سربیا میں طلبہ تحریک کی انتخابی کامیابی، الیگزینڈر ووچیچ کی 12 سالہ حکمرانی ختم ہونے کے آثار
سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک نے تاریخی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ طویل عرصے سے اقتدار میں موجود صدر الیگزینڈر ووچیچ نے ابتدائی نتائج کی بنیاد پر شکست تسلیم کر لی ہے،اس انتخاب کو ملک کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جہاں دو سال سے جاری طلبہ احتجاج نے حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی کو ایک منظم سیاسی تحریک میں تبدیل کر دیا تھا
برطانوی اخبار گارڈین کی 25 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، ووچیچ نے بلغراد میں اپنی جماعت کے مرکزی دفتر میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حتمی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے، لیکن ابتدائی اعداد و شمار سے واضح ہے کہ ان کی جماعت یہ انتخاب ہار چکی ہے اور طلبہ کی انتخابی فہرست کامیاب ہوئی ہے
سربیا کی انتخابی نگرانی کرنے والے اداروں سی ای ایس آئی ڈی اور آئی پی ایس پی ایس کے ابتدائی تخمینے کے مطابق، طلبہ کی حمایت یافتہ انتخابی فہرست کو 250 رکنی پارلیمان میں تقریباً 138 نشستیں ملنے کا امکان تھا، جبکہ ووچیچ کی دائیں بازو کی سربین پروگریسو پارٹی کو تقریباً 104 نشستیں ملنے کی توقع ظاہر کی گئی،باقی نشستیں دوسری جماعتوں میں تقسیم ہونے کا امکان تھا،یہ اعداد و شمار ابتدائی تخمینے تھے، حتمی سرکاری نتائج نہیں
طلبہ کی تحریک نے تقریباً دو برس تک حکومت کے خلاف احتجاج کیا،اس تحریک کو حکومت کی حکمرانی کے طریقۂ کار، بدعنوانی کے الزامات اور ریاستی اداروں کی جواب دہی سے متعلق عوامی غصے نے تقویت دی،احتجاج کے دوران طلبہ نے سیاسی نظام میں تبدیلی اور زیادہ شفاف طرزِ حکمرانی کا مطالبہ کیا، جس کے بعد تحریک نے انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا راستہ اختیار کیا
الیگزینڈر ووچیچ سربیا کی سیاست میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مرکزی شخصیت رہے ہیں،ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے یورپی یونین سے قریبی تعلقات کی کوششوں کے ساتھ روس اور چین سے بھی روابط برقرار رکھے،تاہم ان کی حکومت پر مخالفین اور جمہوریت کے حامیوں کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر دباؤ، سیاسی اداروں پر اثراندازی اور اختیارات کے ارتکاز کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں،حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے
طلبہ کی انتخابی کامیابی، اگر حتمی نتائج میں برقرار رہتی ہے، تو پارلیمان میں حکومت سازی اور ملک کی پالیسیوں میں تبدیلی کا راستہ کھول سکتی ہے،تاہم نئی قیادت کے لیے مختلف سیاسی گروہوں کو ساتھ لے کر چلنا، ریاستی اداروں میں اصلاحات کرنا اور معیشت و خارجہ پالیسی کے اہم معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا بڑا اور کڑا امتحان ہوگا
یہ انتخاب اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں ایک روایتی سیاسی جماعت کے مقابلے میں طلبہ کی تحریک نے عوامی احتجاج کو انتخابی حمایت میں تبدیل کیا،ابتدائی نتائج نے سربیا کی سیاست میں ایک نئے دور کے امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن نئی حکومت کی تشکیل اور اقتدار کی منتقلی کی حتمی صورت سرکاری نتائج اور آئینی مراحل مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی
ابتدائی نتائج کے مطابق طلبہ کی حمایت یافتہ انتخابی فہرست کو 250 رکنی پارلیمان میں تقریباً 138 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ ووچیچ کی سربین پروگریسو پارٹی کو 104 سے 105 نشستیں ملنے کی توقع ہے،تقریباً 65 لاکھ 50 ہزار آبادی والے ملک میں 64 لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ووٹر رجسٹرڈ تھے اور ٹرن آؤٹ تقریباً 67.6 فیصد رہا،سربیا میں دو خودمختار صوبائی حیثیت کے حامل علاقے، وویوڈینا اور کوسووو و میتوہیا، آئینی انتظام میں شامل ہیں، تاہم کوسووو 2008 میں آزادی کا اعلان کر چکا ہے اور سربیا اسے تسلیم نہیں کرتا





