برٹش کولمبیا میں سیاسی تبدیلی، کنزرویٹو پارٹی کی بھاری اکثریت سے کامیابی، ڈیوڈ ایبی مستعفی
کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے 9 سالہ دور حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے عبوری کنزرویٹو رہنما لورنے ڈورکسن کی قیادت میں پارٹی نے صوبائی اسمبلی کی 93 نشستوں میں سے ابتدائی نتائج کے مطابق 64 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ڈیوڈ ایبی کی این ڈی پی 27 نشستوں تک محدود ہو گئی اور گرین پارٹی نے 2 نشستیں جیتیں انتخابی شکست کے بعد ایبی نے پارٹی قیادت چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے
انتخابات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ڈیوڈ ایبی نے مقررہ وقت سے تقریباً 2 سال پہلے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تھا اس وقت کنزرویٹو پارٹی اندرونی اختلافات، قیادت کی تبدیلیوں اور ارکان کی علیحدگی کے باعث مشکلات کا شکار تھی ایبی کو امید تھی کہ قبل از وقت انتخابات کے ذریعے وہ اپنی حکومت کو مضبوط مینڈیٹ دلا سکیں گے، لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا کنزرویٹو پارٹی نے لورنے ڈورکسن کو عبوری رہنما مقرر کیا، جس کے بعد پارٹی کے مختلف دھڑوں کو دوبارہ متحد کرنے کی کوششیں کی گئیں اور انتخابی مہم میں اسے فائدہ حاصل ہوا
ڈورکسن کی کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ برٹش کولمبیا میں کنزرویٹو پارٹی تقریباً ایک صدی سے صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی ابتدائی نتائج میں کنزرویٹو پارٹی کو تقریباً 48 فیصد ووٹ ملے، جبکہ این ڈی پی کو تقریباً 37 فیصد اور گرین پارٹی کو 11 فیصد ووٹ حاصل ہوئے یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ صوبے میں ووٹروں کی قابل ذکر تعداد نے سیاسی تبدیلی کی حمایت کی، اگرچہ انتخابی نتائج کی حتمی تصدیق کے لیے باقی ووٹوں کی گنتی بھی ضروری تھی
نئی حکومت کی معاشی پالیسیوں میں تیل، گیس اور توانائی کے منصوبوں کو خاص اہمیت حاصل ہوگی ڈورکسن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ قدرتی گیس کی مائع شکل، یعنی ایل این جی، کی پیداوار 2032 تک دگنی اور 2035 تک تین گنا کرنے کی کوشش کریں گے انہوں نے توانائی کے شعبے میں ضابطوں اور حکومتی پابندیوں میں کمی اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کا بھی اعلان کیا ہے ان کی پالیسیوں سے توانائی کمپنیوں کو نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع مل سکتے ہیں، لیکن ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کے حقوق کے حوالے سے اختلافات بھی سامنے آ سکتے ہیں
یہ تبدیلی وزیر اعظم مارک کارنی کی وفاقی حکومت کے لیے بھی اہم ہے کارنی کینیڈا کو عالمی توانائی کی بڑی طاقت بنانے اور امریکا پر تجارتی انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں امریکا کی جانب سے محصولات کے باعث کینیڈا اپنی برآمدات کے لیے نئی منڈیوں، خصوصاً ایشیا، تک رسائی بڑھانا چاہتا ہے برٹش کولمبیا کی بحرالکاہل کے ساحل پر موجود جغرافیائی حیثیت تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے اہم ہے ڈورکسن نے البرٹا سے برٹش کولمبیا تک روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل منتقل کرنے کی مجوزہ پائپ لائن کی بھی حمایت کی ہے
تاہم نئی حکومت کو صحت کی سہولتوں، معیشت میں غیر یقینی صورت حال اور جنگلات کی صنعت پر امریکی تجارتی محصولات کے اثرات جیسے مسائل کا سامنا ہوگا اس کے علاوہ مقامی فرسٹ نیشنز برادریوں اور ماحولیاتی تنظیموں کی جانب سے بعض توانائی منصوبوں اور ضابطوں میں نرمی کی مخالفت متوقع ہے اس لیے انتخابی وعدوں کو عملی شکل دینا نئی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا
ڈیوڈ ایبی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابی نتائج کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیاست کے باعث ان کے خاندان نے بہت کچھ برداشت کیا اور اب وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں ایبی اپنی وینکوور پوائنٹ گرے کی نشست جیتنے میں کامیاب رہے، لیکن ان کی پارٹی اب حکومت کے بجائے اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی
اس انتخاب کے نتائج صرف ایک صوبے میں حکومت کی تبدیلی تک محدود نہیں ہیں ان سے کینیڈا میں توانائی، ماحولیات، روزگار اور امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات پر جاری بحث کو نئی سمت مل سکتی ہے اب اصل سوال یہ ہوگا کہ ڈورکسن کی حکومت اپنے معاشی وعدوں کو پورا کرتے ہوئے صحت کی سہولتوں، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی برادریوں کے خدشات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے





