گورنر کا انتخاب جس پر 2028 میں ڈیموکریٹس کو نظر رکھنی چاہیے
نیواڈا کے اٹارنی جنرل آرون فورڈ گورنر کے عہدے کے لیے اپنی انتخابی مہم میں ذاتی زندگی کی جدوجہد اور مزدوروں کے حقوق کے لیے اپنے کردار کو نمایاں کر رہے ہیں،تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا عام ووٹر ان کے دعووں پر اعتماد کریں گے؟
ہینڈرسن، نیواڈا۔ لاس ویگاس کے مضافات میں ایک ابر آلود صبح ٹیمسٹرز یونین کی مقامی شاخ 631 کے کارکن ہڑتال کے 266ویں روز بھی احتجاجی دھرنے پر موجود تھے،یہی وہ مزدور ہیں جنہوں نے لاس ویگاس کی بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے
کارکنوں نے ’’معاہدہ نہیں، ہڑتال جاری رہے گی‘‘ کے نعرے درج پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور اپنے آجر کے دفتر کے باہر مسلسل نعرے لگاتے ہوئے چکر لگا رہے تھے،ان کے سامنے ربڑ سے بنا تقریباً 20 فٹ بلند ایک دیوہیکل چوہے کا مجسمہ بھی نصب تھا، جسے مزدوروں کی احتجاجی تحریکوں میں سرمایہ دارانہ اداروں کے خلاف علامتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے،ان کا آجر تعمیراتی سامان تیار کرنے والی امریکہ کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے
اسی دوران ایک مہمان احتجاجی دھرنے میں شامل ہونے کے لیے وہاں پہنچا۔ یہ نیواڈا کے اٹارنی جنرل آرون فورڈ تھے
ڈلاس میں پیدا ہونے والے 54 سالہ فورڈ اب نیواڈا کے اگلے گورنر بننے کے خواہش مند ہیں،وہ اس موقع پر یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وہ تقریباً 60 ویلڈروں، مشین آپریٹروں اور ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ ان کے مطابق ریپبلکن گورنر جو لومبارڈو مزدوروں کی حمایت نہیں کر رہے،
یہ انتخابی مہم کے ایک طویل اور مصروف دن کا پہلا پڑاؤ تھا،انتخابات میں تقریباً ایک ماہ باقی تھا۔ فورڈ گہرے نیلے رنگ کے نفیس سوٹ اور چاندی مائل ٹائی میں ملبوس تھے اور مزدوروں کے سامنے اپنی حمایت کا اظہار کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دے رہے تھے






