Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کے مشیر نے کینیڈا سے تجارتی معاہدے میں تاخیر کا ذمہ دار البرٹا کے علیحدگی ریفرنڈم کو قرار دے دیا

ٹرمپ کے مشیر نے کینیڈا سے تجارتی معاہدے میں تاخیر کا ذمہ دار البرٹا کے علیحدگی ریفرنڈم کو قرار دے دیا

امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدے پر مذاکرات ایک بار پھر اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتصادی مشیر کیون ہاسیٹ نے کہا ہے کہ کینیڈا میں انتخابات اور البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کے معاملے پر ریفرنڈم کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی مذاکرات آگے بڑھانا مشکل ہو گیا تھا تاہم ان کے مطابق اب دونوں ملک معاہدے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں
امریکی قومی اقتصادی کونسل کے سربراہ کیون ہاسیٹ نے 25 اکتوبر کو امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک گزشتہ ہفتے کینیڈین حکام سے رابطے میں رہے ہیں اور مذاکرات میں دوبارہ تیزی آ رہی ہے ان کے مطابق دونوں ملک تجارتی معاہدے کے بہت قریب ہیں، تاہم ابھی تک معاہدے کی حتمی شرائط یا دستخط کی تاریخ سامنے نہیں آئی
البرٹا میں علیحدگی کا ریفرنڈم 19 اکتوبر کو ہوا تھا، جس میں ووٹروں کی بڑی اکثریت نے کینیڈا سے الگ ہونے کے عمل کو آگے بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی ابتدائی نتائج کے مطابق تقریباً 75 فیصد ووٹروں نے کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت کی، جبکہ تقریباً 25 فیصد نے علیحدگی کے عمل کی حمایت کی یہ براہ راست آزادی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد مستقبل میں علیحدگی کے باقاعدہ ریفرنڈم کی راہ ہموار کرنا تھا
البرٹا کینیڈا کی توانائی کی صنعت کا اہم مرکز ہے اور تیل و گیس کی پیداوار ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے صوبے میں وفاقی حکومت کی توانائی پالیسیوں، وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی اور صوبائی اختیارات کے معاملے پر طویل عرصے سے اختلافات پائے جاتے ہیں علیحدگی کی تحریک نے انہی شکایات کے باعث زور پکڑا، لیکن حالیہ ووٹنگ میں کینیڈا کے ساتھ رہنے والوں کو واضح برتری حاصل ہوئی
دوسری جانب کینیڈا اور امریکا کے تجارتی تعلقات پر ٹیرف کے تنازع نے دباؤ بڑھا رکھا ہے صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر بھاری درآمدی محصولات عائد کرنے کے بعد دونوں ممالک کے کاروبار، صنعتیں اور برآمد کنندگان غیر یقینی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں کینیڈا نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کیے ہیں، جبکہ وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکا پر انحصار کم کرنے اور دوسری عالمی منڈیوں میں برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے
ہاسیٹ کا بیان اس لیے اہم ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اب معاہدے کے قریب ہونے کا اشارہ دیا جا رہا ہے، لیکن ان کا البرٹا کے ریفرنڈم کو مذاکرات میں تاخیر کی وجہ قرار دینا امریکی حکومت کا مؤقف ہے اس دعوے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ریفرنڈم ہی تاخیر کی بنیادی وجہ تھا دونوں ممالک کے درمیان اصل اختلافات ٹیرف، تجارتی شرائط اور اپنی اپنی صنعتوں کے تحفظ سے بھی متعلق ہیں
کینیڈا کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ ایسا معاہدہ حاصل کرے جو اس کی صنعتوں اور ملازمتوں کو تحفظ دے، امریکی منڈی تک رسائی میں استحکام پیدا کرے اور ملکی خودمختاری پر سمجھوتے کے بغیر تجارتی تعلقات بہتر بنائے اگرچہ تازہ بیانات مذاکرات میں پیش رفت کی امید دلاتے ہیں، تاہم حتمی معاہدہ ہونے تک کینیڈین کاروباروں اور صارفین کے لیے غیر یقینی صورت حال برقرار رہ سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید