Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل کے تاریخی انتخابات، نیتن یاہو کی طویل دائیں بازو کی حکمرانی ختم ہونے کا امکان

اسرائیل کے تاریخی انتخابات، نیتن یاہو کی طویل دائیں بازو کی حکمرانی ختم ہونے کا امکان

اسرائیل میں عام انتخابات کو ملک کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے،سات اکتوبر 2023 کو حماس کے زیرِ قیادت حملوں کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں، جن میں ووٹرز نہ صرف حکومت کا انتخاب کریں گے بلکہ اسرائیل کی سیاسی سمت، قومی سلامتی اور جمہوری شناخت کے بارے میں بھی فیصلہ کریں گے
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریباً دو دہائیوں پر محیط دائیں بازو کی حکمرانی کو اس انتخاب میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے،ان کے نمایاں حریف سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ ہیں، جو انتخابات کو اسرائیل کی شناخت، آزاد خیال جمہوریت اور روادار معاشرے کے مستقبل سے جوڑ رہے ہیں
گادی آئزن کوٹ کا مؤقف ہے کہ انتخاب کا معاملہ محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ اس بات کا فیصلہ بھی ہے کہ اسرائیل کس نوعیت کی ریاست بننا چاہتا ہے،دوسری جانب نیتن یاہو نے اپنی انتخابی مہم میں قومی سلامتی کو مرکزی حیثیت دی ہے،ان کا کہنا ہے کہ مخالفین کی کامیابی اسرائیل کو کم محفوظ بنا سکتی ہے
یہ انتخاب ایسے وقت ہو رہا ہے جب سات اکتوبر کے حملوں، غزہ کی جنگ، یرغمالیوں کے معاملے اور اسرائیل کی علاقائی سلامتی سے متعلق فیصلوں نے ملک کی سیاست کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے،نیتن یاہو کی حکومت کو جنگ سے متعلق پالیسیوں، سلامتی کے انتظامات اور سیاسی قیادت کی ذمہ داریوں پر بھی تنقید کا سامنا رہا ہے
میڈیا رپورٹ کے مطابق، انتخابات کا نتیجہ اسرائیل کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کر سکتا ہے،اگر نیتن یاہو کے مخالفین حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ملک میں دائیں بازو کی طویل حکمرانی کے بعد نسبتاً بائیں بازو کی طرف مائل سیاسی اتحاد کے لیے راستہ کھل سکتا ہے،تاہم حکومت کی تبدیلی کا انحصار انتخابی نتائج اور مختلف جماعتوں کے درمیان ممکنہ اتحاد پر ہوگا
اسرائیلی سیاست میں یہ مقابلہ سلامتی اور جمہوری شناخت کے دو مختلف تصورات کے درمیان کشمکش بھی نمایاں کرتا ہے،نیتن یاہو اپنی قیادت کو ملک کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ آئزن کوٹ اور ان کے حامی سیاسی تبدیلی کو اسرائیل کے جمہوری مستقبل کے لیے اہم سمجھتے ہیں،اسی لیے یہ انتخابات صرف اقتدار کی تبدیلی کا مقابلہ نہیں بلکہ اسرائیل کے مستقبل کے بارے میں ایک بنیادی سیاسی امتحان بن گئے ہیں

قومی خبریں سے مزید