Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان عالمی سیاست میں اہم مگر معاشی مجبوریوں کا شکار کیوں؟

پاکستان عالمی سیاست میں اہم مگر معاشی مجبوریوں کا شکار کیوں؟

پاکستان کی عالمی حیثیت کو سمجھنے کے لیے اسے صرف امریکہ یا چین کا تابع ملک قرار دینا کافی نہیں، بلکہ اس کے جغرافیائی حالات، سلامتی کے خدشات، معاشی مسائل اور عالمی طاقتوں پر انحصار کو بھی دیکھنا ضروری ہے
پاکستان کے بارے میں ایک رائے یہ ہے کہ وہ امریکہ کے مفادات کے مطابق کام کرتا رہا ہے اس رائے کے حامی 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کی قربت، افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف تعاون اور 2001 سے 2013 کے دوران دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کے کردار کو مثال بناتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بڑھتے رابطوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے
دوسری جانب بعض حلقے پاکستان کو چین کے قریب سمجھتے ہیں چین پاکستان اقتصادی راہداری، دفاعی تعاون اور طویل عرصے سے قائم اسٹریٹجک تعلقات اس قربت کی اہم مثالیں ہیں امریکہ اور بھارت میں بعض مبصرین پاکستان کی افغانستان پالیسی اور طالبان کے ساتھ ماضی کے تعلقات کو بھی اس کی خارجہ پالیسی میں تضاد کی دلیل قرار دیتے ہیں
تاہم پاکستان کو مکمل طور پر امریکہ یا چین کا تابع ملک کہنا اس کی پیچیدہ خارجہ پالیسی کی درست عکاسی نہیں کرتا پاکستان نے مختلف ادوار میں اپنے مفادات کے مطابق دونوں بڑی طاقتوں سے تعلقات قائم رکھے ہیں، اگرچہ طاقت کے عالمی توازن میں اس کی اپنی گنجائش محدود رہی ہے
ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی
پاکستان کا ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات پہنچانے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کردار بھی اسی تناظر میں اہم ہے پاکستان نے اس سے پہلے بھی دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں اور مختصر مدت کے امن معاہدے کی کوششوں میں مدد کی تھی
ایسی سفارتی سرگرمیاں پاکستان کو خطے میں اپنا کردار بڑھانے کا موقع دیتی ہیں۔ لیکن سفارتی رابطوں میں سرگرم ہونا اور عالمی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی حقیقی صلاحیت رکھنا دو مختلف باتیں ہیں پاکستان کی کوششوں کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی آمادگی اور خطے میں طاقت کے وسیع تر توازن پر بھی ہے
جغرافیہ اور سلامتی کے خدشات
پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اس کے جغرافیائی حالات کا گہرا اثر ہے ملک کو اپنی سرحدوں کے تحفظ، مشرقی ہمسائے بھارت کے ساتھ کشیدگی اور خطے میں سلامتی کے مسائل کا سامنا رہا ہے ان خدشات کے باعث پاکستان نے مختلف ادوار میں زیادہ طاقتور ممالک کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی
تاہم سلامتی کے یہ خدشات پوری کہانی نہیں بتاتے۔ ریاستی پالیسیوں کے بعض فیصلوں نے خود بھی عدم استحکام میں اضافہ کیا، جبکہ طاقت اور فیصلہ سازی کا بڑا حصہ فوجی اور بیوروکریٹک اداروں کے ہاتھوں میں مرتکز رہنے سے سول اور فوجی قیادت کے درمیان سیاسی کشمکش بھی پیدا ہوتی رہی ہے ملک کے بعض علاقوں میں امن و امان کے مسائل اس صورت حال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں
معاشی کمزوری پاکستان کی سب سے بڑی مجبوری
پاکستان کی عالمی حیثیت کو محدود کرنے والا ایک بنیادی عنصر اس کی معاشی کمزوری ہے۔ 1980 کی دہائی سے ملک کو بار بار ادائیگیوں کے توازن کے بحران، زرمبادلہ کی قلت اور بیرونی مالی معاونت کی ضرورت کا سامنا کرنا پڑا ہے
جب ملکی معیشت اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ڈالر پیدا نہیں کر پاتی تو حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، خلیجی ممالک، امریکہ اور چین جیسے شراکت داروں سے مدد حاصل کرنا پڑتی ہے
خلیجی ممالک سے مالی ذخائر اور امداد حاصل کرنے کے لیے پاکستان نے فوجی تعاون اور افرادی قوت کی فراہمی جیسے ذرائع استعمال کیے امریکہ کے ساتھ تعلقات نے بعض ادوار میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے معاونت حاصل کرنے میں مدد دی، جبکہ چین کی سرمایہ کاری نے بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کو سہارا دیا
لیکن یہ اقدامات اکثر فوری مالی دباؤ کم کرنے تک محدود رہے اگر معیشت کی بنیادی کمزوریاں برقرار رہیں تو بیرونی امداد وقتی سہارا تو فراہم کر سکتی ہے، مگر مستقل معاشی خودمختاری حاصل کرنا مشکل رہتا ہے
پاکستان کے لیے اصل راستہ کیا ہے؟
پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ کس عالمی طاقت کے زیادہ قریب ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی معیشت اور ریاستی اداروں کو کتنا مضبوط بنا سکتا ہے
مستقل معاشی ترقی، برآمدات میں اضافہ، پیداواری صلاحیت کی بہتری، بیرونی قرضوں پر انحصار میں کمی اور فیصلہ سازی میں وسیع تر ادارہ جاتی توازن پاکستان کو عالمی سطح پر زیادہ خودمختار کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں
بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان نہ مکمل طور پر امریکہ کا تابع ہے اور نہ چین کا، لیکن اس کی معاشی کمزوری اسے بار بار طاقتور ممالک کی مدد لینے پر مجبور کرتی ہے جب تک انحصار کی بنیادی وجوہات دور نہیں ہوتیں، سفارتی سرگرمی اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود پاکستان کے لیے عالمی سیاست میں اپنے مفادات کے مطابق آزادانہ فیصلے کرنا مشکل رہے گا

قومی خبریں سے مزید