اوباما کی ٹرمپ پر تنقید، کینیڈا کو ’’دشمن ریاست” کہنے پر طنز، ٹیرف سے امریکی صارفین کی قیمتیں بڑھنے کا انتباہ
امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کینیڈا کے خلاف تجارتی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کینیڈا کو امریکا کی ’’معروف دشمن سلطنت‘‘ قرار دیا اوباما نے کہا کہ کینیڈا تو امریکا کا قریبی پڑوسی ہے، پل پار کرکے چند منٹ میں وہاں پہنچا جا سکتا ہے، لیکن ٹرمپ اسی دوست ملک کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑ رہے ہیں
24 اکتوبر کو ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ کینیڈین عوام نہایت اچھے لوگ ہیں انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کو اداکار مارٹن شارٹ اور میپل سیرپ دیا ان کا یہ بیان اگلے ماہ ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے سامنے آیا ہے، جن میں ٹرمپ کی تجارتی پالیسی بھی اہم انتخابی موضوع بن چکی ہے
اوباما کے مطابق ٹرمپ کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ درآمدی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کرنے سے قیمتیں کم ہونے کے بجائے بڑھیں گی، اور اب یہی صورت حال سامنے آ رہی ہے انہوں نے خاص طور پر مشی گن کی مثال دی، جہاں گاڑیاں بنانے والی صنعت کا کینیڈا کے ساتھ گہرا تعلق ہے دونوں ملکوں کے درمیان گاڑیوں کے پرزوں، خام مال اور تیار شدہ گاڑیوں کی مسلسل آمدورفت ہوتی ہے، اس لیے سرحد پر محصولات بڑھنے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا بوجھ بالآخر خریداروں تک پہنچ سکتا ہے
امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازع گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے ٹرمپ انتظامیہ نے اسٹیل، ایلومینیم، تانبے، لکڑی اور شراب سمیت متعدد کینیڈین مصنوعات پر محصولات عائد کیے اگست 2026 میں تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بعض کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا گیا، جس میں موٹر گاڑیاں بھی شامل تھیں کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ستمبر میں امریکی اقدامات کے جواب میں مساوی مالیت کے جوابی محصولات عائد کیے بعد میں امریکا نے بعض دیگر کینیڈین مصنوعات کی درآمد پر بھی پابندیاں لگائیں
تجارتی جنگ کا اثر صرف دونوں ملکوں کی حکومتوں تک محدود نہیں امریکا اور کینیڈا کی معیشتیں کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں گاڑیوں کی صنعت میں ایک ہی پرزہ تیاری کے مختلف مراحل کے دوران متعدد مرتبہ سرحد عبور کر سکتا ہے ہر مرتبہ اضافی محصول لگنے سے کمپنیوں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گاڑیوں، صنعتی سامان اور دوسری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ رہتا ہے اس کے علاوہ کینیڈا سے امریکا کو برآمدات کرنے والی کمپنیوں کو اپنے کاروباری فیصلوں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے
ٹرمپ نے 23 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہ اکتوبر کے اختتام پر بعض مصنوعات پر عائد 50 فیصد محصولات ختم کریں گے، لیکن اسی دوران درجنوں نئی مصنوعات پر محصولات لگانے کا بھی اعلان کیا۔ نئی فہرست میں کینیڈین کچرا اور سیوریج سے متعلق مصنوعات بھی شامل ہیں اس کے ساتھ ریاست مین کی زرعی صنعت کے لیے کینیڈا سے درآمد ہونے والی بعض مصنوعات کو استثنا دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت بعض شعبوں میں رعایت دے رہی ہے، لیکن مجموعی تجارتی تنازع ابھی حل نہیں ہوا
اوباما کی تنقید کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے وہ ڈیٹرائٹ میں ڈیموکریٹک امیدواروں عبدالسید اور جوسلین بینسن کی حمایت میں انتخابی مہم چلا رہے تھے امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں سیاسی طاقت کا توازن اہم ہوگا ڈیموکریٹک رہنما ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کو مہنگائی اور کاروباری لاگت میں اضافے سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ ریپبلکن انتظامیہ محصولات کو امریکی صنعتوں کے تحفظ اور تجارتی مذاکرات میں دباؤ بڑھانے کے ذریعے کے طور پر پیش کرتی ہے
کینیڈا کے لیے اس تنازع کا تعلق صرف برآمدات اور درآمدات سے نہیں بلکہ معاشی خودمختاری سے بھی ہے مارک کارنی کی حکومت امریکی منڈی پر انحصار کم کرنے اور دوسری عالمی منڈیوں میں کینیڈین مصنوعات کی فروخت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے تاہم امریکا کینیڈا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان طویل تجارتی کشیدگی کا اثر کاروبار، ملازمتوں، سرمایہ کاری اور صارفین کی قوت خرید پر پڑ سکتا ہے
اوباما کا بیان اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ تجارتی جنگ میں سیاسی نعرے اپنی جگہ، لیکن اس کے معاشی اثرات عام شہریوں تک پہنچ سکتے ہیں اگر محصولات کے باعث پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو امریکی صارفین کو مہنگی مصنوعات خریدنا پڑ سکتی ہیں، جبکہ کینیڈین برآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی فروخت اور منافع برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں دونوں ملکوں کے لیے اصل چیلنج ایسا تجارتی حل تلاش کرنا ہے جو صنعتوں اور ملازمتوں کو تحفظ دے اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ بھی کم کرے





