میکرون حکومت پر احتجاج کا حق محدود کرنے کا الزام، مظاہروں میں توڑ پھوڑ کے نقصان کی ادائیگی کے لیے متنازع قانون متعارف
فرانس میں صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کو مجوزہ قانون پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جس کے تحت سڑکوں پر مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ سے ہونے والے نقصان کی ادائیگی مظاہرین سے بھی طلب کی جا سکے گی، خواہ انہوں نے خود نقصان نہ پہنچایا ہو،ٹریڈ یونینوں اور حکومت مخالف حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اس قانون سے پُرامن احتجاج کرنے والے شہری بھی مالی ذمہ داری کی زد میں آ سکتے ہیں اور یہ بنیادی جمہوری حق محدود کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے
میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، میکرون حکومت قانون سازی کے عمل کو تیز کر رہی ہے، جبکہ فرانس میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج جاری ہے،ہائی اسکولوں کے طلبہ نے اساتذہ کی غیرحاضری، خستہ حال تعلیمی عمارتوں کی مرمت اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے نظام میں تبدیلیوں کے مطالبات پر متعدد اسکولوں کا راستہ بند کیا،بعدازاں ٹریڈ یونینیں اور حکومت مخالف یلو ویسٹ تحریک کے کارکن بھی احتجاج میں شامل ہو گئے
احتجاج کا دائرہ اب تعلیم کے شعبے سے آگے بڑھ کر مہنگائی، عوامی خدمات اور حکومت کی پالیسیوں سے متعلق وسیع تر ناراضگی تک پھیل گیا ہے،حکام نے حالیہ مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات کے بعد سکیورٹی سخت کر دی ہے اور اجتماعات پر پابندیاں بھی بڑھائی ہیں،ناقدین کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون بے قصور مظاہرین کو دوسروں کی توڑ پھوڑ کا ذمہ دار ٹھہرا سکتا ہے، قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور انتہائی دائیں بازو کی سیاست کو تقویت دے سکتا ہے،دوسری جانب حکومت کے لیے مظاہروں کے دوران املاک کے تحفظ اور تشدد کی روک تھام کا سوال اہم ہے





