Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اونٹاریو میں کل بلدیاتی انتخابات، ٹورنٹو سے مسی ساگا تک میئرز کے اہم مقابلے، رہائش، ٹیکس، ٹرانزٹ اور جرائم بڑے انتخابی موضوعات

اونٹاریو میں کل بلدیاتی انتخابات، ٹورنٹو سے مسی ساگا تک میئرز کے اہم مقابلے، رہائش، ٹیکس، ٹرانزٹ اور جرائم بڑے انتخابی موضوعات

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں پیر 26 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات ہوں گے، جن میں شہری اپنے میئرز، سٹی کونسلرز اور اسکول بورڈ ٹرسٹیز کا انتخاب کریں گے اس بار ٹورنٹو، مسی ساگا، برامپٹن، ہیملٹن، اوٹاوا، اوشاوا، تھنڈر بے اور کیمبرج سمیت مختلف شہروں میں میئر کے مقابلے خاص توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ کہیں موجودہ میئر اپنی کارکردگی کا دفاع کر رہے ہیں، کہیں سابق میئر واپسی کی کوشش میں ہیں اور کہیں نئے امیدوار رہائش کے اخراجات، ٹیکسوں، ٹرانزٹ اور عوامی تحفظ کے مسائل کو انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنا رہے ہیں
ایسوسی ایشن آف میونسپلٹیز آف اونٹاریو کے مطابق صوبے میں 11.8 ملین سے زیادہ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ تقریباً 6,663 امیدوار 2,800 کے قریب منتخب عہدوں کے لیے میدان میں ہیں۔ تاہم ہر شہر میں میئر کے امیدواروں کی تعداد اور انتخابی طریقہ مختلف ہے، اس لیے ووٹروں کو اپنے شہر کی انتخابی ویب سائٹ سے پولنگ اسٹیشن اور دیگر تفصیلات کی تصدیق کرنی چاہیے
ٹورنٹو میں اولیویا چائو اور بریڈ بریڈفورڈ کے درمیان سخت مقابلہ
ٹورنٹو میں موجودہ میئر اولیویا چو کو سٹی کونسلر بریڈ بریڈفورڈ کی جانب سے سخت چیلنج کا سامنا ہے چو نے 2023 کے ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے میئر کا منصب سنبھالا تھا اور اب وہ پہلی مرتبہ مکمل مدت کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ بریڈفورڈ دو مرتبہ سٹی کونسلر منتخب ہو چکے ہیں اور ان کی انتخابی مہم میں شہری سہولتوں، رہائش کے اخراجات اور عوامی تحفظ پر زور دیا گیا ہے
دونوں امیدواروں کے درمیان انتخابی مقابلے میں ٹریفک، مکانات کی قیمتیں، پراپرٹی ٹیکس اور جرائم اہم موضوعات رہے ہیں بریڈفورڈ شہری انتظامیہ میں تبدیلی اور خدمات بہتر بنانے کی بات کرتے ہیں، جبکہ چو اپنے دور حکومت کے اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کا دفاع کر رہی ہیں
انتخاب سے پہلے جاری ہونے والے مختلف سرویز میں دونوں امیدواروں کی حمایت میں فرق نظر آیا۔ 23 اکتوبر کو جاری پولارا سروے میں فیصلہ کر چکے ووٹروں میں چو کو 55 فیصد اور بریڈفورڈ کو 44 فیصد حمایت حاصل تھی۔ اس کے برعکس لائژن اسٹریٹیجیز کے ایک سروے میں بریڈفورڈ 49 فیصد اور چو 47 فیصد پر تھے یہ مختلف سرویز کے نتائج ہیں، حتمی انتخابی نتائج نہیں، اور ان سے مقابلے کی مکمل تصویر اخذ کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔
مسی ساگا میں کیرولین پیرش، بونی کرومبی اور دو سٹی کونسلرز کے درمیان مقابلہ
مسی ساگا کا میئر کا انتخاب اس بار صوبے کے سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے مقابلوں میں شامل ہے موجودہ میئر کیرولین پیرش کے مقابلے میں سابق میئر بونی کرومبی، وارڈ 2 کے کونسلر ایلوِن ٹیجو اور وارڈ 7 کی کونسلر دیپیکا ڈیمرلا میدان میں ہیں میئر کے عہدے کے لیے مجموعی طور پر 14 امیدوار رجسٹرڈ ہیں، لیکن انتخابی مہم کا زیادہ تر مرکز ان 4 امیدواروں پر رہا ہے
پیرش نے 2024 کے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد میئر کا منصب سنبھالا تھا۔ اس سے پہلے وہ طویل عرصے تک سٹی کونسلر اور وفاقی رکن پارلیمنٹ رہ چکی ہیں ان کی مہم میں رہائش کے منصوبوں، ٹرانزٹ، بزرگوں کی سہولتوں اور شہر کے جاری ترقیاتی کاموں کو نمایاں کیا گیا ہے وہ اپنے دور میں شروع کیے گئے اقدامات کو آئندہ مدت میں آگے بڑھانے کی بات کر رہی ہیں
کرومبی 2014 سے 2024 تک تقریباً 10 سال مسی ساگا کی میئر رہیں انہوں نے اونٹاریو لبرل پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے میئر کا منصب چھوڑا تھا، لیکن 2025 کے صوبائی انتخابات میں اسمبلی کی نشست حاصل نہ کر سکیں اب وہ دوبارہ میئر بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کی مہم میں ٹرانزٹ کی توسیع، ٹریفک میں کمی اور ٹورنٹو کی سب وے لائن 2 کو مسی ساگا تک بڑھانے کی تجویز نمایاں رہی ہے
ایلوِن ٹیجو نے پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کو محدود کرنے اور اہل بزرگوں کو ریلیف دینے کی تجاویز پیش کی ہیں ان کا مؤقف ہے کہ شہریوں کو مہنگائی کے دباؤ سے بچانے کے لیے بلدیاتی اخراجات کا بہتر انتظام ضروری ہے دیپیکا ڈیمرلا نے مالی نگرانی، اخراجات کی جانچ اور انتظامی شفافیت پر زور دیا ہے وہ شہر میں ایک آزاد آڈیٹر جنرل مقرر کرنے کی تجویز بھی پیش کر چکی ہیں
مسی ساگا کے انتخاب میں یہ سوال اہم رہا ہے کہ شہر کو موجودہ انتظامیہ کے منصوبے جاری رکھنے چاہییں یا سابق میئر کے تجربے اور متبادل پالیسیوں کی طرف واپس جانا چاہیے ساتھ ہی ٹیکس، رہائش کی تعمیر، ٹرانزٹ اور شہری خدمات کے اخراجات بھی ووٹروں کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
انتخاب سے پہلے سامنے آنے والے ایک سروے میں کرومبی کو 35 فیصد، ٹیجو کو 31 فیصد، پیرش کو 28 فیصد اور ڈیمرلا کو 4 فیصد حمایت حاصل تھی یہ ایک سروے کا نتیجہ ہے، حتمی فیصلہ نہیں مختلف امیدواروں کے درمیان ووٹ تقسیم ہونے کی صورت میں آخری وقت تک ووٹروں کی ترجیحات اہم رہیں گی۔ 
برامپٹن میں موجودہ میئر پیٹرک براؤن تیسری مدت حاصل کرنے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں ان کے مقابلے میں مجموعی طور پر 12 امیدوار رجسٹرڈ ہیں اس مقابلے میں براؤن کی سابقہ کارکردگی، شہر کے ترقیاتی منصوبوں، ٹیکسوں، شفافیت اور شہری انتظامیہ کی جواب دہی پر بحث ہوئی ہے
براؤن کے حامی ان کے دور میں شہر میں ہونے والی ترقی اور شہری منصوبوں کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ ناقدین انتظامی فیصلوں اور جواب دہی کے معاملات پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اکتوبر میں بعض مخالف امیدواروں نے انتخابی مہم کے دوران احتساب سے متعلق ایک عہد نامے پر دستخط کیے، تاہم براؤن اس اجتماع میں شریک نہیں ہوئے اس واقعے کو ان کے مخالفین نے جواب دہی کے مسئلے سے جوڑا، لیکن اس سے بذات خود کسی الزام کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ نہیں ہوتا
برامپٹن میں رہائش کی بڑھتی قیمتیں، سڑکوں اور ٹرانزٹ کی ضروریات، بڑھتی آبادی کے مطابق بنیادی سہولتیں اور شہری بجٹ اہم موضوعات ہیں ووٹروں کے لیے سوال یہ ہے کہ موجودہ انتظامیہ کے منصوبوں کو جاری رکھا جائے یا شہر کے انتظام میں متبادل قیادت کو موقع دیا جائے دیگر امیدواروں کے لیے یہ بھی چیلنج ہے کہ وہ اپنے منصوبوں اور مالی ترجیحات کو واضح طور پر ووٹروں کے سامنے رکھیں
ہیملٹن میں اینڈریا ہوروَتھ اور کینن لومس کے درمیان اہم مقابلہ
ہیملٹن میں موجودہ میئر اینڈریا ہوروَتھ دوسری مدت کے لیے انتخاب لڑ رہی ہیں ان کے مقابلے میں سابق صدر ہیملٹن چیمبر آف کامرس کینن لومس، سٹی کونسلر روب کوپر اور دیگر امیدوار شامل ہیں میئر کے عہدے کے لیے مجموعی طور پر 13 امیدوار میدان میں ہیں
ہوروَتھ نے 2022 کے انتخابات میں لومس کو تقریباً 1,600 ووٹوں سے شکست دی تھی اس بار بھی مالی استطاعت، پراپرٹی ٹیکس، روزگار، رہائش اور عوامی تحفظ مہم کے بڑے موضوعات رہے ہیں
ہیملٹن کی معیشت میں اسٹیل اور صحت کا شعبہ اہم کردار ادا کرتے ہیں اکتوبر کے آغاز میں اسٹیلکو میں 350 ملازمتوں اور ہیلتھ سائنسز میں 413 ملازمتوں کے خاتمے کی خبریں سامنے آئیں، جس سے روزگار اور معاشی تحفظ کا مسئلہ مزید اہم ہو گیا امیدواروں سے پوچھا گیا کہ وہ پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کو کیسے محدود کریں گے اور شہری خدمات کے اخراجات کو کس طرح سنبھالیں گے
شہر میں جرائم، فائرنگ کے واقعات، بے گھر افراد کے لیے رہائش اور بنیادی ڈھانچے کی ضروریات بھی انتخابی مباحثے کا حصہ رہے ہیں بعض امیدواروں نے پولیس اور عوامی تحفظ کے اقدامات پر زور دیا، جبکہ دیگر نے رہائش، سماجی خدمات اور نشے کی لت سے متاثرہ افراد کے لیے مدد بڑھانے کی ضرورت اجاگر کی اصل سوال یہ ہے کہ محدود بلدیاتی وسائل میں ان تمام مسائل کے لیے کتنی رقم مختص کی جا سکتی ہے
اوٹاوا میں مارک سٹکلف کو جیف لائپر کا چیلنج
وفاقی دارالحکومت اوٹاوا میں موجودہ میئر مارک سٹکلف دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں ان کے اہم حریفوں میں سٹی کونسلر جیف لائپر، الیکس لاسن اور نیل سراوناموتو شامل ہیں۔ شہر کے میئر کے لیے مجموعی طور پر 14 امیدوار رجسٹرڈ ہیں
اوٹاوا میں عوامی ٹرانزٹ، لائٹ ریل، سڑکوں کی مرمت، پراپرٹی ٹیکس، بے گھری اور عوامی تحفظ پر تفصیلی بحث ہوئی ہے سٹکلف نے شہری انفراسٹرکچر، پارکوں، فٹ پاتھوں اور سڑکوں میں سرمایہ کاری کو اہم قرار دیا ہے لائپر نے بس سروس بہتر بنانے، سابقہ روٹ تبدیلیوں پر نظرثانی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے اضافی فنڈز مختص کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں
نیل سراوناموتو نے اوٹاوا کے ٹرانزٹ نظام میں بہتری تک کرایہ کم کرنے اور بے گھر افراد کے لیے عارضی رہائش کے متبادل طریقے تجویز کیے ہیں الیکس لاسن نے پراپرٹی ٹیکس کو محدود رکھنے، عوامی تحفظ اور شہری اخراجات کا جائزہ لینے پر زور دیا ہے امیدواروں کے درمیان اس بات پر اختلاف رہا ہے کہ بے گھری اور کھلے عام منشیات کے استعمال جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے پولیسنگ کو ترجیح دی جائے یا رہائش، علاج اور سماجی خدمات کو
اوشاوا میں 9 امیدوار، بے گھری اور شھری تحفظ اہم مسائل
اوشاوا میں موجودہ میئر ڈین کارٹر دوبارہ انتخاب نہیں لڑ رہے، اس لیے شہر کو نیا میئر منتخب کرنا ہوگا میئر کے عہدے کے لیے 9 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں سٹی کونسلرز ٹیٹو ڈانتے ماریپیتری، جم لی اور ڈیرک گبِرسن شامل ہیں
اوشاوا میں بے گھری ایک بڑا مسئلہ ہے ڈرہم ریجن کے اعداد و شمار کے مطابق علاقے میں بے گھر افراد کی تعداد کے حوالے سے شہر کو خاص دباؤ کا سامنا ہے امیدواروں کے لیے چیلنج یہ ہے کہ سستی رہائش، سماجی خدمات اور عوامی تحفظ کی ضروریات کو بلدیاتی بجٹ میں کیسے جگہ دی جائے
انتخاب میں ووٹروں کی شرکت بھی اہم ہوگی۔ 2022 کے بلدیاتی انتخابات میں اوشاوا کے صرف 18.4 فیصد اہل ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا اس بار امیدواروں کے درمیان مقابلے کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ شہری انتخابات میں عوامی شرکت کس حد تک بڑھتی ہے
تھنڈر بے میں 10 امیدوار میئر کے عہدے کے لیے میدان میں
تھنڈر بے میں موجودہ میئر کین بوشکوف دوبارہ انتخاب نہیں لڑ رہے ان کی جگہ لینے کے لیے 10 امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں، جن میں ٹریور گیورٹیوگا، مورین کوموزی، وولکر کروم، پیٹر مارک جان ڈیڈرچ، ڈونلڈ بیکسٹر، شین جج، آلڈو روبیرٹو، پیٹر پنیٹا، وولف گینگ شور اور ڈگ ونسنٹ شامل ہیں
شہر کے لیے بنیادی ڈھانچے کی مالی کمی بڑا مسئلہ ہے دستیاب رپورٹ کے مطابق انفراسٹرکچر کے لیے سالانہ مالی خسارہ 30.6 ملین ڈالر بتایا گیا ہے سڑکوں کی مرمت، ٹریفک، بے گھری اور عوامی تحفظ بھی انتخابی مہم میں نمایاں رہے ہیں بعض امیدواروں نے صوبائی حکومت کی جانب سے دیے گئے مضبوط میئر کے اختیارات پر بھی سوال اٹھائے ہیں
کیمبرج میں جین لِگٹ اور سکاٹ ہیملٹن سمیت 6 امیدوار
کچنر واٹرلو کے قریب واقع شہر کیمبرج میں موجودہ میئر جین لِگٹ دوبارہ انتخاب لڑ رہی ہیں ان کے مقابلے میں سٹی کونسلر سکاٹ ہیملٹن اور دیگر امیدوار شامل ہیں مجموعی طور پر 6 امیدوار میئر کے عہدے کے لیے میدان میں ہیں
کیمبرج میں رہائش، ٹرانزٹ اور لائٹ ریل منصوبے اہم موضوعات ہیں امیدواروں سے یہ پوچھا گیا کہ وہ بڑھتی آبادی کے مطابق ٹرانسپورٹ، مکانات اور شہری سہولتوں کی ضروریات کو کس طرح پورا کریں گے لائٹ ریل سے متعلق منصوبوں کے مستقبل اور شہر کے مختلف علاقوں تک ٹرانزٹ کی رسائی پر بھی بحث ہوئی ہے
اونٹاریو کے بلدیاتی انتخابات میں ووٹروں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ میئر کا انتخاب صرف شخصیت یا انتخابی نعروں کی بنیاد پر نہیں ہوتا میئر اور سٹی کونسل شہر کے بجٹ، پراپرٹی ٹیکس، سڑکوں، پانی، کچرے، مقامی ٹرانزٹ، پارکوں اور متعدد سماجی سہولتوں سے متعلق فیصلے کرتے ہیں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے اختیارات الگ ہیں، لیکن بلدیاتی فیصلے روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں
پیر 26 اکتوبر کو زیادہ تر پولنگ اسٹیشن صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک کھلے رہیں گے، تاہم ووٹ ڈالنے سے پہلے اپنے شہر کی سرکاری انتخابی ویب سائٹ پر مقام اور اوقات کی تصدیق کرنا ضروری ہے ہیملٹن کی سرکاری انتخابی معلومات کے مطابق ووٹر ایک ایسا شناختی دستاویز ساتھ لائیں جس پر نام اور گھر کا پتہ درج ہو دیگر شہروں میں مطلوبہ دستاویزات اور طریقہ کار مختلف ہو سکتے ہیں
اس انتخاب کا نتیجہ اگلے 4 سال کے لیے شہروں کی مالی ترجیحات، رہائش کے منصوبوں، ٹرانزٹ اور عوامی تحفظ کی پالیسیوں کا تعین کرے گا ووٹروں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ امیدواروں کے وعدوں کے ساتھ ان کے مالی منصوبوں، سابقہ کارکردگی اور ان وعدوں پر عمل درآمد کے عملی طریقوں کو بھی سامنے رکھیں

قومی خبریں سے مزید