئی نمایاں شخصیات کو کوئٹہ سے باہر آزادانہ نقل و حرکت میں مشکلات کا سامنا ہے ان کا مؤقف تھا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ، امن، بنیادی سہولتیں اور فوری انصاف فراہم کرنا ہے
بلوچستان میں سرداری نظام پر بحث دراصل روایتی قبائلی اختیار اور جدید ریاستی قانون کے درمیان تعلق کا اہم سوال ہے اس نظام کے حامی اسے مقامی تنازعات کے حل اور سماجی ڈھانچے کا حصہ قرار دیتے ہیں، جبکہ اس پر تنقید کرنے والوں کے نزدیک موروثی اختیار، غیر مساوی سماجی تعلقات اور رسمی عدالتی نظام سے باہر فیصلوں کے طریقہ کار پر سوال اٹھانا ضروری ہے
اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ بلوچستان کے شہریوں کو انصاف، تحفظ اور مساوی حقوق کیسے فراہم کیے جائیں کسی بھی اصلاح کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ریاست قانون کی عمل داری مضبوط کرے، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے اور لوگوں کو ایسا عدالتی نظام فراہم کرے جس پر انہیں اعتماد ہو

قومی خبریں سے مزید